بنیادی صفحہ / قومی / ملک گیر مہنگائی سے عوام اہم نشانے پر

ملک گیر مہنگائی سے عوام اہم نشانے پر

کیا غریب عوام روٹی کم کھائے اور بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دے؟
موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل بہت دعوے کئے لیکن ہوم ورک نہیں کیا
حکومت نے کہا کہ گھر بنائیں گے، نوکریاں دیں گے لیکن کریں گے کیسے یہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہو گا کیسے؟
کرپشن کرپشن کا کھیل تب چل سکتا ہے جب عام آدمی ماضی اور موجودہ حکومت کے درمیان فرق کرسکے

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
پاکستان میں شماریات کے سرکاری ادارے بیورو آف سٹیٹسکس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں افراطِ زر کی شرح گزشتہ پانچ برس کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ادار شماریات کے مطابق مارچ 2019 میں افراطِ زر کی شرح 9.41 فیصد رہی جبکہ فروری میں یہ شرح 8.21 فیصد تھی۔یہ اعدادوشمار ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب حکومت نے ماہِ اپریل کے آغاز میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں بھی چھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں مہنگائی اب عوام کو درپیش سب سے بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔افراطِ زر کیا ہوتا ہے، یہ مہنگائی یکایک کیسے بڑھ جاتی ہے اور حکومت اور ایک عام آدمی اس دو مزید مشکلات سے کس قدر بچ سکتا ہے۔ یہ سوالات اہم ہیں جن بارے جاننا ضروری ہے۔کسی چیز کی قیمت بڑھتی

ہے تو اسے افراط زر (مہنگائی) کہتے ہیں لیکن یہاں جس افراط زر کی بات ہو رہی ہے وہ کسی ایک دو یا درجنوں اشیا کی بات نہیں۔سادہ زبان میں کہا جائے تو کسی معیشت میں مجموعی طور پر جتنی اشیا خریدی جاتی ہیں اس کی اوسطا قیمت اگر بڑھتی ہے تو ہم اسے افراطِ زر کہتے ہیں۔افراط زر میں اضافہ کیسے ہوتا ہے؟۔اشیا کی قیمت بڑھنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اشیا کی تیاری کی لاگت بڑھ جاتی ہے، مطلب خام مال کی قیمت زیادہ ہوئی یا پھر اجرت زیادہ لگی اس پر جو خرچہ زیادہ ہوا تو قیمت بھی بڑھ جائے گی۔ اسے ‘کاسٹ پش انفلیشن’ کہتے ہیں۔دوسری وجہ محدودیت ہے۔ یعنی مارکیٹ میں مال کم ہے لیکن خریدار زیادہ ہیں۔ کچھ گاہک زیادہ پیسہ دینے کو بھی تیار ہوتے ہیں اسے ‘ڈیمانڈ پش انفلیشن’ کہتے ہیں۔یہاں مثال تیل کی قیمت کی ہے۔ اگر تیل کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو وہ کاسٹ پش انفلیشن ہے۔ کیونکہ اسی ایندھن کی مدد سے چلنے والا ٹرک اشیا منڈیوں تک پہنچاتا ہے۔ یوں تیل کی قیمت میں اضافے کا اثر ان تمام چیزوں کی قیمت پر پڑے گا اور وہ بڑھ جائے گی۔اور ایک وجہ نوٹ چھاپنا بھی ہے۔ اگر حکومت زیادہ پیسے چھاپتی ہے تو پھر لوگوں کے پاس زیادہ پیسے آ جاتے ہیں۔ منڈی میں چیزیں محدود ہوتی ہیں اور لوگوں کے پاس پیسے زیادہ ہوتے ہیں تو اس سے بھی چیز مہنگی ہوتی ہے۔ اسے ‘ڈیمانڈ انفلیشن’ کہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں دونوں جانب سے افراط زر ہو رہا ہے۔ پہلے ڈالر 105، 115 اور پھر 145 کا ہو گیا۔ یوں جو بھی چیز ملک میں باہر سے لائی جاتی ہے وہ مہنگی پڑتی ہے۔ دوسری جانب نوٹ چھاپنا بنی ہے۔کیا یہ ریکارڈ مہنگائی کی صورتحال ہے؟۔ ایسا نہیں کہ اتنا افراط زر پہلی بار ہوا ہے تاہم گذشتہ حکومت میں افراط زر کی شرح تین سے پانچ فیصد تھی جو اب بڑھ کر نو فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ شرح 20 فیصد سے زیادہ ہو جائے گی۔کیا حکومت بے بس ہے؟۔ حکومت کبھی بھی بے بس نہیں ہوتی۔ اگر یہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کر دیں تو انھیں نوٹ نہیں چھاپنے پڑیں گے۔ اس سے ڈیمانڈ یعنی طلب کی جانب افراط زر کم ہوگی تو اس سے اس کی شرح بھی کم ہو گی۔ حکومت ٹیکس کی وصولی میں بھی ناکام ہو گئی ہے اور یہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے نوٹ چھاپ رہے ہیں اور جب نوٹ چھاپیں گے تو افراط زر میں تو اضافہ ہو گا۔موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل بہت دعوے کئے لیکن ہوم ورک نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ گھر بنائیں گے، نوکریاں دیں گے لیکن کریں گے کیسے یہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہو گا کیسے؟ حکومت میں براہ راست جو وزرا ہیں انھیں بحران کا نہ اندازہ ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں معلوم ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے اور جہاں تک معیشت میں مشیر ہیں تو وہ تو پہلے بھی حکومت میں رہے ہیں اور وہ آج کے بحران کے لیے بہت حد تک ذمہ دار ہیں کسی کو بھی نہیں معلوم کہ ان سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔ جہاں تک باہر سے مدد اور ملین ڈالر امداد ملنے کی بات ہے تو اس پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو بھیک پر معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی دوسرے باہر سے جو پیسہ آتا ہے وہ ماضی میں لیے جانے والے قرضوں کو واپس کرنے میں لگتا ہے۔ رات کو پیسے آتے ہیں صبح چلے جاتے ہیں اور پھر صبح ہم پھر وہیں کے وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔کیاسب بحران کے بارے میں آگاہ تھے؟۔معاشی ماہرین پچھلے 40 سالوں سے کہہ رہے ہیں کہ ملک قرضوں کے بوجھ میں دبا ہوا ہے اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کو معلوم تھا تو انھوں نے تیاری کیوں نہیں کی کہ اسے کیسے حل کریں گے۔ یہ ایسے تو نہیں کہ اچانک سب کو پتہ چلا کہ ملک میں بحران ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار شوکت عزیز کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہے اور شوکت عزیز اور ان کے ساتھیوں نے ہی یہ بحران پیدا کیا تھا۔انھوں نے درآمدات کے سارے دروازے کھول دیے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سنہ 2002 تک ہر 100 ڈالر ملک سے باہر بھیجنے پر 125 ڈالر کی درآمدات ہوتی تھیں یعنی 25 فیصد کا خسارہ تھا۔ اور اب 100 ڈالر ایکسپورٹ پر 230 ڈالر کی امپورٹ ہوتی ہے۔ یعنی 130 فیصد خسارہ ہے۔ جب اتنا بڑا خسارہ ہو گا تو ڈالر تو مہنگا ہوگا اور جب یہ مہنگا ہو گا تو مہنگائی ہی ہو گی۔ یہ بنیاد ہے اس بحران کی۔ایک عام آدمی کیا کرے؟ اگر آپ کی آمدنی محدود ہے تو پھر آپ کو بہت سے اخراجات روکنے پڑیں گے کہ اب یہ ہم نہیں خریدیں گے۔ غریب عوام یہی کر سکتی ہے کہ روٹی کم کھائے اور بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دے۔جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کے اعلان کے بعد حکومت کے ناقدین، مبصرین اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔اس اضافے کو پی ٹی آئی کے تبدیلی کے نعرے اور عام آدمی کو آسانی مہیا کرنے کے دعووں سے روگردانی قرار دیا جا رہا ہے۔ وجہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے سابقہ حکومت کے دور میں ایسے اقدامات پر سخت ردعمل اور حکومت میں آنے کے بعد ایسا نہ کرنے کے وعدے بنے ہیں۔حکومت کی جانب سے یکم اپریل سے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چھ روپے فی لیٹر اضافہ جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کی تیل میں فی لیٹر تین روپے اضافہ کیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 98 روپے 89 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔تیل کی قیمتوں میں اس اضافے پر صارفین نے احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ۔ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ بہت برا ہوا ہے۔ انھوں نے لکھا میں تو سمجھا تھا کہ یہ سمندروں سے تیل نکال رہے ہیں لیکن یہ تو عام آدمی کا تیل نکال رہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں یقین نہیں کر سکتا کہ اسد عمر ہمارے وزیرِ خزانہ ہیں جنھوں نے ہمیں عام آدمی کی دوست معیشت کے خواب دن میں دکھائے تھے۔ایک صارف نے اسد عمر کی ہی ایک برس پرانی ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ حضور آپ برس قبل سچ بول رہے تھے یا آج؟ قوم آپ کی ایک برس پرانی بات پر یقین کرے یا آج پر؟۔ٹوئٹر پر ہی کئی صارفین نے لکھا کہ وہ پی ٹی آئی کے حامی اور ووٹر تو ہیں لیکن یہ وہ تبدیلی نہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔حکومت نے تیل کی قیمت کب کب بڑھائی؟۔اگر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں کے نوٹسز کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 سے اپریل 2019 تک وفاقی حکومت نے چار مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ تین مرتبہ کمی کی ہے جبکہ ایک ماہ قیمتوں کو برقرار رکھا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ رواں ماہ کے لیے چھ روپے فی لیٹر کیا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ کمی جنوری میں پانچ روپے کی گئی تھی۔فروری 2019 سے اب تک حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریبا آٹھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔جب تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار سنبھالا تھا اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 95 روپے 24 پیسے تھی جبکہ آج اس کی قیمت 98 روپے 89 پیسے ہے یعنی اتار چڑھا کے بعد اگست کے مقابلے میں یہ اضافہ ساڑھے تین روپے فی لیٹر کے لگ بھگ ہے۔