بنیادی صفحہ / قومی / کیاحکومت کا احتساب اپوزیشن کرے گی؟

کیاحکومت کا احتساب اپوزیشن کرے گی؟

پارلیمانی احتساب اور پارلیمانی بحث دونوں کا ایک ہی وقت ایک ہی جگہ ہونا ضروری ہے
اچھا لیڈر قوم کے حالات دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ بہتر کیا ہو سکتا ہے, حکومت کی ساکھ اس پر منحصر ہے کہ ہم کتنی قانون سازی کرتے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی گفتگو
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
مکالمہ پارلیمانی سیاست کا بنیادی مقصد ہے۔ جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو پارلیمانی رکاوٹیں ڈالنے سے بچنا چاہئے۔ یہ کم از کم غیر معمولی معاملات میں استعمال ہونے والا ایک ہتھیار ہے۔ پارلیمانی احتساب پارلیمانی بحث کے طور پر اہم ہے۔ دونوں کا ایک ہی وقت ایک ہی جگہ ہونا ضروری ہے۔ہم کتنے جمہوری سوچ اور رویے رکھتے ہیں۔ وہ سٹیڈنگ کمیٹیوں کے قیام کے تاخیری حربوں سے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ ہم پارلیمانی جمہوریت اور جمہوری رویوں کے بغیرجمہوریت کو فروغ نہیں دے سکتے ہیں۔تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور ان کمیٹیوں کی سربراہی اس فارمولے کے تحت تقسیم ہو گی جو گذشتہ حکومت کا تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جو اپوزیشن کے پاس کمیٹیاں تھیں وہ ان کے پاس(رہیں گی)اور جو حکومت کے پاس تھیں وہ (موجودہ) حکومت کے پاس جائیں گی۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ اجلاس تک قائمہ کمیٹیاں تشکیل پا جائیں۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر حزبِ اختلاف سے اب کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے’ جبکہ دونوں جانب مسئلہ صرف میڈیا اور اخباروں کی حد تک ہی ہے۔واضح رہے کہ مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی بعض خبروں میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن نے غیر اہم قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان میں جولائی میں ہونے والے انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی اور حکومت سازی کے بعد سے تاحال قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے ایوان میں قانون سازی کا عمل بھی شروع نہیں ہو سکا۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی صدارت قائدِ حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو نہ دینے کے فیصلے کے باعث حزب اختلاف نے ان کمیٹیوں میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔شہباز شریف کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین بنائے جانے کے حوالے سے وزیراعظم کی مخالفت سے متعلق سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ‘وزیراعظم کا اپنا نقطہ نظر تھا، حزبِ اختلاف کا اپنا، میں نے دونوں کو انگیج کیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔ وزیراعظم نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے مقاصد کے لیے (قائد حزب اختلاف کے حق میں ) فیصلہ کیا۔انھوں نے دعوی کیا کہ اس معاملے پر انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو دلائل کے ساتھ قائل کیا۔سپیکر کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کو ایک میز پر لے آئیں۔اس سوال پر کہ اس فیصلے کو پی ٹی آئی اور خصوصا وزیر اعظم عمران خان کا یو ٹرن قرار دیا جا رہا ہے اور بظاہر اس سے پی ٹی آئی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے، اسد قیصر نے اسے یو ٹرن نہیں بلکہ ‘ایڈجسٹمنٹ’ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ‘اچھا لیڈر قوم کے حالات دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ بہتر کیا ہو سکتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ساکھ اس پر منحصر ہے کہ ہم کتنی قانون سازی کرتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گذشتہ ہفتے ہی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹی ہے۔اس سے قبل وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف رہا ہے کہ چونکہ گذشتہ حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی ہی رہی ہے، تو میاں شہباز شریف کیسے اپنی ہی حکومت کے خلاف آڈٹ پیراز کی چھان بین کرسکیں گے؟۔اس سوال پر کہ حکومت کی تشکیل کے چار ماہ بعد بھی قانون سازی کا آغاز نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ محض 100 دنوں میں قانون سازی کی امید کی جا رہی ہے۔اگر کوئی ہماری کارکردگی دیکھنا چاہتا ہے تو ہماری کارکردگی پانچ سال پر محیط ہو گی، ہم سیاسی اور معیاری قانون سازی کریں گے اور یہی ہماری اولین ترجیح ہو گی’۔انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے حالیہ اجلاسوں میں پانی، معیشت اور دہشت گردی جیسے بڑے معاملات پر بحث ہوئی اور قراردادیں منظور ہوئیں۔