بنیادی صفحہ / قومی / آئین کا تحفظ سپریم کورٹ کی ذمہ داری۔ چودھری احسن پریمی

آئین کا تحفظ سپریم کورٹ کی ذمہ داری۔ چودھری احسن پریمی

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس گلزار احمد نے پاکستان کے 27ویں منصف اعلی کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔
انصاف کے ذریعے حاصل کردہ حقوق سیاسی سودے بازی یا معاشرتی مفادات کے حساب کتاب سے مشروط نہیں ہیں۔انصاف معاشرتی اداروں کی پہلی خوبی ہے ، کیوں کہ سچائی کے طور پر یہ فکر کا نظام ہے۔ اگرچہ کوئی نظریہ باطل ہے تو اسے نظرانداز کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح قوانین اور ادارے چاہے وہ کتنے موثر اور اہتمام کے ساتھ اصلاح کریں اگر وہ ناانصافی پر مبنی ہیں تو اس کو ختم کردیں۔ ہر فرد کے پاس انصاف پر مبنی ایک چال چلن ہے اگر مجموعی طور پر معاشرے کی فلاح و بہبود پر غالب نہیں آسکتا تو اس وجہ سے انصاف اس سے انکار کرتا ہے۔ ہماری بحث نظریہ عدل انصاف کا حصہ ہے اور سیاسی نظام کے نظریہ کے لئے غلطی نہیں ہونی چاہئے۔ ہم ایک مثالی انتظام کی وضاحت کرنے کے راستے میں ہیں ، اس کے مقابلے میں جس کے ساتھ اصل اداروں کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک معیار کی وضاحت کی گئی ہے ، اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس سے روانگی کو جواز بنانے کے لئے کیا برقرار رکھنا چاہئے۔
گزشتہ دنوں پرویزمشرف کے خلاف تفصیلی عدالتی فیصلہ کسی عدالتی بمباری سے کم نہیں تھا۔عدالتی فیصلے کا لب و لہجہ بعض کے نزدیک خوفناک تھا اور اس نے قرون وسطی کی طرف تکلیف دہ روایت کا اشارہ کیا تھا۔ کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کی طرح اس قدر درندگی کا نشانہ بنے ہیں کہ ہم کسی مجرم کی لاش کو مرنے کے بعد عوامی چوک پرلٹکانا چاہتے ہیں۔ خصوصی عدالت کی جانب سے سنگین غداری کیس میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے متعلق متنازع فیصلے پر فوج اور عدلیہ کے درمیان اضطراب کی اطلاعات کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کے استحکام کو کبھی خراب نہیں ہونے دے گی۔ ریاستی اداروں کو مضبوط کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قوم، پاکستان کے روشن مستقبل کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کو شکست دے گی۔جبکہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم عوام کی افواج ہیں اور جذبہ ایمانی کے بعد عوام کی حمایت سے مضبوط ہیں، ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادارے کی عزت اور وقار کا دفاع بھی بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ 17 دسمبر کے مختصر فیصلے پر جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ آج تفصیلی فیصلے میں صحیح ثابت ہوئے ہیں، آج کا فیصلہ کسی بھی تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہے اور چند لوگ آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر منعقد ہونے والے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ان کے اور پوری عدلیہ کے خلاف گھنانی مہم شروع ہو چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی جانب سے اس کیس پر اثر انداز ہونے سے متعلق بات کی جو بے بنیاد اور تضحیک آمیز ہے۔واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران بھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر تضیحک آمیز مہم چلائی گئی ہے۔چیف جسٹس نے اپنی تقریر کے دوران فہمیدہ ریاض کا یہ شعر بھی پڑھا
کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
وہ تم کو خوف دلائیں گے
انھوں نے کہا کہ بطور جج انھوں نے ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی ہے اور تمام فیصلے بے خوف و خطر اور غیر جانبداری سے دیے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ اہم نہیں کہ ان کے دیے گئے فیصلوں پر دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ وہ کیا جسے انھوں نے درست سمجھا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہیے۔انھوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس انھوں نے 337 دن ذمہ داری نبھائی اور اگر ہفتہ وار اور دیگر تعطیلات نکال دی جائیں تو 235 دن کام کے لیے ملے اور اس عرصے کے دوران عدالتی شعبے میں اصلاحات کے لیے اہم اقدامات کیے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے منھ میں ایک دانت تھا اور اس وقت خاندان میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ بچہ بہت خوش قسمت ہو گا۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا غماز ہے۔ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے سے آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت کو گرانے کی جرات نہیں ہو گی۔ پاکستان بار کونسل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔امجد شاہ کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار اور ان کے ساتھی رکن جج کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ کے بارے میں ہرزہ سرائی پر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے اور ان کا یہ اقدام انصاف کی فراہمی میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے عندیہ دیا کہ اگر جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تو وکلا اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ازخود نوٹس اختیار کے تحت مقدمات سننے کی حوصلہ شکنی کی تاہم انھوں نے یہ مطالبہ بھی دھرایا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر ہونے والے فیصلے پر متاثرہ فریق کو نظرثانی کی اپیل کا حق بھی دیا جائے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ المیہ ہے کہ ملکی عدلیہ کو ایگزیکٹیو کی جانب سے اکثر دبا کا سامنا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ وکلا برادری سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ایک دیانت دار جج کو ایگزیکٹیو کی طرف فارغ کیا گیا تو دوسرے ججز کے لیے بھی راستہ کھل جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کئی اہم تاریخی مقدمات کا بروقت فیصلہ نہ ہونا ایک المیہ ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ محفوظ شدہ فیصلوں پر کسی تاخیر کے بغیر فیصلہ سنایا جانا چاہیے۔اٹارنی جنرل انور منصور کی عدم موجودگی میں ایڈشنل اٹارنی جنرل عامر الرحمان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف سعید کھوسہ نے بطور جج 55 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا۔انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے میں جسٹس کھوسہ کے وضع کردہ قانونی اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کا فیصلہ تعصب اور بدلے کا اظہار کرتا ہے اور جسٹس وقار کی جانب سے سزا پر عملدرآمد کا طریقہ غیر قانونی، غیر انسانی، وحشیانہ اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کریمینل جسٹس سسٹم کی روایات سے بھی متصادم ہے۔ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں جسٹس کھوسہ نے ریاست کی رٹ اور عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کے وقار اور بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کی ایک عمدہ مثال جسٹس کھوسہ کا آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ بھی ہے۔انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے میں اہم آبرویشنز دی گئیں۔فل کورٹ ریفرنس سے
نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی ،آئین کا تحفظ اور آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس گلزار احمد نے جب وکالت کی دنیا میں قدم رکھا تو جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی، جب وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج تعینات ہوئے تو جنرل پرویز مشرف اقتدار میں تھے اور اس وقت جب انھوں نے یہ منصب سنبھالا ہے تو موجودہ فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع اور پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ہوں گے۔جسٹس گلزار احمد کو سپریم کورٹ کے 27ویں چیف جسٹس ہوں گے اور ان کی بطور چیف جسٹس مدت یکم فروری 2022 تک ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ دو فروری سنہ 1957 میں ایڈووکیٹ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گلستان سکول سے حاصل کرنے کے بعد ایس ایم لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور سنہ 1986 میں ہائی کورٹ کے وکیل رجسٹر ہوئے اور دو برس بعد ہی ان کی سپریم کورٹ میں انرولمنٹ ہو گئی۔جسٹس گلزار احمد سولِ کارپوریٹ شعبے کے وکیل رہے ہیں اور وہ کئی بین الاقوامی کمپنیوں اور بینکوں کے قانونی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔جسٹس گلزار احمد جب سنہ 2002 میں ہائی کورٹ کے جج بنے تو دو سال قبل ہی جنرل پرویز مشرف کے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اکثر جج صاحبان حلف اٹھا چکے تھے۔جسٹس گلزار احمد سول کارپوریٹ شعبے کے وکیل رہے ہیں اور وہ کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بینکوں کے قانونی مشیر بھی رہے چکے ہیں۔