بنیادی صفحہ / قومی / 44 وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے مالیت کی سرکاری رقم کی لوٹ مار

44 وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے مالیت کی سرکاری رقم کی لوٹ مار


یہی معاملات ایک سال قبل 35 وفاقی محکموں میں 31 کھرب 20 ارب کا غبن تھا
مالی سال 16-2015 کی آڈٹ رپورٹس کے مطابق پی آئی اے، پرنٹنگ کارپوریشن، پاکستان بیت المال، این آئی سی ایل، ٹی سی پی، اسٹیٹ لائف انشورنس، اسٹیٹ بینک، اوگرا اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن سمیت دیگر پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں 1496 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔قوائد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 930 ارب روپے، غفلت اور دیگر کیسز میں 303 ارب روپے، فراڈ، غبن، چوری اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے باعث 5 ارب 63 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔اس کے علاوہ سال 16-2015 میں سی ڈی اے، پی ڈبیلو ڈی، این ایچ اے، رینجرز اور ایف سی سمیت دیگر اداروں میں 138 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔اسی طرح وزارت تجارت، وزارت مواصلات، ہاسنگ اینڈ ورکس، وزارت صنعت و پیداوار، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، فاٹا سیکریٹریٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت فیڈرل گورنمنٹ سول کے اکانٹس میں تقریبا 499 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں، جس کے تحت قوائد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 15 ارب روپے جبکہ انٹرنل کنٹرول سسٹم کی کمزوریوں سے 210 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) نے مالی سال 18-2017 کے دوران 44 وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے مالیت کی سرکاری رقم میں مالی بے قاعدگیاں، بد انتظامی اور بے ضابطگیاں ہونے کا انکشاف کیا ہے۔رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18-2017 میں وفاقی محکموں پر کیے جانے والے اعتراضات گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ یعنی تقریبا 87 فیصد ہیں جبکہ یہی معاملات ایک سال قبل 35 وفاقی محکموں میں 31 کھرب 20 ارب روپے مالیت کے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری رقم کا مالی ضابطہ کار بجائے بہتر ہونے کے مزید بگڑ گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے اس سلسلے میں 60 وفاقی محکموں اور شعبہ جات میں سے 44 کے سرکاری فنڈز کا جائزہ لیا جبکہ ان اداروں میں 10 لاکھ روپے تک کے خرچ کو اس اعداد و شمار کا حصہ نہیں بنایا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریبا 69 ارب 40 کروڑ روپے کی وصولی کر کے وفاقی فنڈ میں جمع کروادی گئی ہے، مذکورہ آڈٹ رپورٹ کو آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت صدرِ مملکت کو ارسال کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ میں بھی پیش کردیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں متعدد محکموں، اداروں اور ان کے بیرونِ ملک متعلقہ اداروں میں کل 39 ایسے کمزور مالی معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مالیت 57 کھرب 75 ارب روپے ہے جبکہ 82 ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں قوانین کے خلاف 24 ارب 75 کروڑ روپے کی بے قاعدہ ادائیگیاں یا اخراجات کیے گئے۔اس کے ساتھ آڈیٹر جنرل نے 57 کھرب 70 ارب روپے مالیت کے 26 کمزور مالی انتظام کے کیسز پر روشنی ڈالی جبکہ مالی اثاثوں کے خراب انتظام کے ایک ارب 30 کروڑ روپے مالیت کے 22 کیسز کا بھی ذکر کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اے جی پی کی رپورٹ میں وزارت خزانہ اور اکانٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کی جانب سے دی گئی 38 کھرب 90 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کے حوالے سے غلط بیانی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جو خود وفاقی حکومت کے درست مالی انتظام کے ذمہ دار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارتِ خزانہ نے آئین کی دفعہ 80، 83 اور 84 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ضمنی گرانٹس کو پرنٹ نہیں کیا جبکہ یہ کل ضمنی گرانٹس کا 92 فیصد حصہ ہیں۔آڈیٹر جنرل نے صدرِ مملکت اور پارلیمنٹ کو اپنی رپورٹ میں آگاہ کیا کہ وزارت خزانہ تمام ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی مجاز ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا س کی وجہ سے اتنی بڑی رقم بغیر رپورٹ کیے رہ گئی۔دوسری جانب اس بارے میں جواب دیتے ہوئے وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ معینہ مدت کے بعد مختلف وزارتوں اور شعبہ جات سے موصول ہونے والی ضمنی گرانٹس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ دستاویز کا حصہ نہیں بنایا جاسکا۔ آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی)نے 36 وزارتوں کو دی جانے والی 31 کھرب 20 ارب روپے کی فنڈنگ میں بدانتظامی، بے ضابطگیوں اور کمزور مالیاتی کنٹرول پر اعتراضات اٹھا دیے۔آڈیٹر جنرل نے ریکارڈ پر لاتے ہوئے بتایا کہ ان کی رپورٹ کے نتائج، 60 میں سے 36 وزارتوں اور ڈویژن کو دیے جانے والے فنڈز کی جانچ پڑتال کی بنیاد پر اخذ کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 10 لاکھ سے زائد کی رقم ایسی کمپنیوں کو دی گئی یا خرچ کی گئی جن کا جانچ کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا جو کہ 100 فیصد آڈٹ نہیں تھا۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے 123 کیسز کو نمایاں کیا جن میں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر ضروری اخراجات اور ادائیگیاں کی گئیں جن کی رقم تقریبا 8 کھرب 76 ارب روپے ہے۔رپورٹ میں 33 ایسے کیسز کی نشاندہی کی گئی جن میں کمزور مالی انتظام کی وجہ سے 19 کھرب کی بے ضابطگیاں ہوئیں جبکہ 52 ایسے کیسز سامنے آئے جن میں اثاثہ جات کے کمزور انتظام کے تحت 9 ارب 50 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔رپورٹ میں 78 ایسے کیسز سامنے آئے جن میں 15 کھرب 30 ارب روپے کمزور اندرونی مالی کنٹرول کا شکار ہوئے جبکہ 7 کھرب 30 ارب روپے زائد ادائیگیوں اور پبلک فنڈز میں خرد برد کا شکار ہوئے۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے وزارت خزانہ اور اکانٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کی جانب سے 10 کھرب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس میں غلط بیانی پر بھی سوالات اٹھائے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومتی اخراجات کے یونٹ اور اور آڈیٹر جنرل پاکستان ریونیو مشترکہ طور پر اصل اخراجات کی تجدید کے ذمہ دار ہیں، لیکن اب تک رقوم کے ایک بڑے حصے کے اصل اخراجات کی تجدید زیر التوا ہے۔رپورٹ میں آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ وزارتوں اور ان کے ماتحت ڈویژنز نے مالی سال 16-2015 میں ملنے والی گرانٹ سے 3 کھرب 52 ارب روپے کے زائد اخراجات کیے۔درحقیقت ان وزارتوں کے سربراہان اور اکانٹنگ افسران کو اخراجات میں اضافے کو روکنے کی ذمہ داری ہی نہیں سونپی گئی تھی۔آڈیٹرز نے انکشاف کیا کہ وزارت خزانہ نے مالی سال 16-2015 کے دوران 10 کھرب 10 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی اجازت دی تھی۔آڈٹ میں بتایا گیا کہ تمام سپلیمینٹر گرانٹس میں سے 2 کھرب 61 ارب کے گرانٹس مالی سال 2017-2016 کے بجٹ کے ساتھ پارلیمنٹ کو پیش کی گئیں تھیں۔آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ 8 کھرب 38 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس جو کہ مالی سال 16-2015 کی کل گرانٹس کا 76 فیصد ہے، پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش ہی نہیں کی گئی تھیں جبکہ تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کو معلوم کرنے کے لیے ریکارڈ ہی موجود نہیں۔آڈٹ رپورٹ میں فنڈز کی بد انتظامی کا ایک اور معاملہ 2 کھرب 17 ارب روپے کا ہے جس کے مطابق وزارتوں اور ان کے ماتحت ڈویژنز اس رقم کو وقت پر خرچ کرنے میں ناکام رہے اور نہ ہی مقررہ وقت پر وزارت خزانہ کو واپس ادا کی گئی تاکہ اس سے دوسرے پیداواری منصوبے مستفید ہو سکتے۔ گزشتہ مالی سال کی آڈٹ رپورٹس کے مطابق وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں 2 ہزار ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں 1496 ارب جبکہ وفاقی وزارتوں میں 499 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔مالی سال 16-2015 کی آڈٹ رپورٹس کے مطابق پی آئی اے، پرنٹنگ کارپوریشن، پاکستان بیت المال، این آئی سی ایل، ٹی سی پی، اسٹیٹ لائف انشورنس، اسٹیٹ بینک، اوگرا اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن سمیت دیگر پبلک سیکٹر انٹرپرائزز میں 1496 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔قوائد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر930 ارب روپے، غفلت اور دیگر کیسز میں 303 ارب روپے، فراڈ، غبن، چوری اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے باعث 5 ارب 63 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔اس کے علاوہ سال 16-2015 میں سی ڈی اے، پی ڈبیلو ڈی، این ایچ اے، رینجرز اور ایف سی سمیت دیگر اداروں میں 138 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔اسی طرح وزارت تجارت، وزارت مواصلات، ہاسنگ اینڈ ورکس، وزارت صنعت و پیداوار، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، فاٹا سیکریٹریٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت فیڈرل گورنمنٹ سول کے اکانٹس میں تقریبا 499 ارب روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں، جس کے تحت قوائد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 15 ارب روپے جبکہ انٹرنل کنٹرول سسٹم کی کمزوریوں سے 210 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔آڈٹ رپورٹس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان رانا اسد امین نے سفارش کی تھی کہ سرکاری اداروں اور وزارتوں میں انٹرنل کنٹرول سسٹم کو مضبوط کیا جائے، تاکہ غبن اور فنڈز کے غلط استعمال کا راستہ روکا جاسکے۔انہوں نے رپورٹس میں مزید سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام خود مختار ادارے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے اکاوئنٹنگ کے طریقہ کار اور اصولوں کی منظوری لیں جبکہ پیپرا رولز 2004 کا خیال رکھا جائے۔قابل آڈٹ تمام رکارڈ طلب کرنے پر پیش کیا جائے، بینک اکانٹس باقاعدہ اتھارائزیشن کے ساتھ کھولے جائیں اور وزارت خزانہ کی ہدایت کے مطابق فنڈز کا استعمال کیا جائے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان(اے جی پی) نے سالانہ کارکردگی رپورٹ 2017 میں محکمہ خزانہ پنجاب میں 300 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آگیا۔اے جی پی نے بتایا کہ اندرونی مالیاتی نظام میں غفلت کے باعث قومی خزانے کو 287 ارب روپے کا نقصان پہنچا یا گیا لاہور اورنج لائن منصوبے کے لیے 27 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں۔ دستاویزات کے مطابق پورٹ میں کہا گیا کہ لاہور اورنج لائن منصوبے کے لیے 27 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ ترقیاتی فنڈز غیرضروری طور پر روکنے سے 63 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی۔سالانہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ضمنی گرانٹس کے اجرا میں کمزور مالی انتظام کی وجہ سے 103 ارب روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب حکومت خود مختار اداروں سے رقم وصول کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔بقایہ جات وصولی سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ خودمختار اداروں سے بجلی کی مد میں بقایہ جات وصول نہ کرنے پر خزانے کو 5 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ ہائیڈرو پاوراسٹیشنز سے خالص پن بجلی منافع کی عدم وصولی پر 38 ارب روپے سے زائد کی بے قاعد گیاں ہوئیں۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پیپکو کو 5 ارب 46 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کیں اور 8 ارب روپے سے زائد کے فنڈز آڈٹ کے بغیر ہی اسٹیٹ بینک کو منتقل کردیے گئے۔دوسری جانب آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں پنجاب کے دانش اسکولز اینڈ سینٹرز آف ایکسیلنس اتھارٹی میں بھی 2 کروڑ روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔رپورٹ میں بتایا کہ دانش اسکولز سے متعلق حکومت پنجاب کے قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا اور راجن پور میں زائد قیمت پر ٹینڈر دینے سے خزانے کو 80 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔مالیاتی امور پر تفصیلات میں کہا گیا کہ اٹک میں دانش اسکول کے تعمیراتی کام میں مروجہ طریقہ کار نہ اپنانے سے 49 لاکھ روپے کا نقصان ہوا جبکہ حافظ آباد اور فیصل آباد میں اسکولوں کی تعمیر کے لیے 34 لاکھ روپے زائد ادا کیے گئے۔اسی طرح حاصل پور میں پرفارمنس سیکیورٹی نہ لینے پر ٹھیکیدار کو 28 لاکھ روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

صحافی آج بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ شکیل انجم

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد پاکستان میں ...