بنیادی صفحہ / قومی / آئی پی پیز مافیا نے ملک کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔صدر عارف علوی

آئی پی پیز مافیا نے ملک کے ساتھ گینگ ریپ کیا۔صدر عارف علوی

 

حکومت نے آئی پی پیز کو 9 کھرب 56 ارب روپے اضافی ادا کیے
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ اگر آئی پی پی پیز کے حوالے سے رپورٹ درست ہے تو مافیا نے ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا ہے۔ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر مملکت عارف نے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کورونا وائرس کے حوالے سے علما اور حکومت کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان 20نکات کی خلاف ورزی گناہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور علما میں جن 20نکات پر اتفاق کیا گیا ہے ان کی خلاف ورزی گناہ ہے کیونکہ اجماع پر کوئی فیصلہ ہو جائے تو اس کی خلاف ورزی گناہ ہے۔واضح رہے کہ رمضان المبارک میں اجتماعی نمازوں اور تراویح وغیرہ کے حوالے سے حکومت اور علماء کے درمیان 20نکات پر اتفاق کیا گیا تھا۔صدر مملکت نے بتایا کہ علما کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جو پہلی ملاقات کی گئی تھی اس میں فرض نماز کے حوالے سے معاملات طے پا گئے تھے کہ تین سے پانچ مسجد میں نماز ادا کریں گے۔صدر مملکت نے کہا کہ تراویح سنت مکدہ ہے اور اسی معاہدے پر عمل کرتے ہوئے میں گھر پر ہی تراویح پڑھوں گا اور ہم نے لوگوں سے بھی گھروں پر نماز کی ادائیگی کی درخواست کی کیونکہ یہ بیماری اتنی بڑی ہے کہ لوگ بہتر ہے کہ احتیاط کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ کو اطلاع ملی کہ کسی مسجد میں ان 20نکات کی پابندی نہیں ہو رہی تو ہم انہیں ایک دن کی وارننگ دیں گے اور اگر دوسرے دن بھی ایسا ہوا تو وہاں تراویح پر پابندی لگا دیں گے اور وہی تین سے پانچ افراد فرض نماز ادا کریں گے۔صدر مملکت کی جانب سے لیے گئے فیصلوں کی آئینی حیثیت کے حوالے سے سوال پر عارف علوی نے کہا کہ ہمارا کام فیڈریشنز کو جوڑنا ہے، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اس وقت امریکا سمیت دنیا بھر میں اختلاف رائے ہے لہذا یہ میری آئینی ذمے داری ہے کہ اگر کہیں فیڈریشنز میں نااتفاقی ہو تو میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس میں اتفاق پیدا کروں۔ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ آئی پی پیز کی مکمل رپورٹ 300صفحات پر مشتمل ہے لیکن میں نے پہلے معاملے کی ایگزیکٹو سمری پڑھی اور رپورٹ پڑھ کر مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو مافیا نے ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا گیا ہے۔تاہم عارف علوی نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ ابھی یکطرفہ ہے اور اس پر اسٹیک ہولڈرز کی رائے آنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے آئی پی پیز، کشمیر کے معاملے اور دیگر عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے حوالے سے رپورٹ پر میری اور ان کی رائے ایک تھی کہ اس کا فارنسک آڈٹ ہونا چاہیے جس کے بعد معاملات کا مزید پتہ چل جائے گا اور وزیر اعظم کو ساتھ ساتھ یہ تجویز بھی دی کہ فارنسک آڈٹ عالمی ساکھ کی حامل کمپنیوں کے ساتھ مل کر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر انٹرنیشنل معاہدے ہوئے ہیں تو انہیں ہم ختم نہیں کرسکتے جیسا کہ ریکوڈک میں ہوا لہذا اس معاملے پر قانونی رائے بھی لینا ہو گی اور اگر ہمارے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دھاندلی کی گئی ہے تو یہ جرم ہے اور اس کی ریکوری ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ سال 2019 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین محمد علی کی سربراہی میں ایک 9 رکنی کمیٹی قائم کی گئی تھی تاکہ وہ خصوصی طور پر انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ مہنگی بجلی کے پیچھے کی وجوہات جان سکے۔وفاقی کابینہ نے توانائی پیدا کرنے والے نجی اداروں (آئی پی پیز) سے متعلق رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی منظوری دیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔صدر مملکت نے بتایا کہ پی ٹی وی کو تاکید کی ہے کہ کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں سے کسی ایک سینٹر کو منتخب کر کے وہاں سے مستقل تراویح نشر کی جائے تاکہ لوگ گھروں پر نماز پڑھ سکیں اور پورا قرآن سن سکیں۔اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کا آن لائن اجلاس بلانے کے مطالبے پر صدر مملکت نے کہا کہ آن لائن اجلاس بلانے کا امکان اب کم ہے کیونکہ آن لائن کا اتنا بڑا اجلاس بلانا مشکل ہے، اگر سماجی فاصلے کی پابندی کو برقرار رکھا جا سکے تو فزیکل اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اسمبلی کو ڈیجیٹائز کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت ہر رکن قومی اسمبلی کے سامنے کمپیوٹر ہو، جتنے بل پیش کیے جاتے ہیں وہ اس کے پاس موجود ہوں اور وہ جو کچھ بھی ووٹنگ کرنا چاہے، اسی کے ذریعے کرے لیکن ابھی تک وہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔کورونا وائرس کی واب کے دنوں آٹے چینی بحران سمیت دیگر مسائل سے نمٹنے کی حکومتی عملی کے سوال پر پر صدر مملکت نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان ہر طرف جنگ کرنے کے کے لیے تیار رہتے ہیں، اگر مسئلہ ہو گا تو وہ جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور میں اس جنگ میں ان کے ساتھ ہوں۔صدر مملکت نے کورونا وائرس کے بحران کے دوران بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن اور آزاد جموں و کشمیر میں معصوم شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے مسلسل لاک ڈان ہے اور بھارت میں بھی مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلا کا ذمے دار قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا میڈیا بھی اپنی حکومت کے منفی ہتھکنڈوں کو مکمل سپورٹ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس پاکستانی میڈیا کا کردار انتہائی مثبت ہے اور پاکستان کا میڈیا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی اہم ایشوز پر حمایت بھی کرتا ہے۔ دو روز قبل وفاقی کابینہ نے توانائی پیدا کرنے والے نجی اداروں (آئی پی پیز)سے متعلق رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی منظوری دیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کابینہ میں جو فیصلے کیے گئے اس میں ایک فیصلہ اس رپورٹ سے متعلق تھا جس کمیٹی کی سربراہی محمد علی کرتے تھے۔خیال رہے کہ سال 2019 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین محمد علی کی سربراہی میں ایک 9 رکنی کمیٹی قائم کی گئی تھی تاکہ وہ خصوصی طور پر انڈیپینڈینٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)کے ساتھ مہنگی بجلی کے پیچھے کی وجوہات جان سکے۔یہاں یہ بھی واضح رہے کہ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے بتایا تھا کہ جس وقت محمد علی رپورٹ کی سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں، اس وقت کابینہ کے دو اراکین ندیم بابر اور عبدالرزاق داد وہ کابینہ سے اٹھ کر چلے گئے اور انہوں نے خود کو اس عمل سے الگ کردیا۔میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر نے بتایا کہ یہ رپورٹ دفتر وزیراعظم سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین کی حیثیت سے میرے پاس آئی تھی، جس کے بعد ہم نے اس پر کچھ سفارشات مرتب کی اور پھر آج انہیں کابینہ کے سامنے رکھا جس کی منظوری دے دی گئی۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ اصول رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے حکومت کے دوران ہونے والے کام کی رپورٹس کو عوام کے سامنے رکھا ہے۔اسد عمر کے مطابق بجلی کے منصوبوں سے متعلق اس رپورٹ میں کوئی بھی ایک منصوبے کا ٹھیکہ نہ تو تحریک انصاف کے دور میں ہوا اور نہ ہی یہ کام کیے گئے جس کے بارے میں یہ رپورٹ لکھی گئی ہے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تمام منصوبے اور چیزیں گزشتہ دور حکومت میں ہوتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ رپورٹ میڈیا پر لیک ہوچکی تھی لیکن آج کابینہ نے باضابطہ طور پر اسے پبلک کرنے کی منظوری دے دی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے دوسری جس چیز پر فیصلہ کیا وہ یہ کہ اس رپورٹ کے اندر بہت سی ایسی چیزوں کی نشاندہی کی گئی جہاں قانون کی خلاف ورزی اور بیضابطگیاں کی گئی ہیں، جس میں بہت سے سرکاری ادارے بھی ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ذہن میں ہوگا کہ کیا اس رپورٹ کے اوپر جو فیصلے اور نشاندہی ہونی ہے کہیں اس پر تو پردہ نہیں ڈال دیا جائے گا؟، لہذا قانون کے تحت ایک کمیشن آف انکوائری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسد عمر کے مطابق اس کمیشن آف انکوائری کی ٹرم آف ریفرنس لکھی جارہی ہیں، کس کے پاس اس کی سربراہی ہوگی اس کا تعین وزیراعظم کریں گے تاہم یہ کوئی حکومتی شخص نہیں ہوگا بلکہ ایک آزاد اور ساکھ رکھنے والا شخص اس کمیشن آف انکوائری کی سربراہی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن آف انکوائری فرانزک آڈٹ کروائے گی اور اس کے علاوہ وہ جو بھی تحقیقات کروانا چاہتی ہیں اس کا اختیار ہوگا جبکہ اس سلسلے میں انہیں بجٹ بھی فراہم کیے جائیں گے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیشن آف انکوائری کو 90 دن کے اندر اس کام کو مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ تیسری چیز جس پر کابینہ میں فیصلہ کیا گیا وہ یہ کہ رپورٹ میں کچھ سفارشات اس حوالے سے ہیں کہ پالیسی کونسی اچھی تھی اور کونسی نہیں تھی، ان میں کیا ترامیم آنی چاہئیں، یہ کام پہلے سے چل رہا تھا اور ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے معدنیات شہزاد قاسم کررہے ہیں اور ان کی زندگی اسی پاور سیکٹر میں گزری ہے اور پالیسی سے متعلق سفارشات بھی انہیں کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 2 چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اگر کسی نے بھی قانون کی خلاف ورزی یا بے ضابطگیاں کیں اور پاکستان کے عوام کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑی اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ساتھ ہی انہوں نیکہا کمیشن آف انکوائری جو بھی سفارشات مرتب کرے گی حکومت اس پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔تاہم انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کے ساتھ ساتھ یہ نہیں کرنا کہ جن کاروباری لوگوں نے سرمایہ کاری کی اور اس سے بجلی کے نظام کو بڑھانے میں مدد ملی اور انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو انہیں ملزم کے کٹہرے میں لاکر کھڑا نہیں کرنا۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک شفاف طریقے سے قانون کے لوازمات پورے کرتے ہوئے رپورٹ مرتب کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جو قوم سے وعدہ تھا اس کی تکمیل آج پھر ہورہی ہے، حکومت اور اس کا نظام چلنا قوم کی امانت ہے، اگر اس نظام میں کوئی اخراجات آتے تو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے آتے اور یہ اختیار عوام کی امانت ہے۔ حکومت نے 10 سال کے عرصے میں توانائی پیدا کرنے والے نجی اداروں (آئی پی پیز)کو 9 کھرب 56 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کی جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے لیے جانے والے 6 ارب ڈالر قرض سے بھی زیادہ ہے۔سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے کنوینر سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے ایک بیان میں کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کی ماہرین کی مدد سے کیے گئے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ آئی پی پیز کو 4 سو ارب روپے کی آمدنی ہونی تھی لیکن بجائے اس کے انہوں نے 14 سو ارب روپے کا منافع کمایا۔تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور آئی پی پیز نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اندازے غلط فہمی کی بنیاد پر لگائے گئے۔تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان خٹک کا کہنا تھا کہ 5 سال کے عرصے کے دوران 8 آئی پی پیز کا جائزہ لیا گیا۔حیرت انگیز طور پر یہ آئی پی پیز، ریگولیٹر کی جانب سے منظور کردہ 15 فیصد منافع سے کہیں زیادہ یعنی 2 ارب 30 کروڑ روپے سالانہ کما رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق وہ 77 کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ منافع کما سکتے ہیں لیکن وہ اوسطا 3 ارب 10 کروڑ 60 لاکھ روپے سالانہ کما رہے تھے یعنی 2 ارب 38 کروڑ 90 لاکھ روپے کا ناجائز منافع۔اس بارے میں سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ 40 تھرمل پاور اسٹیشنز کے لیے حکومت نے آئی پی پیز کو 9 کھرب 55 ارب 70 کروڑ روپے اضافی اداکیے۔سینیٹر نعمان خٹک نے مطالبہ کیا کہ یہ اضافی ادائیگیاں آئی پی پیز سے وصول کی جائیں اور اگر حصہ داروں کو اس کی ادائیگی کی جاچکی ہیں تو شیئر ہولڈرز سے برآمد کیے جائیں۔دوسری جانب نیپرا ٹیم نے دعوی کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سینیٹر کو غلط معلومات دی گئیں اور وہ داخلی شرح سود اور سرمائے پر منافع کو ایک دوسرے میں شامل کر رہے ہیں۔جس پر سینیٹر نعمان خٹک نے کہا کہ لگتا ہے نیپرا آئی پی پیز کا دفاع کررہا ہے اسے اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے کیونکہ کمیٹی کے سامنے دیا گیا غلط جواب دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا۔اس بارے میں آئی پی پیز ایڈوائزری کونسل کی ترجمان ڈاکٹر فاطمہ خوشنود نے کہا کہ نیپرا نے ڈالر کی داخلی شرح سود پر 25 سال کے لیے آئی پی پیز 15 فیصد منافع کی منظوری دی تھی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

وزیر اعظم کا ملک گیر لاک ڈاون میں 2ہفتے توسیع کا اعلان

ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان ...