بنیادی صفحہ / قومی / آئی ایم ایف قرضے سے عوام پر شدید معاشی اثرات کا خدشہ

آئی ایم ایف قرضے سے عوام پر شدید معاشی اثرات کا خدشہ

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
حکومت نے طویل مشاورت کے بعد اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر غور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 2019 کی منظوری دی گئی۔واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت کالا دھن رکھنے والے افراد اسے سفید کرسکیں گے۔بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد معیشت کو ڈاکیومنٹیڈ کرنا ہے تاکہ معیشت تیز رفتاری سے چل سکے اور جو ڈیڈ اثاثے ہیں انہیں معیشت میں ڈال کر اسے فعال بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں بہت آسان ہو، اس کو حقیقت پسندانہ رکھا ہے اور اس میں قیمت اتنی زیادہ نہیں رکھے گئے ہیں، اس کے پیچھے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ کاروباری لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ صحیح طریقے سے حصہ ڈالیں۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا 30 جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ حصہ لے سکے گا، تاہم وہ لوگ جو حکومت میں عہدے رکھ چکے ہیں یا جو ان پر انحصار کرتے ہیں وہ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے اور ریئل اسٹیٹ کے علاوہ تمام اثاثوں کو 4 فیصد کی شرح دے کر اثاثے ظاہر کرنے والی اسکیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک یا بیرون ملک موجود نقد اثاثے ظاہر کرنے پر شرط یہ ہے کہ انہیں کسی بینک اکانٹ میں رکھا جائے جبکہ ریئل اسٹیٹ کے معاملے میں اس کی قیمت ایف بی آر کی مقرر کردہ قیمت سے ڈیڑھ فیصد زیادہ ہوگی تاکہ وہ مارکیٹ کی قیمت کے قریب آسکے۔اس موقع پر ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر کے مطابق کسی پراپرٹی کی قیمت 10 لاکھ روپے ہے تو اسے 15 لاکھ پر سفید کیا جائے گا اور اس پر ڈیڑھ فیصد ادا کرنا پڑے گا۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بیرون ملک لے جائے گئے پیسوں کو اگر سفید کرنا ہے تو اسے بھی کیا جاسکے گا اور انہیں 4 فیصد دینا ہوگا اور بقایا رقم کو پاکستان میں لاکر یہاں کے بینک اکانٹ میں رکھنا پڑے گا، تاہم وہ اگر پاکستان میں پیسے نہیں لانا چاہتے اور بیرون ملک ہی اسے سفید کروا کر رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں 4 فیصد کے ساتھ مزید 2 فیصد دینا پڑے گا۔ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو گزشتہ اسکیموں سے مختلف بتاتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بے نامی قانون پاس ہوا ہے، اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت اگر کوئی اثاثے ظاہر نہیں کرتا تو تمام اثاثے ضبط کیے جاسکتے ہیں اور لوگ جیل بھی جاسکتے ہیں، لہذا یہاں بے نامی اکانٹس اور جائیدادوں کو سفید کرنے کی مہلت دی جارہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے چل رہے تھے جو ایک اچھے طریقے سے مکمل ہوئے ہیں اور فی الحال اسٹاک لیول معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد ادارے کا فل بورڈ اس معاہدے کو منظور کرے گا، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں وہ سب پہلے اس کے پاس جاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ معاشی مشکلات کا شکار ممالک کو مدد فراہم کی جاسکے، ہم جو کرنے جارہے ہیں وہ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی آمدن سے زائد اخراجات کررہے ہیں تو اس میں کمی پاکستان کے فائدے میں ہے، اگر ہمارے ریاستی ادارے مسلسل خسارے میں ہیں تو ان خساروں کو کم کرنا ملک کے لیے فائدے مند ہے، درآمدات و برآمدات کے فرق کو کم کرنے، قرضوں کے نظام کو بہتر کریں یہ تمام چیزیں پاکستان کے فائدے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے کچھ لوگوں کو قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے، ہم نے 3 سے 4 بڑے فیصلے کیے ہیں، اگر بجلی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والوں پر کوئی فرق نہیں پڑنے دیں گے اور اس کے لیے 216 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں اور اس سے 75 فیصد صارفین مستفید ہوں گے۔