بنیادی صفحہ / قومی / آج بھی خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں,بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام

آج بھی خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں,بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام

جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے تشدد کے اسباب پر غور فکر کرتے ہوئے اس کا ہدف” روایتی رویے” ہوتے ہیں جو عورت کو مرد کا ماتحت سمجھتے ہیں
بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام،شوہر کو بطورِ ثبوت برہنہ ویڈیو بھیجنی پڑی
خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد نے انھیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کے جرم میں آٹھ سال تک زنجیروں میں باندھے رکھانومولود بیٹی کو آنکھوں کے سامنے مار دیا۔
رپورٹ: چودھری احسن پریمی: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
کوئی بھی برتری کا اصول جس کی بنیاد نسلی امتیاز پر ہو سائنسی طور پر جھوٹا،اخلاقی طور پر قابل مذمت،سماجی طور پر غیر منصفا نہ اور خطرناک ہوگا اور یہ کہ نسلی امتیاز کیلئے کہیں بھی کوئی نظری یا عملی جواز نہیں پایا جاتاکو ئی بھی امتیاز،خراج،حد بندی یا ترجیح جس کی بنیاد نسل، رنگ،نسب یا قومی نسلی وابستگی پر ہو اور جس کا مقصد انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے مساوی بنیاد پر اعتراف،خوشی و مسرت یا نفاذ کو سیاسی،معاشی،سماجی،ثقافتی یا عوامی زندگی کے کسی دوسرے میدان میں ختم کرنا یا کمزور کرنا۔ایک طویل عرصہ سے خواتین کو عدم تحفظ کا شکار گروہ سمجھا جاتا رہا ہے اس ضمن میں حکومت کو صرف اقدامات نہیں بلکہ مثبت کاروائی بھی کرنی چاہیے تاکہ ان حقوق سے مثبت طور پر لطف اندوز ہو نے کو یقینی بنایا جاسکے یہ صرف قوانین تشکیل دینے سے ممکن نہیں بلکہ قومی اداروں کی تشکیل اور زیادہ عالمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ان عملی مسائل کو حل کیا جاسکے جو مردوں اور عورتوں کیلئے مساوی حقوق کو یقینی بنانے سے وابستہ ہیں۔اگرچہ موجودہ حکومت خواتین کی فلاح و بہبود کے اقدامات کر رہی ہے۔ پہلے ماحول اور حالات ایسے نہیں تھے کہ زیادہ خواتین روزگار کی جانب توجہ دیتیں لیکن اب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ملکی ترقی میں اپنا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اور بھر پور طریقے سے اداکر رہی ہیں۔بنک، سرکاری دفاتر،کاروباری، تعلیمی اداروں،فورسز اور پولیس میں خواتین کی بڑھتی ہو ئی دلچسپی خوش آئند اقدام ہے۔تاہم ملکی سطح پر آج بھی خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔اگرچہ خواتین کے خلاف آئے روز کئی واقعات رونما ہوتے ہیں۔اس حوالے سے گزشتہ دنوں ڈیرہ غازی خان میں اپنے والد پر ریپ کا الزام عائد کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے شوہر کو اس واقعے کا یقین دلانے کے لیے اپنی برہنہ ویڈیو بنانا پڑی تھی جس کے بعد پولیس نے انھیں بازیاب کروایا۔مدعی خاتون نے ڈیرہ غازی خان کے ویمن پولیس تھانے میں 19 جون کو اپنے والد کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے جس میں ان پر ریپ، جنسی عمل کی ویڈیو بنانے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے پر حبس بے جا میں رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تاہم ان کے والد نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں کھانے میں نشہ آور چیز دے کر نیم بیہوشی میں ان کی ویڈیو بنائی گئی۔ ڈیرہ غازی خان کے گدائی تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر شکیل بخاری کے مطابق پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ہے اور عدالت نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جبکہ مدعی خاتون کو دارالامان بھیج دیا ہے۔