بنیادی صفحہ / قومی / پاکستان مذہبی آزادی پر مبنی امریکی رپورٹ کو مسترد کرتا ہے۔ وزارت خارجہ

پاکستان مذہبی آزادی پر مبنی امریکی رپورٹ کو مسترد کرتا ہے۔ وزارت خارجہ

مذہبی ا زادی پر عدم اطمینان، پاکستان کو بلیک لسٹ والے ممالک میں شامل کیا جائے۔ امریکہ وزیرخارجہ
امریکہ کی بھارت میں اقلیتوں کے عدم تحفظ پر سخت تنقید
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
پاکستان نے امریکی رپورٹ کے اعدادو شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر اجتماعی معاشرہ ہے جہاں متنوع عقائد اور فرقہ وارانہ لوگوں کے ساتھ مل کر رہتے ہیں. ہماری کل آبادی کے تقریبا 4 فیصد مسیحی، ہندو،بدمت اور سکھ عقائد سے تعلق رکھتے ہیں. اقلیتوں کے برابر علاج کو یقینی بنانے اور کسی بھی تبعیض کے بغیر انسانی حقوق کے ان کے لطف اندوز ہوناپاکستان کے آئین کے اہم اصول ہے. خصوصی نشستیں اقلیتوں کے لئے پارلیمنٹ میں رکھی گئی ہیں تاکہ ان کی مناسب نمائندگی اور قانون سازی کے عمل میں یقینی بنائیں. اقلیتوں کے حقوق کے خلاف ورزی کے بارے میں خدشات کو حل کرنے کے لئے انسانی حقوق پر ایک متحرک اور آزاد نیشنل کمیشن کام کر رہا ہے. اقلیتوں کا تحفط کو حکومت نے اولین ترجیح دی ہے کہ اقلیت کے عقائد سے تعلق رکھنے والی شہریوں کے حقوق قانون اور آئین کی ضمانت کے طور پر محفوظ ہیں. ملک کے اعلی عدلیہ نے اقلیتوں کی خصوصیات اور مقامات کی عبادت کی حفاظت کے لئے کئی تاریخی فیصلے کیے ہیں. جبکہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں سے متعلق وزیر خارجہ کا بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ان ملکوں کا ذکر کیا ہے جنہیں مذہبی آزادیوں کی غیر تسلی بخش صورت حال رکھنے والی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے والے انتہاپسند گروپ بھی شامل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میں نے 28 نومبر 2018 کو برما، چین، اریٹیریا، ایران، شمالی کوریا، پاکستان، سوڈان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کو ایسے ممالک کے طور پر نامزد کیا تھا جہاں بین الاقوامی آزادیوں کے ایکٹ برائے 1998 کے حوالے سے مذہبی آزادیوں کی منظم یا قابل اعتراض خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے یا انہیں نظرانداز کرنے کے سلسلے میں خاص طور پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ میں نے کاموروس، روس اور ازبکستان کو ان حکومتوں کی خصوصی نگران لسٹ میں ڈال دیا ہے جو مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں یا انہیں نظر انداز کرنے میں ملوث ہیں۔بیان میں انتہاپسند گروپس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میں نے النصر فرنٹ اور القاعدہ کو جزیرہ نما عرب میں، القاعدہ، الشباب، بوکوہرام، ہوثی، آئی ایس آئی ایس ، آئی ایس آئی ایس خراسان اور طالبان کو ایسے عناصر کے طور پر نامزد کر دیا ہے جن کے متعلق خصوصی طور پر تحفظات موجود ہیں۔کرہ ارض پر بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں افراد محض اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی وجہ سے بدستور ہراساں کیے جانے، گرفتاریوں یا حتی کہ ہلاکتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکہ اس طرح کے دبا اور زیادتیوں کو ایک تماشائی کے طور پر نہیں دیکھے گا۔ بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کا تحفظ اور فروغ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ایک اولین ترجیح ہے۔گزشتہ جولائی میں میں نے مذہبی آزادیوں میں پیش رفت کے حوالے سے پہلی وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں 85 ہم خیال حکومتوں اور سول سوسائٹی کی 400 سے زیادہ تنظیموں نے مذہبی آزادیوں سے متعلق انسانی حقوق کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے اور اس سلسلے میں مضبوط تر اقدامات پر زور دینے کے لیے شرکت کی تھی۔امن، استحام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے مذہبی آزادیوں کا تحفظ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ملکوں اور گروپس کی اس فہرست میں نامزدگی کا مقصد افراد کی زندگیوں کا تحفظ اور اپنے معاشروں میں ان کی وسیع تر کامیابیوں کا حصول ہے۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ نامزد کردہ کئی ملک مذہبی آزادیوں کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میں اس جانب پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہوں اور ان سے بات چیت جاری رکھنے کی توقع رکھتا ہوں۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں کی جانب پیش رفت کے لیے، حکومتوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور مذہبی قیادتوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے بدستور پر عزم ہے۔