گفتگو کے دوران مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح احساس پروگرام کے بجٹ کو دگنا کیا جارہا ہے اور اسے 100 ارب کے بجائے 180 ارب روپے کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس معاہدے سے گیس کی قیمتیں بڑھیں گی تو اس میں بھی 40 فیصد ایسے صارفین جو کم گیس استعمال کرتے ہیں انہیں منفی اثرات سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ملکی ترقیاتی پروگرام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سال یہ ساڑھے 500 یا 600 ارب روپے ہو جبکہ آئندہ برسوں میں اس کا بجٹ 7 سے 8 سو ارب روپے رکھی جارہی ہے، کوشش ہے کہ اس پروگرام کو آگے لیجایا جائے اور کمزور طبقے پر پڑنے والے منفی اثرات سے انہیں بچایا جائے۔دوارن گفتگو ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری آمدن کی کارکردگی توقعات سے کم رہی، تاہم اس کی بہتری کے لیے فیصلے کیے جارہے ہیں اور یہ بجٹ میں سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ شبر زیدی کو مکمل اختیارات دیا گیا ہے کہ اگر کوئی پیسے والے لوگ تعاون نہ کریں اور کالا دھن رکھیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لہذا یہ آخری موقع ہے کہ ان مراعات سے فائدہ اٹھایا جائے۔وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کے اعزازی چیئرمین شبر زیدی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایف بی آئی، اسٹیٹ بینک اور نادرا سمیت دیگر اداروں کے باہم تعاون اور معلومات کے تبادلے سے سرمایہ کار کا ڈیٹا جمع کر کے انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس کنندگان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی ہدایت کی تھی کہ کسی کا بینک اکانٹس منجمد نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کنندگان کی جگہ پر چھاپہ نہیں مارا جائے گا۔شبر زیدی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ٹیکس کنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں گے اور پھر کثیر وسائل کی موجودگی کی صورت میں ان کے ٹیکس ریٹ میں کمی لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس کنندگان کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پاکستان کے خلاف عالمی عدالت میں گزشتہ 5 برس کے دوران 39 مقدمات درج ہوئے اور وکلا کو قومی خزانے سے تقریبا 14 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس 18 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل تھا جس میں اٹارنی جنرل فار پاکستان نے اجلاس میں بتایا کہ عالمی عدالت میں مقدمات کی پیروی کے لیے وکلا کو ادائیگی کے لیے مزید ایک کروڑ ڈالر فیس ادا کرنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2016 میں عالمی عدالت میں 6 اور 2019 میں مقدمات کی تعداد 45 ہوگئی، جس کی مد میں قوم کے اربوں روپے خرچ ہوئے، گزشتہ حکومتوں نے ذاتی مفاد کے خاطر عالمی اداروں اور کمپنیوں سے معاہدے کیے لیکن پھر تنازعات کے بعد معاہدے سے مکر گئے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی معاہدوں میں شامل ہونے والی اہم وزارتوں کو میکنزم تشکیل دینے کی ہدایت کردی جو معاہدوں پر دستخط ہونے سے قبل قانونی تقاضوں کا بھرپور جائزہ لیں گے۔واضح رہے کہ 16 اپریل کو کابینہ کے اجلاس میں وفاقی کابینہ کے کچھ وزرا کی جانب سے مخالفت اور تحفظات کے اظہار کے ساتھ ساتھ مزید وضاحت طلب کیے جانے پر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری ملتوی کردی گئی تھی۔اس بارے میں اندرونی ذرائع نے بتایا تھا کہ کابینہ کے کچھ اراکین نے اس اسکیم کے تحت مجوزہ 15 فیصد شرح ٹیکس پر اعتراض کیا تو کچھ اراکین نے اس کی افادیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ذرائع نے وزیراعظم ہاس میں ہونے والے اس اجلاس کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے پوچھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس مجوزہ ٹیکس اسکیم اور گزشتہ حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی اسی قسم کی ٹیکس اسکیم میں کیا فرق ہے۔واضح رہے کہ عمران خان ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حامی اور مخالف رہے ہیں، انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادورا میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی کھل کر مخالفت کی تھی تاہم ان پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ 2000 میں جب پرویز مشرف نے ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تو عمران خان نے اس اسکیم کے تحت اپنا لندن کا فلیٹ ظاہر کردیا تھا جو کہ انہوں نے 1997 میں خریدا تھا لیکن ظاہر نہیں کیا تھا۔