پولیس کے مطابق خاتون کے بیان کی روشنی میں ہی اب عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ انھیں ان کے شوہر یا والدین میں سے کس کے حوالے کیا جائے۔پولیس حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ خاتون کی جانب سے ریپ کے دعوے کے بعد جنسی زیادتی کی تصدیق کے لیے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں اور اس کی رپورٹ آنے میں ڈیڑھ سے دو ماہ لگ سکتے ہیں۔انسپکٹر شکیل بخاری کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ اس سے یہ عمل غلطی سے ہوا تاہم مقامی صحافی شیرافگن کے مطابق ملزم کے بیٹوں اور مدعی خاتون کے بھائیوں کا کہنا ہے کہ ان کی بہن اپنے شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنے والد پر یہ الزام لگایا۔خاتون کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 میں انھوں نے اپنی مرضی سے سے شادی کی تھی جس پر ان کے والد نے ان کے شوہر پر اغوا کا مقدمہ درج کروایا جو عدم ثبوت کی بنیاد پر عدالت نے خارج کر دیا۔خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ پسند کی شادی کے بعد نہ صرف ان پر بلکہ ان کے بھائیوں پر بھی جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے اور انھیں بہت پریشان کیا گیا۔انھوں نے دعوی کیا کہ اسی دوران انھیں اغوا کر کے تین ماہ بلوچستان میں رکھا گیا اور ان کے والدین کو کہا گیا کہ پیسے دو یا پھر لڑکی واپس کرو نہیں تو تمہارے لڑکے کو مار دیں گے۔مدعی خاتون کے مطابق ان کے والد نے یہ شرط رکھی کہ اگر وہ گھر واپس چلی جائیں تو ان کے شوہر کو بازیاب کرائیں گے۔میں نے کہا ٹھیک ہے ایسا کر لیتے ہیں، اس کے بعد میرے شوہر کو رہا کیا گیا۔خاتون کے مطابق سنہ 2013 میں معززین کے ذریعے انھیں والدین کے ساتھ اس شرط پر بھیجا گیا تھا تاکہ باقاعدہ رخصتی کا اہتمام کیا جا سکے۔خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ انھوں نے معززین کی بات مان لی تھی اور اپنی بیوی کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد نے انھیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کے جرم میں آٹھ سال تک زنجیروں میں باندھے رکھانومولود بیٹی کو آنکھوں کے سامنے مار دیا۔خاتون کا دعوی ہے کہ وہ اس وقت حاملہ تھیں مگر معززین کے کہنے پر والدین کے گھر چلی گئیں، جہاں پانچ روز بعد ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی اور ان کے والد نے ان کی نومولود بیٹی کو پندرہ دن بعد تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔خاتون نے اپنے والد پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے میری آنکھوں کے سامنے میری نومولود بیٹی کو زمین پر پٹخا اور لاتیں مار مار کر ہلاک کر دیا۔ تاہم خیال رہے کہ خاتون کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں بچی کی ہلاکت کا ذکر شامل نہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ جو مقدمے میں بتایا گیا ہے تحقیقات اسی حد تک کی جا رہی ہیں اور خاتون کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ بچی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گئی تھی۔مدعی خاتون کا دعوی ہے کہ ان کے والد انھیں بیٹھک میں صفائی کے بہانے بلا کر ریپ کرتے تھے اور اس دوران بنائی گئی ویڈیوز سے انھیں بلیک میل کرتے رہے۔خاتون کے مطابق ان کے والد نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے کسی کو بتایا تو وہ انھیں جان سے مار دیں گے۔خاتون کے مطابق وہ مجھے گھر میں اور رات کو چارپائی سے باندھ دیتے تھے، پیر میں بندھی ہوئی زنجیر کے ساتھ ویڈیو بھی والد نے ہی بنائی تھی۔خاتون کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے اس عمل کی شکایت انھوں نے متعدد بار گھر والوں اور رشتے داروں سے بھی کی لیکن کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔والد کی زیادتی کی شکایت اپنی والدہ، چچا اور والد کے ماموں کو بھی کی، جن کا کہنا تھا کہ زیادتی کر رہا ہے تو ٹھیک ہے لیکن شوہر کے گھر نہیں جا سکو گی۔ میری والدہ نے کہا کہ تم بار بار شکایت کرتی ہو۔ تمہاری ماں کو طلاق ہو جائے گی، تم چپ رہو، میں چپ رہی۔خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ساری صورتحال سے اپنے شوہر کو آگاہ کیا تو اس نے ان کی بات پر یقین ہی نہیں کیا۔مدعی خاتون کے شوہر فدا حسین کے مطابق ایک روز میری بیوی نے کہا میں تمہیں دل کی بات بتاتی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ظلم ہوا۔ اس دوران وہ فون پر روتی رہی۔ میں پورا قصہ سننے کے بعد ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ کوئی باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ کرے گا۔خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے شوہر کو ثبوت دینے کے لیے مذکورہ ویڈیو بنائی جس کے بعد اس نے معززین سے شکایت کی اور ان سے بھی ویڈیو شیئر کی، جس کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی۔انسپکٹر شکیل بخاری کا کہنا ہے کہ انھیں اطلاع ملی تھی کہ والد نے بیٹی کو حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق لیڈیز پولیس نے چھاپہ مار کر خاتون کو بازیاب کرا کے تھانے منتقل کیا اور ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی۔پولیس کے مطابق والد کے موبائل سے وہ ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی بیٹی کو بلیک میل کرتا تھا۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی نے گھر سے بھاگ کر شادی کی جو دو سال برقرار رہی اور پھر طلاق ہو گئی، جس کے بعد وہ ان کے پاس گھر آ گئیں۔ان کے مطابق ان کی بیٹی اپنے سابق شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی تھی جس پر وہ انھیں منع کرتے تھے۔پولیس کو تحریری طور پر دیے گئے اپنے بیان میں ملزم نے مزید کہا کہ بڑی بیٹی ہونے کے ناطے گھر کا کھانا ان کی یہ بیٹی ہی بناتی تھی۔ان کے مطابق کچھ دنوں سے کھانا کھانے کے بعد ان کی طبعیت کچھ عجیب سی ہو جاتی تھی اور چار، پانچ گھنٹوں کے بعد دماغ ماف ہو جاتا۔ان کے مطابق 17 جون 2020 کی دوپہر کو وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے کہ ان کی بیٹی نے پیر مار کر انھیں جگایا اور نیم بیہوشی کی حالت میں ان کے ساتھ گناہ کا کھیل کھیلا۔ملزم کے بقول ان کی بیٹی نے منصوبہ بندی کے ساتھ ان کے موبائل سے ہی اس عمل کی ویڈیو بنائی۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا میں جب شام کو مکمل ہوش میں آیا تو میری بیٹی نے کہا کہ مجھے میرے شوہر کے پاس جانے دیں ورنہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دوں گی، میرے انکار پر تھوڑی دیر کے بعد پولیس آئی اور انھوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔طلاق کے دعوے کے بارے میں خاتون کا موقف ہے کہ مجھے شوہر نے طلاق نہیں دی تھی۔ والد نے مجھے اسی وجہ سے بٹھایا ہوا تھا کہ میری کہیں اور بھی شادی نہ ہونے دیں۔ جتنی جلدی ممکن ہوحکومت کو چاہیے کہ وہ نسلی بنیاد پر قائم تنظیموں کے خلاف مجرمانہ کاروائیوں کی بنیاد پر مقدمہ چلائیں انہیں چاہیے کہ وہ ایسی تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیں اور جو لوگ ان میں حصہ لیں ان کے خلاف مقدمات قائم کریں اعلان ویانا بھی انسانی حقوق کے بین الا قوامی قانون اور بنیادی آزادیوں کا بلا امتیاز احترام انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا بنیادی ضابطہ ہے اس کی دفعہ3 میں شریک ممالک عہد کرتے ہیں کہ وہ اس میثاق میں موجود تمام شہری اور سیاسی حقوق پر مردوں اور عورتوں کو برابر کا حق دینے کی ضمانت دیں گے حکومت کو چاہیے کہ وہ اسی خواتین کو ریلیف مہیا کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جو سزا ملے بغیر طویل عرصے سے جیلوں میں پڑی ہوئی ہیں اور ان کی رہائی کے بارے میں بھی غور کیا جائے۔