اس سوال پر کہ کن ایشوز پر قانون سازی کے لیے کام کا آغاز ہو چکا ہے تو انہوں نے کہا کہ سول پروسیجر ایکٹ اور نیب پر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کام شروع کیا گیا ہے۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ انھوں نے شہباز شریف کو پی اے سی کا سربراہ بنانے کے معاملے پر عمران خان کو دلائل سے قائل کیاسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس وقت ایوان میں پولرائزیشن بلند ترین سطح پر ہے اور ان کی کوشش ہے کہ وہ حکومت اور حزب اختلاف کو ایک میز پر لے آئیں۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اچھی اپوزیشن ملی ہے اور اپوزیشن مشکل ہو تو حکومت کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔’ہم پر تنقید ہو رہی ہے اور ہم اس کا جواب بھی دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف احتجاج بھی کرتی ہے جو ان کا قانونی حق ہے۔ میری کوشش ہے کہ ان کو اس سطح پر لاں کہ وہ اپنا نقطہ نظر بھی دیں، احتجاج بھی کریں، لیکن پارلیمانی آداب اور اسمبلی کے رولز کے اندر رہتے ہوئے یہ سب کریں۔سپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کے لیے پارلیمان میں ایک گھنٹے کا وقفہ سوالات مختص کرنے کے لیے مجوزہ ترمیم سے متعلق کہا کہ قومی اسمبلی کے رولز میں ترمیم کے لیے قرارداد پیش کی گئی لیکن حزب اختلاف کی خواہش تھی کہ یہ معاملہ پہلے کمیٹی میں زیرِ بحث لایا جائے۔انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تاخیر کی وجہ بھی کمیٹی کی تشکیل نہ ہونا ہی ہے۔واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے یہ ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔اسد قیصر کے مطابق سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ شہباز شریف کے معاملے سے مختلف ہے۔’شہباز شریف قائد حزبِ اختلاف ہیں، میں نے اسمبلی بھی چلانی ہے، میں نے مختلف سٹیک ہولڈرز کو انگیج بھی کرنا ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ چیزوں کو پراپر ٹریک پر لے آوں۔انھوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں مشاورت کی ضرورت تھی۔ ‘کچھ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں، اس لیے میں چاہتا تھا کہ اس معاملے پر مشاورت ہو، اور غلطی کی گنجائش نہ ہو۔واضح رہے کہ خواجہ سعد رفیق کو گذشتہ ہفتے نیب نے بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف بھی ان دنوں نیب کے ایک مقدمے میں گرفتار ہیں تاہم انھیں قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے لایا جاتا ہے۔مسلم لیگ نواز نے سپیکر کو ایوان زیریں کے رواں اجلاس کی کارروائی میں خواجہ سعد رفیق کی شرکت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست دی ہے جس پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا اور مسلم لیگ ن نے فیصلے تک ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔جبکہ وفاقی وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کا گرین سگنل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ اقدام جمہوریت کی مضبوطی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے اٹھایا ہے۔اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری متعدد بار کہہ چکے تھے کہ وہ کسی طور پر بھی میاں شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے کیونکہ ان کے خلاف نہ صرف نیب کے مقدمات ہیں، بلکہ گذشتہ حکومت بھی ان کی جماعت کی تھی۔وفاقی حکومت اس بارے میں یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ چونکہ گزشتہ حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی ہی رہی ہے، تو میاں شہباز شریف کیسے اپنی ہی حکومت کے خلاف آڈٹ پیراز کی چھان بین کرسکیں گے؟۔قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ اگر میاں شہباز شریف کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین نہ بنایا گیا تو وہ کسی بھی قائمہ کمیٹی کا حصہ نہیں بنیں گی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انھیں صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کی مضبوطی کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں بلکہ حزب مخالف کی جماعتوں پر بھی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وفاقی حکومت یہ معاملہ اپوزیشن لیڈر پر چھوڑتی ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کر دیں اور اگر وہ خود بھی چیئرمین بننا چاہیں تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔انھوں نے کہا ہم نے قائدِ حزبِ اختلاف کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ اپنی مرضی کے کسی بھی شخص کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کر دیں۔ لیکن اگر آپ خود چیئرمین بننا چاہتے ہیں تو بھی ٹھیک ہے۔ جمہوریت کی بقا کی خاطر اور اس ایوان کو فعال رکھنے کے لیے ہم آپ کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے۔’شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کرنی ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا۔ انھوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوئی تو اس کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوگی بلکہ تمام جماعتیں اس کی ذمہ دار ہوں گی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کرنی ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ نہ بننے کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اگر سابق حکومت کے آڈٹ پیرا کی باری آئے گی تو وہ اس اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے۔قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بدعنوانی کا ایک بھی الزام ثابت ہو جائے تو وہ زندگی بھر کے لیے سیاست چھوڑ دیں گے۔انھوں نے کہا کہ نیب کے حکام نے انھیں صاف پانی کے مقدمے میں بلایا تھا لیکن انھیں آشیانہ ہاسنگ سکیم میں گرفتار کر لیا گیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب نے صاف پانی کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا ہے لیکن اس ریفرنس میں ان کا نام ہی نہیں ہے۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت اور نیب کے درمیان ایک ناپاک اتحاد ہے۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ نیب کو صرف حزب مخالف کی جماعتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ خود وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے خلاف ریفرنس ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ انھیں رکن پارلیمان کا حلف اٹھائے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج پارلیمنٹ مکمل ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت نے پندرہ سال پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر ان دونوں جماعتوں میں سے کسی کی بھی حکومت آئے تو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین قائد حزب اختلاف ہوں گے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں جس جس وزارت اور محکمے کو جو پیسے ملتے ہیں اس کی آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لینا پبلک اکانٹس کمیٹی کا کام ہوتا ہے۔پبلک اکاونٹس کمیٹی مختلف سرکاری محکموں کو دی جانے والی سالانہ گرانٹس اور فنڈز سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کو زیر بحث لاتی ہے اور جس ادارے کی سربراہ کو اس ضمن میں طلب کیا جائے تو اسے اس گرانٹ سے متعلق پبلک اکانٹس کمیٹی کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔مطمئن نہ ہونے کی صورت میں کمیٹی اس معاملے میں ایف آئی اے یا کسی بھی تفتیشی ادارے کو تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔پبلک اکانٹس کمیٹی کے چیئرمین کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کو طلب کرسکتا ہے۔سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں پبلک اکانٹس کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ متعدد بار نیب کے چیئرمین کو بھی طلب کر چکے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری متعدد بار کہہ چکے تھے کہ وہ کسی طور پر بھی میاں شہباز شریف کو پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے۔چونکہ پبلک اکانٹس کمیٹی کا کام حکومت کو ملنے والے پیسوں کا حساب کتاب لینا ہوتا ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق حکومت کا اپنا چیئرمین ہونا مناسب نہیں۔مسلم لیگ ن کے سابق صدر نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے مطابق قائد حزب اختلاف کو چئیرمین بنانے کی روایت ڈالی گئی تھی۔ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھ کر نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت میں یہ شق رکھی تھی کہ آپوزشین لیڈر کو ہی پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ‘ماضی میں پبلک اکانٹس کمیٹی کا چیئرمین حکومت اپنا ہی لگا دیتی تھی، یہی وجہ ہے کہ آج تک پبلک اکانٹس کمیٹی پاکستان میں ادارے کی حیثیت نہیں حاصل کر سکی۔’پیسے کو صحیح جگہ خرچ کرنے کو یقینی بنانا اور غلط جگہ خرچ کرنے سے روکنے کا کام ماضی میں پبلک اکانٹس کمینی نہیں کر سکی۔ اسی وجہ سے یہ راستہ نکالا گیا کہ حکومت کا احتساب آپوزیشن کرے یہ ایک اچھا حل تھا کیونکہ اگر حکومت بھی میری ہو اور پبلک اکانٹس کا چیئرمین بھی میرا تو یہ مناسب نہیں۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

متنازعہ ویڈیو: چور مچائے شور کا بیانیہ اب نہیں چلے گا۔ فردوس عاشق اعوان

رپورٹ: حبیبہ گلزار ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) وزیراعظم عمران ...