اسی طرح مارچ 2013 کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم منظور کی گئی تو وہ اس کے خلاف عدالت عظمی چلے جائیں گے۔جنوری 2016 کو نواز شریف دور میں پی ٹی آئی چئیرمین نے کہا تھا کہ حکمران اپنے مفادات کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کرتے ہیں، یہ اسکیم ٹیکس چوروں کو اپنا کالا دھن سفید کرنے کا موقع دینے کے لیے ہے۔اس کے بعد 6 اپریل 2018 کو عمران خان نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی بھی بھرپور مخالفت کی تھی۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد چھ ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر اس کے بورڈ کی جانب سے باضابطہ منظوری کے بعد عملدرآمد کیا جائے گا۔ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے خسارے کے شکار سرکاری اداروں کے مسائل حل کرنے کے لیے سٹرکچرل اصلاحات اور برآمدات اور محصولات میں اضافے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد اور سٹرکچرل اصلاحات اہم ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ، محصولات و اقتصادی امور حماد اظہر نے بتایا کہ ہمیں یہ قرضہ بنیادی طور پر ادائیگیوں کے توازن اور اس سے ملنے والی مدد کے لیے مل رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس رقم سے حکومت اپنے چند پرانے قرضوں کی ادائیگی کرے گی جن میں آئی ایم ایف کا بھی کچھ قرضہ شامل ہے۔گذشتہ دس برسوں میں ملکی برآمدات بہت کم رہی ہیں جبکہ گذشتہ پانچ برسوں میں منفی رحجان دکھائی دیاوزیر مملکت کے مطابق اس کے علاوہ اس رقم کو قرض پر سود کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ، درآمدات کی فنانسنگ، کرنٹ اکانٹ خسارے کی فنانسنگ اور بجٹ میں مدد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔قرض لے کر قرض اتارنے کے سوال پر وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنی معیشت میں سٹرکچرل اصلاحات نہیں کریں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پیچیدہ اور بنیادی مسائل کا حل جنھوں نے آپ کی معیشت کی آمدن کو روک کر رکھا ہے تب تک آپ اپنا قرضہ واپس کرنے کی قابل نہیں ہوں گے۔ان پیچیدہ مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک برآمدات سے آمدن اکٹھی کرتا ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں ہماری برآمدات بہت کم رہی ہیں جبکہ گذشتہ پانچ برسوں میں تو منفی رحجان دکھائی دیا ہے۔وزیر مملکت کے مطابق ملک میں ٹیکس بیس کا بہت کم ہونا، زرمبادلہ کے ذخائر کا ہمیشہ نازک سطح پر رہنا اور سرکاری اداروں کا مسلسل نقصان میں رہنا ملکی معیشت کی حالت کے ذمہ دار عوامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب کو ٹھیک کیے بنا حکومتی آمدن نہیں بڑھے گی اور پاکستان تب تک اپنے قرضے واپس نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مزید بہتری آئی گی اور حکومت کا مالیاتی خسارہ بھی نیچے آئے گا اور بیرونی خساروں کو بھی ایک توازن میں رکھا جائے گا۔معیشت کی ماہرین کی رائے میں ملکی اداروں میں اصلاحات کے حکومتی بیانات ہوا میں باتیں ہیںماہر معیشت کا بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس رقم سے حکومت ملک کے پرانے قرض اتارے گی۔انھوں نے کہا کہ کافی عرصے سے پاکستان جو قرض لیتا ہے وہ صرف پرانے قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور یہ بھی وہیں استعمال ہو گا۔انھوں نے ملکی اداروں میں اصلاحات کے حکومتی بیانات کے بارے میں کہا کہ یہ ہوا میں باتیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسے قرض لیے گئے اور ایسی ہی باتیں کی گئیں۔ انھوں نے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2008 سے 2013 تک وہ خود وفاقی وزیر برائے خزانہ تھے تب وہ یہ اصلاحات نہیں کر سکے تو اب وہ کیسے حالات ٹھیک کریں گے۔ یہ رقم ایک قرض ہے جو تین سال بعد ہمیں واپس کرنا ہے۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض میں بہت فرق ہوتا ہے عالمی بینک یا ایشیائی ترقیاتی بینک ہمیں تعلیم، صحت، توانائی کے شعبے میں خرچ کرنے یا ڈیم بنانے کے لیے قرض دیتے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کا قرض مالیاتی خسارے اور حکومتی ادائیگیوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید گراوٹ سے تجارتی خسارہ بگڑ جائے گا تو وہ پورا کرنے کے لیے سٹیٹ بینک یہ رقم استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملنے والا قرضہ کہیں بھی استعمال نہیں کیا جاتا یہ صرف ریزرو میں رکھا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام اس لیے ہوتا ہے کہ جو بھی ملک ان کے شکنجے میں پھنسے وہ ملک اپنے برآمدات کا نظام ٹھیک طریقے سے چلا سکے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے ادائیگیوں کے مسائل کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو ملنے والے قرض سے ملکی خسارے میں کچھ حد تک بہتری آئے گی کیونکہ آئی ایم ایف خسارے کو پالیسی کے ذریعے کم کرتا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جو پالیسی میں تبدیلیوں کی بات کی گئی ہے اس کے نتیجہ میں ملک میں ڈسکانٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اور اس کا بوجھ عام صارف اور ملکی معیشت پر پڑے گا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد چھ ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر اس کے بورڈ کی جانب سے باضابطہ منظوری کے بعد عملدرآمد کیا جائے گا۔ انٹرویو میں ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ پاکستان کو تین سال میں چھ ارب ڈالر ملیں گے اور عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے کم شرح سود پر دو سے تین ارب ڈالر کی اضافی رقم بھی ملنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے بھی اس معاہدے کے طے پانے کا اعلان ایک تحریری بیان میں کیا گیا ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مطابق معاہدے سے ملک میں قرضوں میں توازن کی صورتحال بہتر ہوگی جبکہ اس معاہدے سے دنیا کو مثبت پیغام جائے گا جس سے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے خسارے کے شکار سرکاری اداروں کے مسائل حل کرنے کے لیے سٹرکچرل اصلاحات اور برآمدات اور محصولات میں اضافے کا موقع ملے گا۔انھوں نے کہا کہ پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر کامیاب عملدرآمد اور سٹرکچرل اصلاحات اہم ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ نے کہا کہ کچھ شعبوں میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تاہم پاکستانی معیشت کو توازن میں لایا جائے تاہم اس سے عام لوگ متاثر نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 216 ارب روپے پاور سیکٹر میں سبسڈی کے لیے دیے جائیں گے اور جو صارفین 300 سے کم
یونٹس استعمال کر رہے ہیں ان پر بجلی کی اضافی قیمت کا اثر نہیں پڑے گا۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ اور احساس پروگرام کے لیے 180 ارب روپے کی رقم آئندہ بجٹ میں مختص کی جائے گی اور یہ پہلے کے مقابلے میں دوگنی ہے۔خیال رہے کہ سنہ 1947 میں وجود میں آنے کے صرف تین سال بعد پاکستان 11 جولائی 1950 میں آئی ایم ایف کا ممبر بنا تھا اور گذشتہ 69 برسوں میں قرضے کے حصول کے لیے 21 مرتبہ آئی ایم ایف جا چکا ہے۔سنہ 1988 سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے معاہدے قلیل مدتی بنیادوں پر ہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے۔تاہم سنہ 1988 کے بعد سٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگرامز شروع ہو گئے۔سٹرکچرل ایڈجسمنٹ پروگرامز یعنی ایس اے پی وہ ہوتے ہیں جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکار قرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت نیا قرض دیتا ہے۔ماہر معیشت کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرض کی زیادہ تر شرائط تو ابھی سامنے نہیں آئیں تاہم جو رپورٹس آ رہی ہیں یہ مصر ماڈل کا چربہ ہے۔آئی ایم ایف میں مصر کو ایک پوسٹر چائلڈ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصر میں تقریبا 30 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے تھے اور آج یہ شرح 55 فیصد ہے۔مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ مصر کی کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی یہی ہو گا، ڈسکانٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب پاکستانی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس قرض سے پاکستان میں کسی طرح کا معاشی استحکام نہیں آئے گا کیونکہ یہ شرح نمو کو مزید گرا دے گا۔آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے دو سے تین برس تک ہمیں اپنے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے ڈھائی فیصد رکھنا ہو گی۔ 1جس ملک میں 15 لاکھ نوجوان ہر برس روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں اس ملک میں شرح نمو کم از کم سات سے آٹھ فیصد ہونا ضروری ہے۔ جمعہ کے روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو احساس ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے تاہم انھوں نے عوام کو یقین دلایا کہ قرض اتارنے کے لیے ہمیں تھوڑا مشکل وقت گزارنا پڑے گا۔البتہ ماہرین کے مطابق اس ملاقات میں جس قرضے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، اس قرض سے مشروط آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ صرف پاکستان میں مزید غربت اور بے روزگاری کا باعث بنیں گی بلکہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عوام کو آن گھیرے گا۔ان شرائط میں ٹیکس کی شرح بڑھانے اور اس جیسے دوسری معاشی اصلاحات کے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔سنہ 1947 میں وجود میں آنے کے صرف تین سال بعد پاکستان 11 جولائی 1950 میں آئی ایم ایف کا ممبر بنا تھا اور گذشتہ 69 برسوں میں قرضے کے حصول کے لیے 21 مرتبہ آئی ایم ایف جا چکا ہے۔ سنہ 1988 سے پہلے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ہونے والے معاہدے قلیل مدتی بنیادوں پر ہوتے تھے جن میں عمومی طور پر قرض معاشی اصلاحات سے مشروط نہیں ہوتے تھے۔تاہم سنہ 1988 کے بعد سٹرکچلرل ایڈجسمنٹ پروگرامز` شروع ہو گئے۔سٹرکچلرل ایڈجسمنٹ پروگرامز یعنی ایس اے پی وہ ہوتے ہیں جن میں قرض دینے والا ادارہ شدید معاشی مشکلات کے شکار قرض حاصل کرنے والے ممالک کو مخصوص شرائط کے تحت نیا قرض دیتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ممبر ممالک جو قرض حاصل کرتے ہیں وہ ان ممالک کے ہی پیسے ہوتے ہیں۔ ہر ممبر ملک آئی ایم ایف کو اپنے حصے کے پیسے دیتا ہے اور اس حصے کے عوض آئی ایم ایف ہر ممبر ملک کا ایک کوٹہ بناتا ہے اور اس کوٹے کے اندر رہ کر آئی ایم ایف سے ضرورت کے تحت قرض حاصل کیا جاتا ہے۔اگر کوئی ممبر ملک اپنے مخصوص کوٹے سے زیادہ قرض حاصل کرنے کا خواہاں ہے تو یہ قرض مشروط ہوتا ہے اور قرض حاصل کرنے والے مملک کو چند معاشی اصلاحات پر مبنی شرائط پوری کرنی پڑتی ہیں۔` پاکستان کا اصل مسئلہ آئی ایم ایف کو حاصل ہونے والے قرض کی واپسی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو پورا نہ کرنا ہے۔پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ پاکستان قرضہ تو لے لیتا ہے مگر قرض کے حصول کے وقت وعدہ کی گئی شرائط، جیسا کہ معاشی اصلاحات، پورا نہیں کرتا۔` اس مرتبہ قرض کے حصول میں امریکہ ہمارا سفارشی نہیں ہے۔ شرائط پوری نہ کرنے پر آئی ایم ایف سے نئے قرض کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب پاکستان کو امریکی سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔پاکستان آدھی پونی شرائط پوری کرتا ہے، امریکہ سے سفارش کرواتا ہے اور آئی ایم ایف نیا قرضہ دے دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2019 کا پروگرام پرانے پروگراموں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کے پاس امریکہ کی کسی قسم کی سفارش موجود نہیں ہے۔پرویز مشرف کے دور میں سنہ 2002 میں لیے جانے والے پروگرام میں زبردست امریکی سفارش تھی کیونکہ پاکستان افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا نان نیٹو اتحادی بننے جا رہا تھا۔سنہ 2008 میں بھی ایسا ہی تھا جب اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات قائم کرنا چاہ رہی تھی جبکہ سنہ 2013 میں بھی آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے اوباما انتظامیہ کی سفارش موجود تھی۔لیکن اب ٹرمپ انتظامیہ آنے کے بعد صورتحال مختلف ہے اور واشنگٹن میں پاکستان کی کسی طرح کی سپورٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس مرتبہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر ہے اور پاکستان کو سخت شرائط پوری کرنا پڑیں گی۔ بشمول حالیہ پروگرام، گذشتہ تین پروگرامز سائز یا قرض حاصل کرنے کے حوالے سے بڑے تھے جن میں حاصل کیا گیا قرض ہر مرتبہ لگ بھگ 6.5 ارب امریکی ڈالر تھا۔آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کا مختص کوٹہ 2031 ملین ایس ڈی آر ہے۔ ایس ڈی آر کرنسی کی وہ قسم ہے جو آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی ادارے لین دین کے لیے استعمال کرتے ہیں اور 10 مئی کو ایک ایس ڈی آر کی قدر 1.38 امریکی ڈالر کے برابر تھی۔پاکستان اپنے مختص کوٹے کا 225 فیصد قرض حاصل کرنا چاہتا ہے جو کہ تقریبا 6.3 ارب امریکی ڈالر بنتا ہے۔ اور اگر کچھ غیر معمولی ہوا تو یہ قرض آٹھ ارب تک ہو سکتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض لیا ہو اور واپس نہ کیا ہو۔ آئی ایم ایف کوئی روایتی بینک نہیں ہے۔آئی ایم ایف کا ڈیفالٹر ہونا خودکشی کے مترادف ہو گا۔ قرض واپس نہ کرنا پورے بین الاقوامی معاشی سسٹم سے الگ تھلگ ہونا ہو گا۔ آئی ایم ایف سے قرض کا حصول کسی ملک کی معیشت کو چلانے کے لیے آخری حربہ ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی قرض واپس کرنے کی شرائط کوئی اتنی سخت نہیں ہوتیں۔ ‘پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں سنہ 2013 میں پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ جس پروگرام پر دستظ کیے تھے اس قرض کو واپس کرنے کا وقت 20 برس تھا اور شرح سود لگ بھگ صرف دو فیصد تھی۔سنہ 2008 میں شوکت ترین کے دور میں پاکستان نے قلیل مدتی پروگرام لیا تھا اور اس کی واپسی بہت جلدی ہوئی تھی۔ گذشتہ ادوار میں حاصل کیے گئے قرض سے پاکستان نے ابھی 5.8 ارب امریکی ڈالر واجب ادا ہیں جن کی اقساط مخصوص وقت پر واپس ہو جائیں گی۔ قرض کی زیادہ تر شرائط تو ابھی سامنے نہیں آئیں تاہم جو رپورٹس آ رہی ہیں یہ مصر ماڈل کا چربہ ہے۔آئی ایم ایف میں مصر کو ایک پوسٹر چائلڈ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے پہلے مصر میں تقریبا 30 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے تھے اور آج یہ شرح 55 فیصد ہے۔مصر میں اس طرح کے پروگرام کے ثمرات یہ ہیں کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ مصر کی کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی یہی ہو گا، ڈسکانٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب پاکستانی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا۔ اس قرض سے پاکستان میں کسی طرح کا معاشی استحکام نہیں آئے گا کیونکہ یہ شرح نمو کو مزید گرا دے گا۔آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے دو سے تین برس تک ہمیں اپنے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے ڈھائی فیصد رکھنا ہو گی۔ 1جس ملک میں
15 لاکھ نوجوان ہر برس روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں اس ملک میں شرح نمو کم از کم سات سے آٹھ فیصد ہونا ضروری ہے۔تاہم یہ بھی تاثر ہے کہ آئی ایم ایف نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر کے پاکستان کو ایک پروگرام دے دینا ہے جو کسی صورت ملک کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔ نئے قرض کے پاکستانی معیشت اور عوام پر قلیل مدتی اور طویل مدتی فوائد اور نقصانات ہوں گے۔اگر قلیل مدتی اثرات کی بات کی جائے تو یہ قرضہ پاکستان کے لیے کسی حد تک معاشی استحکام کا باعث بنے گا اور اس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا جبکہ معاشی پالیسیوں میں بہتری کا عنصر آئے گا۔ دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی وجہ سے بالواسطہ عوام متاثر ہوں گے اور مہنگائی بڑھے گی اور تمام درآمدی اشیا کی قیمت بڑھے گی۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جبکہ شرح نمو آئندہ برسوں میں کم رہے گی۔مزید ٹیکس لگانے پڑیں گے، محصولات کو بہتر کرنا پڑے گا، شرح سود کو بڑھانا پڑے گا اور روپے کی قدر کو مزید گرانا پڑے گا۔معاشی میدان میں موجودہ مشکلات اور مہنگائی میں صحیح معنوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط ہر عملدرآمد کے ساتھ شروع ہو گا۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطرہ ہے۔ شیریں مزاری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد: انسانی حقوق کی ...