بنیادی صفحہ / جرائم / 2017 کے مقابلے 2018 میں بچوں کے استحصال میں 11 فیصد اضافہ ہوا

2017 کے مقابلے 2018 میں بچوں کے استحصال میں 11 فیصد اضافہ ہوا


ملک میں روزانہ 10 سے زائد بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے
بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو بچوں سے واقفیت رکھتے تھے جو کل واقعات کا 47 فیصد ہے۔
یاد رہے کہ سال 2018 کا آغاز میں ہی قصور کی ننھی زینب کے اغوا، ریپ اور اس کے بعد بے دردی سے قتل کا واقعہ سامنے آیا۔
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
پاکستان میں2017 کے مقابلے 2018 میں بچوں کے استحصال میں 11 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ملک میں روزانہ 10 سے زائد بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ اعداد و شمار بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کی رپورٹ میں سامنے آئے جس میں کہا گیا کہ گزشتہ برس ملکی اخبارات میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں ہونے والے بچوں کے استحصال کے 3 ہزار 832 واقعات رپورٹ ہوئے۔دوسری جانب جنوری 2017 سے دسمبر 2017 تک اس طرح کے 3 ہزار 445 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔رپورٹ کا عنوان تھا ظالم اعداد و شمار 2018، جسے قومی اور علاقائی سطح کے 85 اخبارات کا جائزہ لے کر بنایا گیا اور اس طرح کی رپورٹس جاری کرنے کا سلسلہ گزشتہ 18 برس سے جاری ہے۔بچوں کے استحصال کے ان 3 ہزار 832 واقعات میں سے 55 فیصد واقعات لڑکیوں کے ساتھ جبکہ 45 فیصد واقعات لڑکوں کے ساتھ بدسلوکی کے تھے۔کل تعداد میں سے اغوا کے 932، بدفعلی کے 589، ریپ کے 537، بچوں کی گمشدگی کے 452، ریپ کی کوشش کے 345، اجتماعی بدفعلی کے 282 واقعات، اجتماعی ریپ کے 156 اور کم عمری کی شادی کے 99 واقعات رپورٹ ہوئے۔گزشتہ برس رپورٹ ہونے والے کل واقعات میں سے 72 فیصد دیہی علاقوں جبکہ 28 فیصد شہری علاقوں میں رونما ہوئے۔ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات کے نصف سے زائد یعنی 63 فیصد پنجاب، 27 فیصد سندھ، 4 فیصد خیبرپختونخوا، 3 فیصد اسلام آباد، 2 فیصد بلوچستان میں پیش آئے جبکہ آزاد کشمیر میں 34 اور گلگت بلستان کے 6 واقعات رونما ہوئے۔رپورٹ کے مطابق کل کیسز میں نصف سے زائد یعنی 2 ہزار 32 واقعات بچوں کے جنسی استحصال کے تھے جس میں سے 51 فیصد واقعات میں لڑکیوں جبکہ 49 فیصد میں لڑکوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ان اعدادو شمار کے مطابق ملک میں روزانہ 10 بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے، یوں 2017 میں درج ہونے والے واقعات کے مقابلے میں بچوں کے جنسی استحصال میں 33 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔تاہم اگر عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پیدائش سے 5 سال کی عمر اور 16 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیاں جبکہ 6 سے 15 برس کی عمر میں لڑکے جنسی استحصال کا سب سے زیادہ نشانہ بنے۔اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اس سال بھی بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو بچوں سے واقفیت رکھتے تھے جو کل واقعات کا 47 فیصد ہے۔یاد رہے کہ سال 2018 کا آغاز میں ہی قصور کی ننھی زینب کے اغوا، ریپ اور اس کے بعد بے دردی سے قتل کا واقعہ سامنے آیا۔9 جنوری کو زینب کی لاش کوڑا کرکٹ کے مقام سے ملنے کے بعد پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور مظاہروں اور احتجاج کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ان مظاہروں میں احتجاج کرنے والیا فراد کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی جس کے نتیجے میں 2 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ہیش ٹیگ جسٹس فار زینب بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے خلاف ایک نعرہ بن کر ابھرا۔بعدازاں زینب کے اہلِ خانہ کے تعاون سے پولیس زینب کے قتل کے مجرم عمران کو پکڑنے میں کامیاب ہوئی جو اس کے محلے کا ہی رہائشی تھا۔بعدازاں مجرم عمران علی پر مقدمہ چلایا گیا اور زینب کے قتل کے 9 ماہ بعد 17 اکتوبر کو اسے کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔اس بارے میں رپورٹ مرتب کرنے والے افراد میں سے ایک ممتاز گوہر نے بتایا تھا کہ زینب قتل کیس سامنے آنے کے بعد اس دوران بچوں کے استحصال کے واقعات میں کمی آئی تھی جس میں کچھ عرصے بعد ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا۔تاہم زینب قتل کیس سے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کو جنسی استحصال کے واقعات کو چھپانے کے بجائے انہیں منظرِ عام پر لانے کا حوصلہ ملا۔ گزشتہ برس جنسی استحصال یا تشدد کے شکار ہونے والے بچوں سے متعلق ایک رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں یومیہ 11 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے، جب کہ اس صورتحال میں مسلسل اضافہ ہوا۔یہ بات غیر سرکاری سماجی تنظیم ساحل کی جانب سے جاری کردہ 2016 کے بے رحمانہ اعداد و شمار نامی رپورٹ میں سامنے آئی۔اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں رپورٹ کو پیش کرنے کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کینیڈین ڈپٹی ہائی کمشنر اینڈریو ٹرنر نے غیر سرکاری سماجی تنظیم کی جانب سے جنسی استحصال اور تشدد کے شکار افراد کو مفت قانونی مدد فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہتے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ خصوصی طور پر میڈیا کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہئیے اور اس معاملے کی درست رپورٹنگ کرکے متعلقہ حکام کی مدد کو یقینی بنانے میں اپنا کردا ادا کرے۔تقریب سے خطاب کے دوران اعزازی مہمان اور ناروے کے سفارتکار ٹام مارٹیشن نے غیر سرکاری تنظیم کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ بچوں کا جنسی استحصال ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا کے تقریبا تمام ممالک اس چیلنج سے نبرد آزما ہیں، اور ہم اس حوالے سے کینیڈا کی مثال لے سکتے ہیں کہ کس طرح اس نے اس سنگین معاملے پر کنٹرول کیا۔ٹام مارٹیشن کا کہنا تھا کہ ساحل نے اپنے قیام 1997 سے لے کر پاکستانیوں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کو اہمیت نہ دینے یا اسے کوئی مسئلہ ہی نہ سمجھنے کے خلاف جدوجہد کی، ساحل نے نچلی سطح سے کام کا آغاز کیا اور وسط مدتی منصوبے بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ ناروے کے سفارتخانہ سمجھتا ہے کہ ساحل کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تربیت کا پروگرام ان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سب سے تسلی بخش کام ہے۔نیشنل کمشنر برائے چائلڈ کمیشن اعجاز احمد قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے کام، ڈیٹا اور اعداود شمار کی تب تک مکمل تصدیق نہیں کی جاسکتی جب تک ہم گلیوں اور سڑکوں کے بچوں، اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے، گھریلو کام کرنے والوں، جبری مشقت کرنے والوں اور استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کر دیتے۔اس موقع پر ساحل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر منیزہ بانو نے ادارے کے 20 سالہ سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شروعات میں تحقیقات، آگاہی پھیلانے، تربیت دینے اور قانونی مدد فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی،جس کے بعد اب یہ ادارہ ملکی اور عالمی سطح کا تحقیقاتی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔تقریب کے اختتام پر قومی، علاقائی اور لوکل اخبارات کے رپورٹرز کو بچوں سے متعلق دوستانہ رپورٹنگ کرنے پر ایوارڈز بھی دئیے گئے۔ایوارڈ حاصل کرنے والے رپورٹرز کا تعلق روزنامہ نوائے وقت لاہور، سندھی روزنامہ کاوش حیدرآباد اور روزنامہ سٹی 42 سے تھا، جب کہ ساحل میں رضاکارانہ خدمتیں سرانجام دینے والے افراد کو بھی اعزازات سے نوازا گیا، سب سے بہترین رضاکار کا ایوارڈ محمد الیاس بھاگت کو دیا گیا۔غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ساحل کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2017 کے مقابلے میں 2018 کے ابتدائی 6 ماہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔این جی او کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اخبارات کی رپورٹس کے مطابق 2 ہزار 3 سو 22 بچوں کے زیادتی کے کیسز سامنے آئے جبکہ گزشتہ برس جنوری سے جون تک یہ تعداد ایک ہزار 7 سو 64 تھی۔تنظیم کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جون کے دوران ہر روز 12 سے زائد بچوں کا استحصال کیا گیا اور ایک ہزار 7 سو 25 کیسز دیہی علاقوں جبکہ 5 سو 97 کیسز شہری علاقوں میں رپورٹ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں لڑکوں کے ساتھ جنسی استحصال میں 47 جبکہ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے کیسز میں 22 فیصد اضافہ ہوا اور 6 سے 15 سال کے عمر کے بچوں کو آسانی سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 5 سال سے تک کی عمر کے بچوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا، جو خطرناک ہے۔گزشتہ برس کے ابتدائی 6 ماہ میں 79 کیسز رپورٹ کیے گئے لیکن رواں سال یہ تعداد کافی حد تک بڑھی اور 5 سال تک کے عمر کے بچوں کے ریپ کے 3سو 21 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق اس طرح کے 48 فیصد کیسز میں زیادتی کرنے والے رشتے دار یا جاننے والے تھے، 14 فیصد کیسز میں جاننے والوں کے ساتھ اجنبی، 11 فیصد اجنبی اور 12 فیصد کیسز میں بدسلوکی کرنے والوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے 24 فیصد کیسز جاننے والوں کے گھروں، 15 فیصد کیسز متاثرہ بچوں کے گھروں جبکہ 10 فیصد کیسز عام مقامات پر ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے تمام واقعات میں سے 89 فیصد پولیس کے پاس رجسٹر ہوئے اور 32 کیسز کو پولیس نے رجسٹر کرنے سے انکار کیا جبکہ مختلف وجوہات کی وجہ سے 17 کیسز کو رجسٹر نہیں کیا گیا۔گزشتہ برس کے مقابلے میں رجسٹر کیسز کی تعداد میں 59 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پولیس کی جانب سے کیس رجسٹر کرنے سے منع کرنے میں 32 فیصد کمی ہوئی۔صوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ 65 فیصد کیس پنجاب جبکہ 26 فیصد سندھ میں رپورٹ ہوئے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں 69 کیسز، اسلام آباد میں 68 کیسز، بلوچستان میں 55، آزاد کشمیر میں 21 اور گلگت بلتستان میں 2 کیسز رپورٹ کیے گئے۔اس حوالے سے رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک ممتاز گوہر نے بتایا کہ زینب کیس کے بعد امید تھی کہ ایسے واقعات میں کمی ہوگی لیکن بدقسمتی سے اس میں اضافہ ہوا، تاہم اس کیس کے بعد متاثرہ فرد کے اہلخانہ کو یہ ہمت ملی کہ وہ جنسی استحصال کو چھپانے کے بجائے سب کے سامنے لائیں۔ یونیسیف پنجاب کے فیلڈ چیف آفیسر عبداللہ محمد یوسف نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے رپورٹس کے مطا بق حالیہ کچھ سالوں میں پنجاب میں بچوں کے استحصال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ان کیسز میں زیادہ تر اغوا، بچوں کی گمشدگی، جسمانی و جنسی تشدد اور کم عمری میں شادیاں شامل ہیں جن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔خیال رہے کہ یونیسیف، سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ، نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس اور چائلڈ ایڈوکیسی نیٹ ورک کے زیر اہتمام بچوں کے تحفظ کے حوالے سیا یک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ محمد یوسف نے پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کردہ پنجاب ڈیسٹیٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ(پی ڈی این سی اے) برائے سال 2004 کو سراہا لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون بچوں سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے تسلی بخش نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب کو چاہیے کہ بچوں کے ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کے لیے ایک جامع قانونی اور انتظامی فریم ورک متعارف کروائے۔یونیسف عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کے سلسلے میں کیس مینجمنٹ اینڈ ریفریل سسٹم نافذ کیا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام محکموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یو این سی آر سی کمیٹی نے 2016 میں پاکستان کے حوالے سے اپنی 5 ویں رپورٹ میں تجویز دی تھی کہ بچوں کے استحصال کے واقعات سے متعلق رپورٹس کی نگرانی، تحقیقات کرنے کے لیے موثر میکانزم قائم کیا جائے۔اس کے ساتھ اس قسم کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بچوں کی حساسیت کو مدِ نظر رکھتے اور متاثرہ بچے کی پرائیویسی یقینی بنانا کر کارروائی کی جائے، ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی سطح پر ان تجاویز پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے محکمہ سماجی بہبود محمد اجمل چیمہ نے کہا تھاکہ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ طبقے میں بہت فرق ہے جس کی وجہ سے اس بارے میں آگاہی پھیلانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا کو بچوں کے استحصال کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افتخار مبارک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم مقررہ عمر 16 سے بڑھا کر 18 کردی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مزدوروں کی نگرانی نظام مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تا کہ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین کے نفاذ موثر بنایا جائے۔ اسلام آباد پولیس نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا ہے کہ گزشتہ 5 سال کے دوران وفاقی دارالحکومت
میں بچوں کے ساتھ ریپ کے 3 سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس عرصے میں 2 سو 60 ایسے واقعات روپورٹ نہیں کروائے گئے۔بچوں سے زیادتی کی روک تھام سے متعلق سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن نزہت صادق کی صدارت میں ہوا۔کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا۔کمیٹی کی چیئرپرسن نزہت صادق کا کہنا تھا کہ شیریں مزاری کو اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی، بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا معاملہ انتہائی اہم ہے.ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں بھی وزیر انسانی حقوق نے شرکت نہیں کی تھی، وزیر انسانی حقوق کا یہ انتہائی غیر سنجیدہ رویہ ہے۔اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر انسانی حقوق وزیراعظم ہاوس میں موجود ہیں، وزیر انسانی حقوق کی اجلاس میں شرکت سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اجلاس کے دوران اسلام آباد پولیس کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 5 سال میں اسلام آباد میں 3 سو بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات پیش آئے، ان برسوں میں بچوں سے ریپ کے 2 سو 60 واقعات رجسٹر ہی نہیں ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے 2016 میں 2 بچیاں لاپتہ ہوئیں جن کا تاحال پتہ نہیں چل سکا، سڑکوں پر بھیک مانگنے والے 14 سو سے زائد بچوں کو محفوظ مقامات پر اپنی نگرانی میں رکھا گیا لیکن وہ لوگ کچھ عرصے بعد پھر سڑکوں پر آکے بھیک مانگنا شروع ہوگئے۔کمیٹی نے بچوں سے ریپ کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیاں روابط کی کمی ہے۔کمیٹی کے رکن مشتاق احمد نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بچوں کا جیل بنا ہوا ہے لیکن بچوں کو ان کے لیے قائم جیل میں نہیں رکھا جاتا اور حکومت خود کہہ رہی ہے کہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ یہ بچے محفوظ نہیں ہیں۔وزارت انسانی حقوق کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چائلد پروٹیکشن سے متعلق 80 سے زائد قوانین موجود ہیں، بچوں سے زیادتی کی روک تھام سے متعلق اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے صوبے تعاون نہیں کر رہے، اس اہم معاملے پر صوبوں کو خط لکھے گئے لیکن ایک صوبے نے بھی جواب نہیں دیا۔سینیٹ کمیٹی نے بچوں سے ریپ کے معاملے کو وزیراعظم کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا، کمیٹی کا کہنا تھا کہ بچوں سے ریپ کا معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے، واقعات کی روک تھام کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کی جائے گی۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو واقعات کی روک تھام کے لیے درکار اقدامات سے متعلق فوری احکامات جاری کرنے کی درخواست کی جائے گی۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

اسلام آباد پولیس کے زیراہتمام ایس پی ملک طاہر محمود کے اعزاز میں الوداعی پارٹی

اسلام آباد: آئی جی اسلام آباد پولیس جان محمد، ایس پی ملک ...