بنیادی صفحہ / سیاست / کیا مرضی کے نتائج کی خاطر سیاستدان انتخابات سے قبل نشانے پر؟

کیا مرضی کے نتائج کی خاطر سیاستدان انتخابات سے قبل نشانے پر؟

کیا پرسکون انتخابی عمل تہس نہس کی سازش ہورہی ہے؟
حالیہ بم دھماکے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے، عمران خان
انتخابی مہم میں یکساں مواقع میسر نہیں، بلاول بھٹو زرداری
نواز شریف کا جیل میں ٹرائل قانون و آئین سے متصادم ہے، شہباز شریف
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
آئین صرف ان لوگوں کی حفاظت نہیں کرتا جن کے خیالات ہم بانٹتے پھرتے ہیں بلکہ یہ ان لوگوں کو بھی تحفظ دیتا ہے جن کے خیالات سے ہم متفق نہیں ہیں.آئین نے ہمیں زندگی ، آزادی اور خوشحالی کے حقوق کے حصول کی ضمانت دی ہے۔ ہماری آزادی پاکستان کے آئین کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔ پاکستان کے لوگ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ دونوں کے حقدار مالک ہیں، جو آئین کو ختم کرنے کے لئے نہیں، بلکہ ایسے لوگوں کو ختم کرنے کے لئے ہیں جو آئین کو ختم کر دیتے ہیں۔اگرچہ قانون کی حکمرانی کا احترام نہ کرنے کے ظلم سے واقعی سب سے زیادہ خطرہ ہے، اور آنے والے کئی سالوں تک ایسا ہی جاری رہنے کی توقع ہے۔ لیکن ایک متحرک عدلیہ کے ہوتے ہوئے وہ دن دور نہیں جب ایگزیکٹو پاور کے ظلم سے عوام نجات حاصل کرلیں گے۔وطن عزیز کیلئے اربوں ڈالر کے غیر ملکی قرضے لئے گئے لیکن آج کوئی بتانے والا نہیں کہ کہاں خرچ ہوئے ؟
جبکہ ملک میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی امیدواروں پر دہشت گردی کے حملوں کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ملک بھر میں تمام جلسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع پیپلز پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی مہم کا تمام شیڈول منسوخ کردیا جبکہ انتخابی مہم کی نئی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے پارٹی کا اہم اجلاس بھی طلب کرلیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو سیکیورٹی خدشات کے باعث بڑے جلسے کرنے کے بجائے کارنر میٹنگس کرنے کی تجاویز دی گئی۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ سے شکوہ کیا کہ انتخابی مہم کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ مستونگ کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جلسے منسوخ کردیے ہیں، پی پی پی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو عوام ووٹ ڈال کر دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جلسہ نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ مستونگ میں شہید سراج رئیسانی سمیت 120سے زائد معصوم انسانوں کا قتل ناقابل تلافی سانحہ ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد مالا کنڈ والوں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا، انتہا پسندوں کے مائنڈ سیٹ کو شکست دینا ضروری ہے، معصوم پاکستانیوں پر دہشت گردوں کے حالیہ حملے افسوس ناک ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ سب اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، اداروں کو مضبوط بنائے بغیر متنازع پارلیمان میں عوام کے مسائل کا حل مشکل ہوتا ہے جبکہ انتخابات شفاف اور وقت پر ہی ہونا چاہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، انہوںنے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سانحہ مستونگ کے باوجود بلوچستان جاوں گا لیکن جلسے کے بجائے کارنر میٹنگز کروں گا۔انہوں نے شکایت کی کہ جنوبی پنجاب میں ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی، حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان سب باتوں کے بعد بھی ہم انتخابات لڑرہے ہیں۔اس سے قبل خیبرپختونخوا میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم کے سلسلے میں عوامی اجتماعات کا انعقاد سیکیورٹی خدشات کی بنا پر انتظامیہ کی اجازت نہ ملنے پر منسوخ کیا گیا تھا۔پی پی پی کے چیئرمین انتخابی مہم کے سلسلے میں 2 روزہ دورے پر پشاور میں موجود ہیں، اور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی نے پشاور اور مالاکنڈ میں ریلیاں نکالنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اب سیکیورٹی خدشات کے سبب اب ان عوامی اجتماعات کو منسوخ کیا جاچکا ہے۔دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں گزشتہ روز مستونگ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور اظہار یکجہتی کے طور پر ایک دن کے لیے اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری ضلع مالاکنڈ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این سے-9 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور انتخابی مہم کے سلسلے میں انہیں آج صبح پشاور سے مالاکنڈ کے لیے روانہ ہونا تھا، جہاں انہیں بٹخیلہ تک ریلی کی قیادت اور شام میں ظفر پارک میں عوامی جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات کے انعقاد کے سلسلے میں انتظامیہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی لیکن انہوں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔یاد رہے کہ رواں ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انتخابی امیدواروں پر اب تک 3 بڑے دہشت گردی کے حملے کیے جاچکے ہیں جس میں مجموعی طور پر امیدواروں سمیت 150 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔دہشت گردی کی حالیہ لہر کے پیش نظر خیبر پختونخوا کی نگراں حکومت نے پیپلز پارٹی کو انتخابی مہم کے سلسلے میں تقریبات کی اجازت دینے سے انکار کیا، اور بلاول بھٹو زرداری کو کنٹونمنٹ علاقوں میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔جس پر ردعمل دیتے ہوئے بختاور بھٹو زرداری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان کے لیے ریلیاں نکالنا محفوظ ہے لیکن چیئرمین پیپلز پارٹی کے لیے نہیں۔اپنے ٹوئٹر پیغام میں بختاور بھٹو زرداری نے عمران خان کو طالبان خان کہتے ہوئے سابقہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مدرسوں کو لاکھوں روپے کی گرانٹ دینے پر تنقید کی۔اس حوالے سے سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگراں حکومت عام انتخابات میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اب چیئرمین بلاول بھٹو پی پی پی کے مقامی رہنماوں سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقاتیں کریں گے۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ حالیہ بم دھماکے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش ہے۔صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بم دھماکوں کی سازش ملک سے باہر ہوتی ہے لیکن ساتھ اندر والے دیتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان میں ہونے والا انتخابی عمل پرامن نہیں دیکھنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں پاکستان میں فساد ہو اور الیکشن والے دن لوگ نہ نکلیں، مجھے کہا گیا آپ کی جان کو خطرہ ہے اور صوابی، مردان اور ٹیکسلا کا جلسہ منسوخ کر دو، خطرہ ہے تو کیا بنی گالہ میں جاکر بیٹھ جاوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نہ ڈرنے والے ہیں نہ جھکنے والے، ہم جلسے نہیں روکیں گے اور بم دھماکوں کے باوجود 23 جولائی تک جلسے کرتے رہیں گے۔عمران خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کبھی ایسے شخص کو لیڈر نہ مانیں جس کا پیسہ، جائیداد اور کاروبار ملک سے باہر ہو، جبکہ جن لوگوں کا جینا مرنا پاکستان سے باہر ہو وہ عوام سے مخلص کیسے ہوں گے.اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف اور بیٹوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک کے تین بار وزیر اعظم بنے، ان کے بیٹوں کی کمپنی
اکاونٹس میں 300 ارب روپے سے زائد ہیں، نیب نے جب بیٹوں سے کہا ہمیں آکر بتائیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم پاکستان کے شہری ہی نہیں ہیں۔سابق صدر آصف زرداری کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری بتائیں کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا، یہ پاکستانی عوام کا پیسہ تھا جو ملک سے باہر چلا گیا۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی واپسی کے دوران کارکنوں کے خلاف کارروائی پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں ٹرائل قانون و آئین کے متصادم ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں شہباز شریف نے سب سے پہلے دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے عمران خان کے بیان، سانحہ بنوں اور مستونگ کی مذمت کی اور کہا کہ حالیہ واقعات پر پوری قوم سوگوار ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ان کا ٹرائل اڈیالا جیل میں ہوگا جو انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے کیونکہ جیل میں ٹرائل دہشت گردوں کا ہوتا ہے۔انھوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1999 کے نام نہاد طیارہ ہائی جیکنگ مقدمے میں بھی جیل میں ٹرائل نہیں ہوا تھا اور ہمیں لانڈھی جیل سے کھلی عدالت لایا جاتا تھا اور یہاں پر جیل میں ٹرائل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو قانون اور آئین کے متصادم اور ناانصافی پر مبنی غلط فیصلہ کیا گیا ہے اس پرانتظامیہ اور حکومت کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس طرح کا من مانا فیصلہ کرکے نگراں حکومت، نیب اور متعلقہ ادارے قوم کو کیا بتانا چارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کے موقع پر پورا لاہور سڑکوں پرتھا، لوگوں کاایک سمندر تھاجو نواز شریف کیاستقبال کے لیے نکلا تھا اورعوام نوازشریف کیاستقبال کے لیے ائرپورٹ جانے کے لیے تڑپ رہے تھے۔صدر مسلم لیگ ن نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پشاور سے امیر مقام کے قافلے کو روکا گیا اس کے باوجود میرے سیاسی کیریئرکی سب سے بڑی ریلی تھی یہ جلوس نہایت منظم تھا جہاں ایک گملا تک نہیں ٹوٹا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور سینئرقیادت پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کییگئے۔سابق وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ یہ بغیر اشتعال کے پولیس کی زیادتی اور چیرہ دستی ہے جس پر سب کو غم و غصہ ہے اور جنھوں نے زیادتی کی ہے ان کے خلاف جلد قانون حرکت میں آئے گا اور وہ قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور انھیں قرار واقعی سزا ملے گی۔یاد رہے کہ گزشتہ پنجاب کی نگراں حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی پاکستان واپسی پر استقبال کے لیے جانے والے کارکنوں کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا جبکہ مختلف علاقوں میں شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلے نواز شریف کو سزا ہوئی اب سابق صدر آصف علی زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سب احتساب کے نام پر ہو رہا ہے، جو کہ ایک صاف ستھرا نام ہے اس چیز کا جسے چند لوگ سر اٹھاتی عدالتی مارشل لا پکارتے ہیں۔ عام انتخابات سے فقط چند ہفتے قبل اس قسم کے ڈرامائی اقدام نے پرسکون انتخابی عمل کے حوالے سے چند سوالات کھڑے کردیے ہیں۔کیا نواز شریف کی سزا کے چند دنوں بعد ہی زرداری اور ان کی ہمشیرہ سے جڑا اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا اسکینڈل منظر عام پر آنا محض اتفاق ہوسکتا ہے؟ یہ تو واضح ہے کہ اس غیر معمولی مبینہ جرم کے حوالے سے ایک عرصے سے تحقیقات جاری ہے۔ الزامات کی صداقت پر تو شبہ کرنے کی بظاہر تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کیس کو اس وقت ہی کیوں منظر عام لایا گیا ہے کہ جب انتخابات قریب تر ہیں؟۔نواز شریف اور ان کی بیٹی سزا کو چیلنج کرنے آ رہے ہیں اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالاگیا، یوں صورتحال نہایت پریشان کن بن چکی ہے۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے اور پرسکون جمہوری منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے نگران حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کیسی منصوبہ بندی کرتی ہے۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ زرداری کے خلاف ایکشن ایسے وقت میں اٹھایا گیا کہ جب اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان کسی قسم کی ڈیل کے بارے میں کہانیاں گردش میں تھیں۔ ان شکوک و شبہات میں گزشتہ برس تھوڑی بہت سچائی کی جھلک نظر آنے لگی تھی جب سیکیورٹی اداروں نے پیپلز پارٹی کے رہنماوں سے قربت رکھنے والے اشخاص کے خلاف کارروائیاں اچانک روک دیں۔ بظاہر اس مبینہ ڈیل کا مقصد پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) سے اتحاد کرنے سے روکنا تھا کہ جب نواز شریف کو نااہل قرار دے کر کرپشن الزامات پر ان کے خلاف مقدمہ شروع کیا گیا۔ انہوں نے 2014 کے دور سے سبق سیکھ لیا تھا کہ جب پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو پی ٹی آئی دھرنوں کے طوفان سے بچا لیا تھا، لہذا پارٹی کو غیر جانبدار بنانا ضروری سمجھا گیا۔زرداری کے لیے اپنے اوپر اور اپنے دوستوں کے سر پر سے دباو ختم کرنا بھی ضروری تھا۔ اس منصوبے نے کام بھی دکھایا کیونکہ پیپلزپارٹی نے نہ صرف نواز شریف کی نااہلی کی تائید کی بلکہ ان کے خلاف چلنے والے کرپشن کے مقدمے کی بھی حمایت کی۔ ایک چالاک سیاستدان زرداری، جنہیں خود کے جوڑ توڑ کے ماہر ہونے پر فخر ہے، نے مسلم لیگ(ن)کو دیوار سے لگا دیے جانے پر ابھرتے ہوئے منظر نامے میں پیپلزپارٹی کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ حاصل کرنے کا سوچا۔زرداری نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ پیپلزپارٹی انتخابات کے بعد حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔ انہوں نے شاید سوچا کہ وہ اپنی پارٹی کی سندھ میں یقینی انتخابی پوزیشن کی مدد سے ممکنہ کسی ایک جماعت کی اکثریت سے عاری پارلیمنٹ میں کنگ میکر کا کردار کرسکیں گے۔ جب پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کو ایوان بالا پر قبضہ کرنے سے روکنے کی خاطر پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرکے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ حاصل کیا تھا تب زرداری کا اور بھی اعتماد بڑھا ہوگا۔ یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ راتوں رات ایک دوسرے کی مخالف سیاسی جماعتوں میں اتحاد کیسے قائم ہوگیا۔تاہم زرداری جتنے بھی چالاک کیوں نہ نظر آئیں، انہیں بالکل پتہ نہیں تھا کہ یہ صرف محدود وقت کی بات ہے اور وہ بھی جلد ہی احتساب کی کلہاڑی کے نیچے آنے والے ہیں جس کے نیچے ایک طاقتور سیاسی رہنما پہلے ہی آچکا ہے۔ تحقیق کار دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنا مواد حاصل کرلیا ہے جو سابق صدر کے خلاف مقدمہ چلانے کے کافی ہے۔اگر میڈیا پر آنے والی خبریں درست ہیں تو باہر منتقل ہونے والا پیسہ درحقیقت اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیسوں کی مبینہ منتقلی درجنوں جعلی بینک اکانٹس سے کی گئی، جن میں سے متعدد کا تعلق زرداری، ان کی ہمشیرہ، دوست اور بزنس ساتھیوں سے جڑتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر مبینہ منتقلیاں ایک ایسے بینک کی گئیں جس کا مالک پیپلزپارٹی رہنما کے قریبی دوست ہیں۔ بلاشبہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔مگر اتنی ہی پریشان کن بات یہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات برسوں پہلے شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ معلومات قریبی ساتھیوں سے حاصل کی گئی ہے جنہیں 2015 میں کراچی میں انٹیلجنس اداروں کی جانب سے جاری کریک ڈان کے دوران اٹھایا گیا تھا۔ مگر زرداری اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کسی قسم کے باضابطہ الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ اس طرح اس مقبول عام تصور کو تقویت ملی کہ سیاسی مصلحت کی وجہ سے کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر یہ سچ ہے تو اس سے ان الزامات میں وزن بڑھ جاتا ہے کہ مالی کرپشن کے الزمات کو اکثر سیاستدانوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جب ایسے مقدمات کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا اور پھر سیاسی ضرورت کے تحت اس میں دوبارہ جان ڈال دی گئی۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ لوگوں کو تحقیقاتی اداروں اور عدالتی کارروائی پر بھروسہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مالی کرپشن کے الزامات اور جیل میں کئی برس گزارنے کے باوجود بھی زرداری کو کبھی مجرم قرار نہیں دیا جاسکا۔اس سے بڑی ستم ظریفی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ سب سے زیادہ بدنام شخص صدر بن گیا اور اس ملک کی قسمت کا مالک بن گیا؟ اس میں کوئی حیرت نہیں کہ کئی لوگ زرداری کے خلاف ان تازہ الزامات کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے اور شاید انتقامی کارروائیوں کے طور پر بھی دیکھیں گے، چاہے وہ کتنے ہی پختہ کیوں نہ ہو۔ ایک ایسے عدالتی نظام جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اسے حقیقی قوتیں توڑتی مروڑتی رہتی ہیں، اس میں موجود خامیوں کے
پیش نظر کیا انہیں کوئی غلط کہہ سکتا ہے؟۔کارروائی کی ٹائمنگ خاص طور پر بڑے تجسس میں مبتلا کرتی ہے اور اس سے ان سازشی مفروضوں کو بھی تقویت ملی ہے کہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی خاطر سیاستدانوں کو انتخابات سے قبل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واقعات کی کڑیاں اس شبے کو مضبوط کرتی ہیں۔ بلاشبہ وائٹ کالر جرائم بالخصوص مالی جرائم کو ثابت کرنا خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں کبھی بھی آسان نہیں ہوتا کہ جہاں تحقیقات کو آسانی سے توڑا مروڑا جاسکتا ہے۔مزید براں، ابھی یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ آیا یہ مقدمہ منی لانڈرنگ کا ہے یا کرپشن کا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس نے اس کنفیوژن کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق زرداری اور فریال تالپور کے نام مجرم ٹھہرانے کو تو چھوڑیں باضابطہ طور پر الزامات عائد کیے بغیر ہی ای سی ایل پر ڈال دینے کا فیصلہ یقینا قبل از وقت ہے۔یہ زیادہ مناسب ہوتا اگر ایسا کوئی اقدام اٹھانے سے قبل تحقیقات کو مکمل ہونے دیا جاتا۔ پیپلزپارٹی کا مقف درست ہے کہ جب نواز شریف انسداد کرپشن کی عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہے تھے اس وقت بھی ان کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا تھا۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف سیاسی ماحول میں کڑواہٹ گھول دیں گے بلکہ انتخابات اور جمہوری منتقلی پر برے اثرات مرتب کریں گے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

مردہ سماج کی زندہ آواز

  عاصمہ جہانگیرپاکستانی تاریخ میں زندہ دلی کی مثال ہیں۔کچھ دوست سماجی ...