بنیادی صفحہ / سیاست / کمزور طبقے کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان

کمزور طبقے کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان

ادارے مضبوط بنانا اور بیوروکریسی سیاست کا خاتمہ اولین ترجیح ہوگی.  عمران خان
پی ٹی آئی حکومت عوام کو با اختیار اور بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائے گی.  عمران خان
بارہ ارب ڈالر کی بات میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی۔ اسد عمر


رپورٹ: چودھری احسن پریمی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممکنہ حکومت جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے منافع بخش انعامی بانڈز جاری کرنے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں وہ عوام کو اپنے پہلے 100 روز میں ریلیف دیتی نظر نہیں آرہی۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان کے ممکنہ وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ابتدائی 100 روز میں عوام کو ریلیف دیا پھر سبسڈی دینا لولی پاپ دینے کے مترادف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے ابتدائی 100 روز میں ایسے فیصلے دیکھنے کو نہیں ملیں گے جن سے قوم کی قسمت بدل جائے لیکن حکومت کو ان دنوں میں آئندہ کے لیے وہ سمت مل جائے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔اسد عمر نے شکایت کی کہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے ان کی 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت، 2 سو سے زائد کمپنیوں بشمول پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے)، پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) و دیگر کے حوالے سے کی گئی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ پر نظر ثانی کے حوالے سے بات چیت نہیں کی گئی جبکہ غیرملکی قرضوں میں غیر شفافیت بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔اسد عمر نے بتایا کہ پی ٹی آئی کو ابھی حقیقی اعداد و شمار تک رسائی نہیں ہے تاہم موصول ہونے والے بہترین اطلاعات کی بنیاد پر ایک بات واضح ہے کہ ہمیں تمام موجود آپشن کو زیرِ غور لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں تاہم حکومت کے آئندہ 6 ہفتوں میں عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی مدد سمیت تمام آپشن کو مساوی دیکھیں گے۔ممکنہ وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ان کے پاس سکوک بانڈ، یورو بانڈ، دو طرفہ اور کثیر الجہتی آپشن موجود ہیں لیکن ان کی جماعت بڑے پیمانے پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کا تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ جذبات کا تعلق ہے، تاہم ہم نے منصوبہ تیار کیا ہے کہ ہم انہیں پہلے کے مقابلے میں بہتر منافع کے ساتھ ڈیب انسٹرومنٹ جاری کریں گے، تاکہ وہ قوم کی ترقی میں زیادہ احسن طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔اسد عمر نے کہا کہ تمام حکومتی اقدامات میں شفافیت ہونی چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے جب تک اس میں کوئی حقیقی راز شامل نہ ہوجائے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما عمران خان نے انتخابات 2018 کے لیے اپنی جماعت کے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں تمام پہلوں پر مفصل بحث کی گئی جسے بنانے میں الیکشن سیل کا اہم کردار ہے۔اسلام آباد میں انتخابی منشور پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومت کو بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ریونیو جمع کرنے کا نظام نہیں ہے، گزشتہ 10 سال میں ملکی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اپنی جماعت کے انتخابی منشور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ہی منشور پر عمل کرنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑے گی، جبکہ اس میں وہ چیز شامل نہیں کی جو قابلِ عمل نہیں ہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملک میں ملازمتیں فراہم کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے، تاہم حق داروں کو نوکریاں کیسے دینی ہیں اس کے لیے ہم گزشتہ چند سالوں سے منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔عمران خان نے گزشتہ دورِ اقتدار میں خیبرپختونخوا حکومت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے خیبرپختونخوا پولیس کو غیر سیاسی کرنے کی کوشش کی اور صوبے میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی، جو مثالی پولیس کی بدولت ممکن ہوسکا۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ ملک میں قانون بھی سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔عمران خان نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہم اداروں کو مضبوط کریں گے اور پاکستان کی بیوروکریسی سے سیاست کو ختم کیا جائے گا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات بھی پی ٹی آئی کی ترجیحات میں شامل ہیں اور اس ادارے سے سیاسی اثر و رسوخ ختم کرکے خود مختار ادارہ بنائیں گے۔تحریک انصاف نے اپنے منشور میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائے گی، جس کے لیے باقاعدہ مہم شروع کی جائے گی۔عمران خان نے نیب آرڈیننس کا از سرنو جائزہ لینے اور چیئرمین نیب کے تقرر کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کا بھی اعلان کیا۔ پی ٹی آئی قومی احتساب بیورو (نیب) کو خود مختار بنائے گی اور کرپشن کے تمام مقدمات کا پیچھا کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے منشور میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی عوام کو با اختیار بنائیں گی اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات اور فیصلہ سازی گاں کی سطح تک منتقل کرے گی۔پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی طرز پر غیر سیاسی پولیس کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی متعارف کروائے گی۔شہریوں کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے ہم عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کریں گے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہم انتظامی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات اور عوام کو خدمات کی فراہمی کے ذریعے کراچی میں انقلابی تبدیلیاں برپا کریں گے۔پی ٹی آئی فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور خصوصی مالی و سائل مختص کرے گی۔بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیا جائے گا، جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک کی حمایت کی جائے گی اور گلگت بلتستان کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی طریقہ کار اپنایا جائے گا اور غربت کے خاتمے کی موجودہ کاوشوں کو مزید تقویت پہنچائی جائے گی۔اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور قومی معاملات میں سمندر پار پاکستانیوں کے کردار میں اضافہ کیا جائے گا۔تحریک انصاف کا اپنے انتخابی منشور میں کہنا ہے کہ ہم ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے اور 50 لاکھ گھر بنائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دیا جائے گا، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو بحال کیا جائے گا اور آئی ٹی کے شعبے میں فروغ دیا جائے گا۔ہم ایف بی آر میں اصلاحات متعارف کروائیں گے، ویلتھ فنڈ کے قیام کے ذریعے ریاست کے زیرِ ملکیت اداروں کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے اور عوام کے لیے سرمائے کی دستیابی یقینی بنائیں گے۔منشور میں پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو کاروبار دوست بنائیں گے اوردو طرفہ روابط قائم کر کے سی پیک کو گیم چینجر میں تبدیل کریں گے۔ہم توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔عمران خان کی جانب سے پیش کردہ منشور میں کہا گیا کہ ہم پانی کے انتظام کو بہتر بنانے اور پانی کا ضیاع روکنے کے لیے فوری طور پر ڈیم تعمیر کریں گے اور قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے۔ہم آبی تنازعات کے حل کے لیے ہر ممکنہ فورم استعمال کریں گے، زراعت کو کسان کے لیے منافع بخش بنائیں گے، پیداواری لاگت کم کریں گے، زرعی منڈیوں کی اصلاح کریں گے اور ویلیو ایڈیشن میکانائزیشن کے لیے سہولیات کی فراہمی کا بیڑا اٹھائیں گے۔ہم لائیو اسٹاک کے شعبے میں نمایاں بہتری لائیں گے، پاکستان کو دودھ اور دودھ سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں خود کفیل بنائیں گے اور برآمد ات میں اضافے کیلئے گوشت کی پیداوار بڑھائیں گے۔ہم ماہی گیری کی صنعت بحال کریں گے اور مچھلی کے ذخیرے میں اضافہ کریں گے۔ تحریک انصاف تعلیم کی اصلاح کے مجموعی ایجنڈے کے تحت ملک بھر کے اسکولوں، جامعات، ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز اور دینی مدارس
میں اصلاحات متعارف کرائے گی۔صحت کے شعبے میں بھی انقلاب لایا جائے گا، صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار پورے ملک میں وسیع کیا جائے گا۔تعلیم اور روزگار میں درپیش مسائل کو دور کرتے ہوئے نوجوانوں پر خصوصی سرمایہ کاری کی جائے گی۔پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور ماحولیات کے تغیر کو مٹانے کے لیے 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔عمران خان کی جانب سے پیش کردہ منشور کے مطابق ان کی جماعت الیکشن میں فتح یاب ہونے کے بعد اہم داخلی و خارجی سلامتی پالیسی کے لیے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح کریں گے۔ہم خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات اور بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے رہنما اصولوں پر استوار کریں گے اور تنازعہ کشمیر کے حل پر کام کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ہم ریاست کو اندرونی طور پر لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف سطح پر دہشت گردوں کے نظریے، انسانی و سائل، مالیات اور اسلحہ کو شکست دیں گے۔دفاعی صلاحیت کے حوالے سے منشور میں کہا گیا کہ کم از کم دفاعی اصلاحیت یقینی بنانا تحریک انصاف کی دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر اسلحے پر قابو پانے اور اس کے عدم پھیلا کے اقدامات کے حوالے سے مساوات کے اصول کے پیشِ نظر بھارت کو اسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دی جائے گی۔انتخابی منشور کے مطابق یہ واحد صوبہ ہے جس نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کیے اور ترقیاتی فنڈز کا 30 فیصد حصہ مختص کیا، یہاں پولیس کو غیر سیاسی بنایا گیا اور اہلیت کی بنیاد پر پیشہ ورانہ نظام نافذ کیا۔صحت کے بجٹ میں 3 گنا اضافہ کیا ،70 فیصد مستحق گھرانوں کو صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا گیا اور ہسپتالوں میں 5 ہزار بستروں کااضافہ کیا۔تعلیم کے لیے کم از کم 20 فیصد سالانہ بجٹ فراہم کیا، اہلیت کی بنیاد پر 57 ہزار اساتذہ بھرتی کیے اور 10 ہزار اسکول، 47 کالجز اور 10 جامعات قائم کیں، جبکہ بون چیلنج کو پورا کرتے ہوئے صوبے میں ایک ارب درخت لگائے۔جبکہ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سب تیار رہیں۔ نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلی کے لیے ایک نوجوان لا رہا ہوں جو کلین ہوگا اور اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں پنجاب بھر سے نو منتخب اراکین پنجاب اسمبلی سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار شریک ہوئے۔اجلاس میں تحریک انصاف کی مرحوم رہنما سلونی بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب کی تقرری اور کابینہ امور پر مشاورت ہوئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے شرکا کو پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا۔بعد ازاں نو منتخب اراکین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ آپ سب نے اتنا مشکل الیکشن لڑا۔ انتخابات کے روز خیبر پختونخوا میں ہم سب سے آگے تھے جبکہ پنجاب میں پانی پت کی جنگ تھی، پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کا مقابلہ تھا۔ کئی لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیے اور وہ آزاد جیت گئے۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں دو قسم کی سیاست ہے، پہلی ذاتی سیاست جو صرف پیسہ کمانے کیلئے ہے، اس نے لوگوں کو ذلت دی کیونکہ لوگ عوام کا نام لے کر اقتدار میں آ کر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ دوسری سیاست وہ ہے جو پیغمبروں نے کی۔ سارے پیغمبر انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سب تیار رہیں نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہی ہوگا۔ اصل جنگ پنجاب میں ہے، آپ سب نے یہ جنگ لڑنی ہے۔ پنجاب میں بہترین وزیرِ اعلی لاوں گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں۔ یہ نوجوان کلین ہوگا۔ اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔ آپ سب اس نوجوان کو سپورٹ کریں جب کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے۔ وہاں کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے اور کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے۔ پنجاب کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں۔ میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا جب کہ ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے۔ ذاتی سیاست میں عوام کا نام لے کر اقتدار میں آکر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) ایک ادارہ بنے۔ ہمیں ٹکٹ دینے کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہم میرٹ پر ابھی سے آئندہ الیکشن کی تیاری کریں گے۔پنجاب میں وزارت اعلی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعوی کیا ہے اور آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا کہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن) بھی آزاد ارکان سے رابطہ میں ہے اور حکومت سازی کی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتی نظر آ رہی ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

مردہ سماج کی زندہ آواز

  عاصمہ جہانگیرپاکستانی تاریخ میں زندہ دلی کی مثال ہیں۔کچھ دوست سماجی ...