قانون میں خواتین مردوں جیسی ہیں مزید یہ کہ امتیاز کی تعریف حکومت یا اس کے ایما پر ہونے والے اقدامات پر نہیں ہے سیڈا معاہدہ کی رکن ریاستیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ کسی بھی شخص،تنظیم یا ادارہ( دفعہ2 ای ) کی طرف سے کسی عورت کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کیلئے اقدام کرے اس لئے وہ ریاستیں جو پرائیویٹ افراد کے کاموںکو روکنے،یا تفتیش کرنے اور سزا دینے کیلئے ضروری اقدام کرتے میں ناکام ہوجاتی ہیں وہ اس دفعہ کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہیں۔جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے تشدد کے اسباب پر غور فکر کرتے ہوئے اس کا ہدف” روایتی رویے” ہوتے ہیں جو عورت کو مرد کا ماتحت سمجھتے ہیں یا اسے ایک ایسی مخلوق تصورکرتے ہیں جو صرف یکساں قسم کے کردار ادا کرسکتی ہے ان رویوں سے خاندانی تشدد،جبری شادی،جہیز پر تنازعات اور اموات تیزاب پھیکنے کے واقعات،عورتوں کے ختنوں کی رسم کو جنم دیتا ہے عام طور پر فحش نگاری کی تشہیرہوتی ہے اور عورتوں کو فردکی حثیت سے نہیں بلکہ جنسی اشیاکے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔جنس کی بنیادپرکئے جانے والے تشدد سے نمٹنے کیلئے حکومت کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ درج ذیل امور کو یقینی بنائے کہ(1) قوانین تمام خواتین کو تحفظ دیتے ہیں(2)جہاں پر ضروری ہو جرائم پر جرمانے کئے جائیں(3) اگر کسی خاندان کی کوئی عورت قتل کردی جائے یا اس پر حملہ کیا جائے تو غیرت کو بطور صفائی قبول نہ کیا جائے(4) خاندانی تشدد بننے والی خواتین کو محفوظ پناہ گا ہیں اور ضروریات سہو لیات مہیا کی جائیں(5)ذرائع ابلاغ عورتوں کا احترام کریں اور اس احترام کی حوصلہ افزائی کریں(6) ایسے تعلیمی اور عوامی معلوماتی پروگراموں کو معتارف کرایا جائے جن سے ان تعصبات کو ختم کرنے میں مدد ملے جو عورتوں کے برابری کے حق میں رکاوٹ بنتے ہیں(7)عورتوں کی تجارت کرنے اور جنسی استحصال پر قابو پانے کیلئے انسدادی اور تا دیبی اقدام کئے جائیں۔خواتین کے حقوق اور بعض رسوم و رواج،ثقافتی تعصبات اور مذہبی انتہا پسندی کے نقصان دہ اثرات کے درمیان کسی بھی کشمکش کا خاتمہ ناگزیر ہے تاکہ خواتین تمام انسانی حقوق سے پوری طرح اور مساوی طور پر لطف اٹھائیں اور یہ کہ حکومت بھی اس کام کو ترجیح دے نیز خواتین کی مساوی حثیت اور مساوی انسانی حقوق کو اقوام متحدہ کے نظام کے مطابق کی جانے والی سرگرمیوں کا ایک حصہ بنا کر اسے اس کے بنیادی پروگرام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ان معاملات کے ساتھ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں میں باقاعدہ اور با ضابطہ طور پر نمٹا جانا چاہیے خصوصا ایسے اقدامات کرنے چاہیے جن سے خواتین کے خلاف مخففی اور ظاہری دونوں قسم کے امتیاز ختم کئے جائیں۔مزید یہ کہ خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ معاہدے کے تحفظات پر نظرثانی جاری رکھے نیز ریاستوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ان تحفظات کو واپس لے لیں جو معاہدے کے مقصد کے منافی ہیں یا جو بین الاقوامی قانون معاہدہ سے ہم آہنگ نہیں۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

علی زیدی کا سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔ ...