بنیادی صفحہ / سیاست / کیا قبل از انتخابات دھاندلی ہو چکی ہے ؟

کیا قبل از انتخابات دھاندلی ہو چکی ہے ؟

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن عوام کو بتائیں کہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے والی بین الاقوامی طاقتیں کون سی ہیں۔؟ انہوں نے کہا کہ عالمی قوتیں خود دھاندلی کرواکے الزام فوج کے سرتھوپنا چاہتی ہیں۔چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت اور چیف جسٹس اس پر فوری نوٹس لیں،پاک فوج کے ساڑھے تین لاکھ جوانوں کو انتخابی ذمہ داریاں دے کر یہ سازشی طاقتیں اس وقت سیاسی جماعتوں میں بھی سرایت کر چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2008 میں بھی یہ سازش ہو چکی ہے جب امریکا نے واضح کہا تھا کہ اگر آپ کی پارٹی الیکشن جیتی تو امریکا نتائج تسلیم نہیں کرے گا۔چوہدری شجاعت نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونی طاقتیں پہلے بھی پاکستان کی سیاست میں ملوث رہی ہیں۔ واضح رہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے 28 مئی 2018 کو قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان میں انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر وہ اِن کیمرا بریفنگ بھی دے سکتے ہیں۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ انتخابات میں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے، اس سلسلے میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ فوج کو بڑے پیمانے پر کس طرح سرحدوں سے لایا جائے۔یاد رہے کہ 14 جون 2018 کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران پولنگ کے اندر اور باہر فوج تعینات کی جائے گی۔
جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل عوام میں فوج، عدلیہ اور نجی میڈیا کے جانب دار ہونے کا قوی تاثر موجود ہے۔یہ بات پاکستان میں پارلیمان کی کارکردگی اور قانون سازی پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے ‘پلڈاٹ’ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ مبصرین صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بہت زیادہ جوڈیشل ایکٹوازم دیکھنے کو ملا۔ نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹس بھی متحرک رہیں اور سیاست دان ان کا نشانہ بنے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے ریمارکس اور بیانات انتہائی جارحانہ اور سخت تھے۔ اقامے پر فیصلہ ضرور سنایا گیا لیکن پاناما پر ابھی تک فیصلہ نہیں آیا۔ ارکان اسمبلی کی شکایات سامنے آئیں کہ انھیں پارلیمان کے اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت راتوں رات تبدیل کرائی گئی۔ سینیٹ انتخابات میں مداخلت ہوئی۔ جنوبی پنجاب میں سیاست دانوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں۔ تاریخ میں پہلی بار ان معاملات میں براہ راست اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کیا گیا۔تاہم بعض ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بہت بڑی اکثریت ان پڑھ ہے۔ میڈیا کے بارے میں اس کی کوئی رائے ہو سکتی ہے۔ لیکن اس طرح کے لوگ فوج یا عدلیہ کے بارے کیا تاثر قائم کر سکتے ہیں؟۔پاکستان کی فوج نے تاریخ میں پہلی بار گزشتہ دس سال میں سویلین امور اور آئینی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ عدلیہ نے صرف حکومت کے غلط کاموں کو روکا ہے۔ چنانچہ فوج اور عدلیہ سے متعلق معاملات پہلے سے بہتر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں منفی تاثر تعلیم سے محرومی کا نتیجہ ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پلڈاٹ کی رپورٹ نہ صرف درست ہے بلکہ انھوں نے کافی احتیاط سے کام لیا ہے۔ اصل صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ قبل از انتخابات دھاندلی ہو چکی۔ اس کا انتخابات پر جو اثر پڑ سکتا ہے، وہ پڑے گا۔ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی اگر خواہش ہو تو وہ آئندہ دو ماہ میں کچھ بہتری لا سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی میڈیا خوف کا شکار ہے اور سیلف سنسرشپ سے کام لے رہا ہے۔ ان حالات میں عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو اسے منظرعام پر لانے کی جرات نہیں کر سکے گا۔پاکستان میں کئی سیاست دان اور تجزیہ کار ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ آئندہ عام انتخابات میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے بعض حلقوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ لیکن سیاست دانوں کے الزامات پر دھیان نہیں دیا گیا اور تجزیہ کاروں کی رائے کو تعصب پر مبنی قرار دیا جاتا رہا۔لیکن اب پلڈاٹ کی رپورٹ کے بعد ان خدشات کو مزید تقویت ملنے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے پنجاب سے قومی و صوبائی اسمبلی کیلئے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے والے چوہدری نثار کے دونوں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر امیدوار کھڑے نہیں کیے گئے، ملتان سے جاوید ہاشمی پارٹی ٹکٹ سے محروم رہے۔مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جاری کردہ فہرست کے مطابق پنجاب سے قومی اسمبلی کی 26 اور صوبائی اسمبلی کی 107 نشستوں کے امیدواروں کا فیصلہ نہ ہوسکا۔فہرست کے مطابق، شاہد خاقان عباسی اور حنیف عباسی راولپنڈی سے الیکشن لڑیں گے، این اے 73سیالکوٹ سے سابق وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف، نارووال کے حلقے این اے 77 سے دانیال عزیز اور این اے 78 سے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال ن لیگ کے امیدوار ہوں گے۔ میانوالی کے حلقے این اے 95 سے حاجی عبیداللہ خان شادی خیل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا مقابلہ کریں گے
جب کہ فیصل آباد کے حلقے این اے 102 سے طلال چوہدری امیدوار ہوں گے۔مسلم لیگ(ن) کے گڑھ لاہور کے حلقے این اے 123 سے محمد ریاض ملک، این اے 124 سے حمزہ شہباز شریف اور این اے 125 سے سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز الیکشن لڑیں گی۔ حمزہ شہباز صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 146 اور مریم نواز صوبائی نشست پی پی 173 لاہور سے بھی امیدوار ہوں گی۔لاہور کے حلقے این اے 129 سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور این اے 131 سے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف لاہور کے حلقے این اے 132 اور لیہ میں 192 سے جب کہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پی پی 164 اور پی پی 165 سے انتخابی اکھاڑے میں اتریں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے این اے 59 اور این اے 63 سے چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق، چوہدری نثار کے مقابلے میں امیدوار نہ کھڑا کرنے کا آپشن چوہدری نثار کے لیے پارٹی دروازے کھلے رکھنے کے لیے ہے۔ امیدوار نہ لانے سے چوہدری نثار کے لیے پارٹی دروازے کھلے ہیں۔پارٹی سے بغاوت کرنے والے زعیم قادری کی جگہ وحید عالم خان کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ابھی ٹکٹوں کی پہلی لسٹ جاری کی ہے جب کہ باقی حلقوں کی حتمی اور مکمل فہرست 2 دن میں جاری کی جائے گی۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ کے لیے مختلف امیدواروں کی طرف سے سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب جاری ہونے والی فہرستوں میں پارٹی پالیسی سے اختلاف رکھنے والوں کو فارغ کردیا گیا ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں انتخابی عملے، امیدواروں اور سیاسی قائدین کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ”نامکمل اور ٹمپر کردہ کاغذات” منظور کرنے پر لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے ریٹرننگ افسر کے اختیارات واپس لے لئے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چاروں صوبائی چیف سیکریٹریوں کو خصوصی مراسلہ جاری کیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ عام انتخابات کے صاف شفاف انعقاد کیلئے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کئے جائیں اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے جلد لگائے جائیں۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کو بھی سیکیورٹی دی جائے۔ مراسلے میں کہا گیا ہیکہ چاروں حکومتیں امیدواروں کو سیکیورٹی فراہم کریں، امیدواروں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی سیکیورٹی فراہم کی جائے۔کمیشن کی ہدایات پر عمران خان، شہباز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان سمیت ملک بھر میں دس ہزار سے زائد سیاستدانوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔دوسری جانب، لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس عبادالرحمن لودھی نے این اے 57 مری سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ”نامکمل اور ٹمپرنگ شدہ کاغذات” منظور کرنے پر ریٹرننگ افسر کے اختیارات واپس لے لئے ہیں، جب کہ سابق وزیر اعظم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون کو طلب کرلیا ہے۔جسٹس عبادالرحمن لودھی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 25 جون خود یا بذریعہ وکیل پیش ہوں۔ اگر ”نامکمل اور ٹمپرنگ شدہ” کاغذات منظور ہوں تو شفاف انتخاب کیسے ہو سکتے ہیں۔ ریٹرننگ افسر بتائیں آپ کیسے شفاف انتخابا ت کرائیں گے، بادی النظر کاغذات کی منظوری غیر قانونی ہے”۔ جبکہ بلوچستان کے سابق گورنر، نواب ذوالفقار علی مگسی نے صوبے میں قائم ہونے والی نئی سیاسی جماعت، بلوچستان عوامی پارٹی کو پرانی جماعتوں کے لئے چیلنج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کے قیام کو جمہوری عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ صوبے کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جماعت کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبے کی عوام نے جمہوری عمل میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔نواب ذوالفقار علی مگسی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ یہی سیاسی عمل ہے اور جمہوریت میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعت بنانا ہر ایک کا سیاسی حق ہے۔ لیکن، نئی سیاسی جماعت صوبے کی دیگر جماعتوں کیلئے کوئی چیلج ہرگز نہیں ہے۔نواب مگسی کے مطابق، نئی جماعت کو استحکام حاصل کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ پرانی جماعتوں کو نئی پارٹی کے قیام سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ نئی جماعت صوبے کی سطح کی جماعت ہوگی اس کے اثرات وفاق تک نہیں پہنچیں گے۔بقول ان کے، یہ بلوچستان کی سطح کی پارٹی ہے اس کے اثرات دیگر صوبوں یا وفاق تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔مبصرین کا کہنا تھا کہ جمہوریت بنیادی طور پر عوام کی شرکت کا نام ہے؛ اور چونکہ بلوچستان ایک مختلف صورتحال سے گزر رہا ہے، اس لئے اس جماعت کے منظر عام پر آنے کا مطلب ہے کہ بلوچستان کے عوام نے جمہوری نظام میں شرکت کا آغاز کر دیا ہے۔ان کے الفاظ میں، اس جماعت کے قیام سے ان عوام کو جو کسی دوسرے پلیٹ فارم سے بولنا نہیں چاہتے یا بول نہیں سکتے انھیں ایک پلیٹ فام مہیا ہوگیا ہے۔ اب یہ پلیٹ فام کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ بات آئندہ چند ماہ میں سامنے آ جائے گی۔ نئی سیاسی جماعت خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہوتی ہے۔ یہ پرانی اور مستحکم سیاسی جماعتوں کے لئے کبھی خطرہ نہیں بنتں۔ نئی سیاسی جماعت کے اثرات بلوچستان سے باہر نہیں جا سکیں گے؛ اور براہ راست فیڈریشن کو متاثر نہیں کرسکیں گے۔ لیکن، اگر صوبے میں انھیں توجہ ملی تو شائد صوبے کی نمائندہ جماعت بن جائے۔انھوں نے نئی سیاسی جماعت کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ ادارے جب اپنی جگہ کام کرنے لگیں، اور سیاسی جماعتیں چھلنی سے گز رہی ہوں؛ تو پھر مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اور یہی سیاسی عمل کا خاصہ ہے۔ عوام میں ان کی مقبولیت ہی ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

مردہ سماج کی زندہ آواز

  عاصمہ جہانگیرپاکستانی تاریخ میں زندہ دلی کی مثال ہیں۔کچھ دوست سماجی ...