خصوصی توجہ کے حامل ملکوں کی فہرست میں نامزدگی سے کیا مراد ہے؟ انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم ایکٹ 1998 دنیا بھر میں مذہبی آزادیوں کی صورت حال کے سالانہ جائزے کا تقاضا کرتا ہے اور ان ممالک کو نامزد کرنے کے لیے کہتا ہے جو اس عرصے کے دوران مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہوں یا انہیں نظر انداز کرتے رہے ہوں۔بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے ایکٹ کے تحت مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں میں منظم، مسلسل جاری، سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں جن کے دائرے میں تشدد، تذلیل آمیز برتا یا سزا، کسی الزام کے بغیر طویل حراست، اغوا یا لاپتا کرنا، یا زندگی، آزادی اور لوگوں کے تحفظ دینے سے کھلم کھلا انکار بھی آتے ہیں۔امریکہ کے صدر نے کسی ملک کو اس فہرست میں نامزد کرنے کا اختیار وزیر خارجہ کو تفویض کر دیا ہے۔اسپیشل واچ لسٹ کے ملک سے کیا مراد ہے؟مذہبی آزادیوں کے ایکٹ میں 2016 کی ترمیم بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے فروغ کے لیے امریکی حکومت کو نئے اختیارات، وسائل اور ذمہ داریاں فراہم کرتی ہے۔ یہ ترمیم تقاضا کرتی ہے کہ صدر ان ملکوں کو خصوصی نگرانی کی فہرست میں نامزد کریں جو خصوصی توجہ کے حامل ملکوں کی فہرست کے تمام تقاضے پورے نہیں کرتے، لیکن وہ مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیوں میں یا تو ملوث ہیں یا پھر انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔اس فہرست میں نامزدگی کا اختیار بھی امریکہ کے وزیر خارجہ کو تفویض کیا گیا ہے۔خصوصی توجہ اور خصوصی نگرانی کے حامل ملکوں کی فہرست برائے 2017گزشتہ سال دسمبر میں وزیر خارجہ نے برما، چین، اریٹیریا، ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب، سوڈان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو خصوصی توجہ کے حامل ملکوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جب کہ پاکستان کو خصوصی نگرانی کے ملک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔اس سال پاکستان کی نامزدگی خصوصی توجہ کے حامل ملکوں میں کی گئی ہے۔جولائی میںامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو آزادی مذہب پر پہلے سربراہ اجلاس کی میزبانی کی، جس میں دنیا بھر سے سرکاری اہلکار، مذہبی رہنما، حقوق انسانی کے وکلا اور متمدن معاشرے کی تنظیموں کے وفود شریک ہوئے تھے۔پومپیو نے منگل 29 جولائی کے روز شروع ہونے والے اجلاس کے مقاصد کے بارے میں ویٹیکن نیوز کو بتایا تھاکہ یہ فی الواقع کھلے دل والی اور اہمیت کی حامل گفتگو ہوئی ہے۔بقول ان کے، اجلاس میں دنیا بھر کے ہر فرد کے لیے مذہبی آزادی کی اہمیت کے بارے میں بات کی گئی ہے۔دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو حق ہونا چاہیئے کہ وہ جس طرح چاہیں عبادت کریں؛ اگر وہ اس کے حق میں نہیں تو انھیں اس کی بھی اجازت ہونی چاہیئے۔پومپیو نے بتایا کہ اس سہ روزہ کانفرنس میں دنیا بھر سے 40 سے زائد وزرائے خارجہ شریک ہوئے، جو امریکی محکمہ خارجہ کے کسی اجلاس میں شریک ہونے والے وزرائے خارجہ کی سب سے بڑی تعدادہے۔انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ آزادی مذہب، انسانی حقوق اور معاشی مفادات میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔پومپیو نے کہا کہ جب لوگوں کو عمل کا اختیار ملتا ہے اور وہ اپنے مذہب پر آزادی سے عمل پیرا ہوتے ہیں، تو ان میں اچھائی کی صلاحیت فروغ پاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ سرمایہ کار ان ملکوں کو پسند کرتے ہیں جہاں مذہبی آزادی ہوا کرتی ہے، اور وہ مذہبی آزادی والے مقامات کو زیادہ سازگار مقامات خیال کرتے ہیں جہاں خطرات کم ہوتے ہیں۔ پاکستان نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے اس بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی خطرے سے دوچار ہیں۔مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ عالمی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھاکہ پاکستان میں مذہبی آزادی کو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے جہاں دو درجن سے زائد افراد کو توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت یا عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احمدی برداری کو سماجی امتیاز کا بھی سامنا ہے۔انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ اس وقت کے پاکستان کے نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ان
کی حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔اس وقت وزارت خارجہ کی معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نفیس ذکریا سے جب امریکی وزیر خارجہ کے بیان سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا وہ میڈیا رپورٹس پر ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔نفیس ذکریا نے کہا کہ مذہبی آزادی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ کو پڑھنے کے بعد ہی اس پر باقاعدہ ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔دوسری طرف پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے سابق جسٹس علی نواز چوہان نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں اپنے ردعمل میں کہا کہ” میں اس بات سے انکار نہیں کروں گا جو کچھ رپورٹ میں کہا گیا ہے لیکن اسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے لیکن اس میں کچھ سچائی ہے۔ وجہ یہ ہے اپنے معاشرے کے اندر تنا ہے وہ مذہبی اقلیتیںڈرتی ہیں اس وجہ سے ہمیں بھی تشویش ہے اس کے لیے ہم کوشش کر رہے اور حکومت سے بھی کہیں گے کیونکہ حکومت بھی نہیں چاہتی کہ مذہبی ہم آہنگی متاثر ہو۔انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ مہدی حسن کہتے ہیں کہ انتہا پسندی سماج کی مذہبی بنیادوں پر تفریق کا باعث بنی۔ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ” جو مذہبی اقلیتیں ہیں خاص طور احمد برادری ہے اس کو شدید مشکلات ہیں بے شمار احمدی خاندان ملک سے باہر چلے گئے ہیں اسی طرح بلوچستان اور سندھ میں رہنے والے بعض ہندو خاندان بھارت چلے گئے ہیں اور جو مسیحی برادری ہے وہ بھی کچھ زیادہ خوش نہیں ہے۔تاہم حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی وجہ سے تمام شہری ہی نشانہ بنتے رہے لیکن حکام کے بقول اب جبکہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی وجہ سے صورت حال میں بتہری آئی ہے تو مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر بھی کئی اقدمات کیے گئے ہیں۔ علی نواز نے کہا کہ حکومت نے اشتعال انگیز تقاریر اور منافرت پر مبنی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم کی روک تھام کے لیے بھی موثر اقدامات کیے ہیں۔واضح رہے کہ اقلتیوں کے قومی دن کے موقع پر پاکستان کی حکومت اپنے ایک پیغام میں مذہب، رنگ و نسل اور عقیدے سے بالا تر ہو کر ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہتی رہی ہے کہ تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں پاکستان میں سپریم کورٹ کی طرف سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے خلاف ماتحت عدالت کی طرف سے توہین رسالت کی سزا کے فیصلے کو منسوخ کئے جانے کے بعد توہین مذہب کا قانون ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس قانون کے حوالے سے انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حقوق کے بارے میں بین الاقوامی کوششیں کس حد تک متاثر ہوئی ہیں۔پاکستان میں جب سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو 2010 میں دی گئی سزا منسوخ کرنے کا فیصلہ دیا تو ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ماتحت عدالت نے توہین مذہب کے جرم میں پھانسی کی سزا کا حکم دیا تھا۔تاہم سپریم کورٹ کی طرف سے اس فیصلے کو مسترد کرنے کے بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے یہ فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے تینوں ججوں کے خلاف فتوی دیتے ہوئے انہیں واجب القتل قرار دے دیا۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس جماعت کے بیانات کی شدید مذمت کی۔ تاہم بعد میں حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ ایک تحریری سمجھوتہ طے کیا جس میں آسیہ بی بی کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے سلسلے میں قانونی کارروائی کرنے کی شق بھی شامل تھی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سمجھوتے کی شدید مذمت کی۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جو بات حقیقت میں دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں ملزم کو بری کر دیا گیا کیونکہ اس کے خلاف الزامات جھوٹے تھے۔ یوں امتحان اس بات کا ہے کہ کیا حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل دآمد کر پاتی ہے اور ججوں اور آسیہ بی بی کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے؟بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ دنیا کے 71 ملکوں میں توہین مذہب کو مجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے اور 6 ممالک میں اس جرم میں موت کی سزا سنائی جاتی ہے۔کمیشن کے گیری بوئر کے مطابق مشرق وسطی میں یہ قوانین اس انداز میں نافذ کئے جاتے ہیں جن سے مذہبی اقلیتوں کی مذہبی آزادی مجروح ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کو لوگوں سے بدلہ لینے، انہیں ہراساں کرنے اور ان کے اظہار کی آزادی کے حق کو محدود کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔بوئر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک مذہبی آزادی کی حمایت ختم کرنے کے لئے علاقائی سیکورٹی کے خدشات کو بہانہ نہیں بنا سکتے۔آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ کی طرف سے بریت کے نتیجے میں تحریک لبیک نے پورے ملک کے نظام کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا اور حکومت کی طرف سے سخت بیانات کے باوجود جس انداز میں ٹی ایل وائے آر کے ساتھ تحریری سمجھوتا کیا گیا، بہت سے تجزیہ کار اسے حکومت کی رٹ کی مکمل ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔تحریکِ لبیک اور دیگر تنظیموں کی جانب سے فوج کو بغاوت پر اکسانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس سلسلے میں حکومت وقت کا موثر کارروائی نہ کرنے کے اقدام کو تجزیہ کار ریاست کی کمزوری کا مظہر قرار دیتے ہیں۔آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزامات سے بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جب تحریکِ لبیک نے اپنے دھرنوں کے دوران اس کیس پر فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے تینوں ججوں کو واجب القتل قرار دے دیا تو خود سپریم کورٹ کی طرف سے بھی بظاہر کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تجزیہ کاروں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اکثر توہین عدالت کے الزام میں سزائیں سنائی ہیں۔ لہذا تحریکِ لبیک کے اس اقدام پر سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لیا جانا ناقابل فہم تھا۔تحریکِ لبیک نے بھی سڑکوں کے احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلے فیض آباد میں دھرنے کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آمدورفت کو مفلوج کر دیا اور پھر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی یہی انداز اپنایا۔ اس دوران لوگوں کی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا اور حکومت یہ سب دیکھتی رہی اور یہ دھرنے اس وقت ختم ہوئے جب حکومت نے تحریکِ لبیک کے مطالبات تسلیم کر لئے۔ان تمام واقعات سے کچھ نئی باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔یوں سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام صورت حال مجموعی طور پر ریاست کی کمزوری کی غمازی کرتی ہے؟۔تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ پارلیمان اور حکومت اپنی ذمہ داریاں بخوبی پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو وجود میں آئے ابھی دو ہی ماہ ہوئے تھے اور اقتدار میں آتے ہی اسے کئی ایک مشکل چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک بھر کو یرغمال بنا لینا بھی شامل ہے۔ مریکہ نے پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔گزشتہ منگل کو امریکی محکم خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ 28 نومبر کو کیا۔مائیک پومپیو کے مطابق انھوں نے سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو خصوصا تشویش والے ممالک میں شامل کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت کو پاکستان میں مذہبی آزادی پر موجود قدغنوں کے خاتمے کے لیے دبا ڈالنا ہو گا۔ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ برما، چین، اریٹریا، ایران، شمالی کوریا، سوڈان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔بیان کے مطابق یہ وہ تمام ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قانون 1998 کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں یا جہاں ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی جاتی ہیں۔پاکستان کو ایک برس قبل مذہبی آزادیوں کے حوالے سے نگرانی کی امریکی فہرست میں شامل کیا گیا تھا تاہم اب اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا میں نے کوموروس، روس اور ازبکستان کو ایسی حکومتوں کی واچ لسٹ میں ڈالا ہے جو یا تو خود مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہیں یا اسے نظر انداز کر رہی ہیں۔ مائیک پومپیو کا بیان میں مزید کہنا تھا میں نے النصرہ فرنٹ اور القاعدہ کو جزیرہ نما عرب میں اور دیگر علاقوں میں القاعدہ، بوکوحرام، الشباب، حوثی ، دولت اسلامیہ، دولتِ اسلامیہ خراسان اور طالبان کو خاص طور پر باعث تشویش قرار دیا ہے۔