صرف پانچ سال کے بعد یعنی سنہ 2007 میں انھیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب دوبارہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے کا حکم آیا تاہم وہ سندھ ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے ساتھ ان ججوں میں شامل رہے جنھوں نے یہ حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد جب سندھ ہائی کورٹ میں ججوں کی بحالی کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ان ججوں میں شامل تھے جو دوسرے مرحلے میں بحال ہوئے۔سنہ 2011 میں وہ سپریم کورٹ کے جج تعینات کیے گئے۔ اس وقت افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس تھے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا کا حکم اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت پر نظر ثانی کی درخواستیں سماعت کے لیے چیف جسٹس گلزار ہی کے پاس آنی ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت پر نظر ثانی کی درخواستیں جسٹس گلزار کے پاس ہی آنی ہیں۔ یہ چیف جسٹس شپ پاکستان کے سیاسی اور سول ملٹری تعلقات کی تاریخ میں ایک بڑا اہم موڑ ہو سکتی ہے۔سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یاسین آزاد کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع اور پرویز مشرف کو پھانسی کا معاملہ بہت سنجیدہ معاملات ہیں جن کو آگے لے کر چلنا ہے اور آنے والا وقت مشکل ہے۔ سپریم کورٹ نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق ہی فیصلے دیے ہیں اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر معاملات کو آگے لے کر جایا گیا ہے۔جسٹس گلزار احمد پانامہ لیکس میں میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے والے بینچ میں شامل رہے ہیں۔انھوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ عوامی عہدیدار کی حیثیت سے یہ میاں محمد نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ لندن فلیٹس کے بارے میں صحیح حقائق سے قوم اور اس عدالت کو آگاہ کرتے لیکن وہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہے اس لیے وہ آئین کی شق 62 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے۔اسی پانامہ کیس سمیت میاں نواز شریف کے خاندان کے خلاف مختلف مقدمات میں اپیلیں ان کے ہی سامنے آنی ہیں۔جسٹس گلزار احمد پانامہ لیکس میں میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے والے بینچ میں شامل رہے ہیں۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار کی طرح جسٹس گلزار احمد بھی میڈیا کی سرخیوں میں رہتے آئے ہیں اور اس کی وجہ ان کے کراچی اور اسلام آباد کے شہری معاملات پر ریمارکس ہیں۔کراچی میں ایمپریس مارکیٹ، گارڈن مارکیٹ سمیت غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن ان کے ہی حکم پر جاری کیا گیا تھا۔انھوں نے حکام کو مخاطب ہو کر کہا تھا جائیں شہر میں تمام وہ تجاوزات منہدم کریں جو چالیس برس قبل کے ماسٹر پلان کے خلاف ورزی میں تعمیر کی گئیں ہیں۔ڈیفنس ہاسنگ سوسائٹی پر ریمارکس دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کا بس چلے تو پورے سمندر پر شہر بنا لیں، ڈی ایچ اے والے سمندر میں تجاوزات بنا کر کے امریکا تک اپنا جھنڈا لگا دیں، یہ سوچ رہے ہیں کہ انڈیا میں کیسے گھسیں۔انھوں نے کراچی میں تمام عسکری زمینوں پر تجارتی سرگرمیاں ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا اور ساتھ یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ کیا نیوی، سول ایوی ایشن جیسے اداروں کا کام شادی ہال چلانا ہے؟ یہ شادی ہال اور سینما چلا رہے ہیں۔وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا حشر بگاڑ دیا گیا، یہ آدھا شہر اور آدھا دیہات بن گیا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے ریمارکس دیے تھے کہ ایک ہلتی ہوئی میٹرو چل رہی ہے، یہاں کوئی رکشہ نہیں، رکشے لے کر آئیں اور لوگوں کو اپنی ثقافت دکھائیں۔کراچی میں حالیہ بارشوں میں ہلاکتوں کے خلاف درخواست کی سماعت پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے تھے کے الیکڑک ابراج گروپ کے لیے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہے، یہ پانچ پیسے کے بدلے پانچ کروڑ کا منافع لیتے ہیں، کیا کبھی کسی نے اس ادارے کا آڈٹ کیا۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے بعد جسٹس ثاقب نثار نے آرٹیکل 183(3) کے تحت حاصل اختیارات کے تحت کئی اہم سیاسی اور آئینی معاملات کا از خود نوٹس لیا۔وکلا برداری اور سیاست دان کچھ نوٹسز پر خفا بھی نظر آئے لیکن رخصت ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان اختیارات کا استعمال نہیں کیا۔سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یاسین آزاد کا خیال ہے کہ جسٹس گلزار از خود نوٹس کا استعمال کریں گے کیونکہ اس سے قبل وہ کراچی تجاوزات اور زمینوں پر قبضوں کے مقدمات میں ایسا کر چکے ہیں۔سپریم کورٹ کے حال ہی میں رخصت ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقدمات کی سماعت میں اور فیصلوں میں تیزی لانے کے لیے ضلعی سطح پر ماڈل کورٹس متعارف کرائے تھے۔ بعض سینیئر وکلا اس کو آئین کے خلاف سمجھتے ہیں اور ان وکلا میں یاسین آزاد بھی شامل ہیں۔ان کے مطابق یہ عدالتیں آئینی تقاضے پورا نہیں کر رہی ہیں اور اب جسٹس گلزار اس نظام کو جاری رکھتے ہیں یا ختم کرتے ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔جسٹس گلزار احمد نے بار کی سیاست میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ سنہ 1999 میں سندھ ہائی کورٹ بار کراچی کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔گذشتہ ہفتے انھوں نے کراچی بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا بار اور بینچ کا ایک رشتہ ہے جو ہر وقت چلنا ہے اور اس کو نہ کوئی روکے گا اور نہ کوئی بگاڑ سکتا ہے۔ اگر اس میں بگاڑ آ گیا تو اس میں دونوں کا ہی نقصان ہے۔وہ عدلیہ میں خواتین ججز کی تعداد میں اضافے کے بھی خواہشمند ہیں۔ حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ سمیت تقریبا تین ہزار سے زائد جج ہیں اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان میں خواتین ججوں کی تعداد تقریبا 500 ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ہم بطور ادارہ تجویز دیتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو پاکستان کی عدلیہ میں خواتین کی شمولیت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔جبکہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کا شمار خیبر پختونخوا کے ان ججوں میں ہوتا ہے جنھوں نے انتہائی اہم معاملات میں فیصلے دیے ہیں اور پشاور کے وکلا ان فیصلوں کو بولڈ فیصلے سمجھتے ہیں۔یاد رہے ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ 70 سے زیادہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف تمام درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کے چند اہم فیصلوں کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس سے موت کی سزا اور عمر قید کی سزا پانے والے افراد کی ان درخواستوں پر فیصلہ دیا جسے لینڈ مارک سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے موجود تھے لیکن جسٹس وقار احمد سیٹھ نے انفرادی طور پر تمام افراد کے فیصلوں کو پڑھا اور پھر ان کے بارے میں فیصلے دیے تھے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا جس وجہ سے کسی کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی۔چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انھوں نے اپنی تعلیم پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہے۔انھوں نے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی اور لا کالج پشاور یونیورسٹی سے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے 1985 میں عملی وکالت کا آغاز کیا۔جسٹس وقار احمد سیٹھ 1990 میں ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ انھیں 2011 میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا اور اس کے بعد وہ بینکنگ کورٹس سمیت مختلف عدالتوں میں تعینات رہے۔وقار احمد سیٹھ نے 2018 میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف لیا۔ان کے والد سیٹھ عبدالواحد سینیئر سیشن جج ریٹائرڈ ہوئے جبکہ ان کے نانا خدا بخش پاکستان بننے سے پہلے 1929 میں بننے والی صوبے کی پہلی اعلی عدالت میں جج رہے تھے۔لطیف آفریدی کے مطابق جسٹس وقار احمد سیٹھ اپنی محنت سے اس مقام پر پہنچے ہیں اور ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایسے افراد کے مقدمات کی طرف زیادہ توجہ دی ہے جو مالی حیثیت نہیں رکھتے یا ایسے مقدمات کو ترجیح دیتے رہے جن مقدمات میں عام طور پر عدالتوں میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔یاد رہے جسٹس وقار احمد نے سابق چیف جسٹس دوست محمد خان کے پشاور ہائی کورٹ میں قائم انسانی حقوق سیل کو بحال کر دیا تھا۔ اس سیل میں کسی بھی درخواست پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور سائل کو کوئی اخراجات بھی برداشت نہیں کرنے پڑتے ہیں۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

وزیراعظم کا کورونا فورس بنانے کا اعلان

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد وزیراعظم عمران خان ...