مائیک پومپیو کا اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا دنیا کے کئی دور درازحصوں میں اب بھی کئی لوگوں کو محض اپنے عقائد پر زندگی گزارنے کی وجہ سے ہراس، گرفتاری، اور حتی کے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں امریکہ محض تماشائی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قوانین کی حفاظت اور ان کا فروغ ٹرمپانتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا امن، استحکام اور خوشخالی کو یقینی بنانے کے لیے مذہبی آزادی کا تحفظ لازمی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ان ممالک کو اس فہرست میں شامل کرنے کا مقصد وہاں کے معاشروں میں افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ میں جانتا ہوں ایسے ممالک میں سے کئی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔بیان کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے معاملے میں حکومتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔حقوقِ انسانی کی تنظیمیں ماضی میں پاکستان میں اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بلند کرتی رہی ہیں۔امریکی سفیر برائے مذہبی آزادی سیم بران بیک نے ملک کے نئے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے راہ پر جانے کی امید کا اظہار کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا پاکستان کا ریکارڈ مایوس کن رہا ہے۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں توہین مذہب کے نصف سے زائد قیدی پاکستانی جیلوں میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اکثر مذہبی اقلیتوں کے قتل اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہی ہے۔’میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان کی نئی قیادت اس صورتحال میں بہتری کے لیے کام کرے گی۔ حال ہی میں اس حوالے سے کچھ حوصلہ افزا علامات دیکھی گئی ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین مذہب کی جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم ان کی رہائی کے بعد مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر مظاہرے کیے گئے۔حال ہی میں ان مظاہروں کی قیادت کرنے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے امریکی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جہاں مبینہ طور پر مذہبی آزادیوں کی یا تو سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے یا ان پر قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔اس فہرست کو خاص تشویش کے ممالک یا Countries of Particular Concern کہا جاتا ہے۔یو ایس سی آئی آر ایف کی تازہ رپورٹ میں جن 16 ممالک کے حوالے سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے ان میں برما، سنٹرل افریقی ریپبلک، چین، اریٹریا، ایران، نائیجیریا، شمالی کوریا، روس ، سعودی عرب، سوڈان، شام، تاجکستان، ترکمانستان، ویتنام اور ازبکستان بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ ان میں سے دس ممالک برما، چین، اریٹریا، ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب، سوڈان، تاجکستان، ترکمانستان، اور ازبکستان پہلے ہی امریکی وزارتِ خارجہ کی واچ لسٹ پر ہیں اور تازہ ترین رپورٹ میں ان کو اس فہرست پر رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔پاکستان کے حوالے سے امریکی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ سال سنگین ترین لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ایک مخصوص درجہ بندی قائم کی تھی جسے سپیشل واچ لسٹ قرار دیا گیا تھا اور اس پر صرف پاکستان تھا۔سنہ 1998 کے بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے قانون کے تحت بنایا گیا ادارہ امریکی وزارتِ خارجہ کو دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی آزادی کے حوالے سے تجاویز پیش کرتا ہے۔پاکستان کے حوالے سے چند نکات:رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں لشکرِ طیبہ، لشکرِ جھنگوی، دولتِ اسلامیہ خراسان، اور تحریک طالبان پاکستان جیسی تنظیموں نے مذہبی اقلیتیوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے ان دہشتگرد تنظیموں کو ٹھیس پہنچی ہے تاہم مذہبی اقلیتیوں کو ابھی بھی مشکلات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کی احمدی، شیعہ اور دیگر مذہبی اقلیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ اب بھی امتیازی سلوک معاشرتی طور پر جاری ہے۔ رپورٹ میں میڈیا پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ میڈیا اپنے الفاظ کے چنا کے حوالے سے اقلیتیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اس حوالے سے ٹی وی اینکر عامر لیاقت کی مثال بھی دی گئی ہے۔رپورٹ میں پاکستان کے تعلیمی نظام پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نصاب عدم برداشت کے بیچ عوام میں ہوتا ہے۔توہینِ مذہب کے قوانین کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان کے ذریعے مذہبی اقلیتوں خصوصا احمدیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنہ 2011 سے اب تک تقریبا 100 توہینِ مذہب کے کیسز کیے جا چکے ہیں اور تقریبا ایک سو افراد ایسے ہی مقدمات میں قید میں ہیں جن میں سے 40 کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ادھر یو ایس سی آئی آر ایف نے سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ انڈیا میں مذہبی آزادی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ادارے کی سنہ 2018 کی رپورٹ میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے تعلق سے نریندر مودی حکومت کے رویے پر کہا گیا ہے کہ انڈیا کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے کیونکہ وہاں ایک مذہب کی بنیاد پر جارحانہ طریقے سے قومی شناخت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس رپورٹ میں انڈیا کی دس ریاستوں اتر پردیش، آندھرا پردیش، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور کرناٹک کا ذکر کیا گیا ہے جہاں مذہبی آزادی کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ انڈیا کی باقی ریاستوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتیں زد پر نہیں ہیں۔یو ایس سی آئی آر ایف نے رواں سال 12 ممالک کو دوسرے درجے میں رکھا ہے جنھیں ‘نٹریز آف پرٹیولر نسرن’ یا سی پی سی کہا گیا ہے۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے تعلق سے حالات تشویش ناک ہیں۔ان ممالک میں افغانستان، آذربائیجان، بحرین، کیوبا، مصر، انڈیا، انڈونیشیا، عراق، قزاقستان، لاس، ملائیشیا اور ترکی شامل ہیں۔انڈیا کے حوالے سے مخصوص پانچ صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ‘وزیراعظم تشدد کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت کے لوگ انتہا پسند ہندو تنظیموں سے منسلک ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد مذہبی اقلیتوں کے تعلق سے ناروا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔انڈین حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے: یو ایس سی آئی آر ایف اس رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی انتظامیہ نے ماضی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا ہے۔ ان میں سے کئی پر تشدد فسادات ان مودیکی پارٹی کے لوگوں کی اشتعال انگیز تقاریر کے سبب ہوئے۔پاکستان کے حوالے سے امریکی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ سال سنگین ترین لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ایک مخصوص درجہ بندی قائم کی تھی جسے سپیشل واچ لسٹ قرار دیا گیا تھا اور اس پر صرف پاکستان تھا۔اس رپورٹ میں گائے کو ذبح کرنے کے شبہے پر تشدد، مسیحی مبلغین پر دبا اور ان کے خلاف تشدد، غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے این جی او کے کام کو روکنا اور تبدیلی مذہب مخالف قانون پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔رپورٹ میں انڈیا کی عدلیہ کی تعریف بھی کی گئی ہے۔یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا ہے کہ انڈیا میں ایک آزاد عدلیہ ہے جس نے بہت سے معاملات میں بامعنی مداخلت کی ہے۔ اس ضمن میں مثال کے طور پر ہادیہ کے قبول اسلام کا ذکر ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا ‘ہر بالغ شہری کو اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو دس تجاویز دی گئی ہیں جن میں انڈیا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان معاملات کو اٹھانا اور انڈیا میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی حالت میں بہتری لانے کے لیے دبا ڈالنا وغیرہ شامل ہے۔اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ انڈین حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف سنہ 2017 میں ہونے والے حملوں کی قابل اعتماد تفتیش کرانے یا انھیں روکنے میں ناکام رہی ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

22 اے ختم کرنے پر وکلاء کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ملک بھر میں وکلا برادری عدالتی کارروائیوں کا ...