اسی عرصے میں اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کا جائزہ لیا جائے تو اگست 2018 میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 74.21 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ آج یہ چھ ڈالر کی کمی کے بعد 67.82 ڈالر فی بیرل ہے۔تاہم اگست میں امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر 123 روپے تھی جبکہ آج امریکی ڈالر 141 روپے کا ہو چکا ہے۔صارفین کو آج تقریبا 99 روپے فی لیٹر ملنے والا تیل حکومت کو عالمی منڈی سے تقریبا 58 روپے میں ملتا ہے تو پھر باقی 41 روپے کہاں جاتے ہیں؟ یہ وہ 41 روپے ہیں جو حکومت مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹی کی مد میں صارفین سے حاصل کرتی ہے۔عالمی منڈی سے فراہم ہونے والے تیل کی صفائی کے بعد پی ایس او کو ملنے والی فی لیٹر تیل کی بنیادی قیمت، ان لینڈ فریٹ مارجن یعنی ملک میں تیل سپلائی کرنے کی قیمت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کمیشن، آئل ڈیلرز یا پیٹرول پمپ مالکان کا کمیشن، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی ٹیکس شامل ہیں۔تیل کی قیمت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟۔اوگرا کے سینیئر اہلکار کے مطابق پاکستان سٹیٹ آئل(پی ایس او)، اوگرا حکام، وزارت خزانہ اور پیٹرولیم کے حکام ہر مہینے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، پاکستان کو ملنے والے تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں رد و بدل، ملک میں منگوائے گئے تیل کی تعداد، کھپت اور لاگت کا جائزہ لیکر ایک سمری تیار کرتے ہیں۔اس سمری کو پیٹرولیم اینڈ فنانس ڈویژن بھیجا جاتا ہے۔ جس کے بعد وزارت خزانہ ان سفارشات کی روشنی میں ملکی خزانے میں خسارے یا اخراجات کا تعین، ٹیکسوں کی مد میں مختص رقم کا تعین کر کے اس سمری پر فی لیٹر قیمت طے کر کے وزیر اعظم کو بھیجتی ہے۔وزیر اعظم فی لیٹر پیٹرول کی قیمت کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد وزارت خزانہ کو نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ملک میں پیٹرول کی ماہانہ کھپت کتنی ہے؟۔ اوگرا کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ کھپت سات لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ میٹرک ٹن ہے۔قیمت بڑھنے میں کن عوامل کا عمل دخل ہے؟۔اوگرا کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں فی لیٹر کی قیمت میں گزشتہ ماہ کے دوران 14.26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یکم مارچ کو عالمی منڈی میں فی لیٹر تیل کی قیمت 54.86 روپے تھی جو یکم اپریل کو 7.82 روپے بڑھ کر 62.68 روپے ہو گئی۔ اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے میں بھی ایک ماہ کے دوران 1.47 روپے گراوٹ نے بھی اس پر اثر ڈالا ہے۔ دیگر عوامل میں حکومتی ٹیکسز کے لاگو ہونے سے بھی صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی خریداری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر قیمت نہیں بلکہ ایک ہفتہ کے دوران رہنے والی قیمت کی اوسط قیمت کے مطابق خریدا جاتا ہے جبکہ خام تیل کی خریداری بھی ایک مہینے کی قیمت کی اوسط کے مطابق کی جاتی ہے۔اوگرا کے مطابق پاکستان میں تیار تیل منگوایا جاتا ہے یہ خام تیل نہیں ہوتا۔ پی ایس او عالمی منڈی سے تیار تیل خریدتا ہے خام تیل نہیں۔ البتہ عالمی منڈی میں ریفرنس پرائس خام تیل کی قیمت کو رکھا جاتا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت انتخابات سے قبل کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی عزم کا اظہار تو کر رہی لیکن عوام کی جانب سے بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کا شکوہ بھی زوروں پر ہے۔ایک جانب قدرتی گیس اور بجلی کی عدم فراہمی کا شکوہ بہت سے شہریوں کی زباں پر ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف کے حمایتی حکومت کی کارکردگی کو سراہانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھ رہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نیا پاکستان کے نعرے کے ساتھ آئی تھی اور اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں ‘کدھر ہے نیا پاکستان’، اور ٹوئٹر پر یہی اس وقت صف اول کا ٹرینڈ بھی ہے۔مہنگائی، بے روزگاری، جرائم جیسے مسائل نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔اور اب صبح و سویر ے گیس کی لوڈشیڈنگ سے گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں۔ بچے سکول و کالج ناشتہ کیے بغیر جانے پر مجبور ہیں ۔بعض صارف کا کہنا ہے کہ جس نئے پاکستان کے وعدے کیے گئے تھے ویسا تو کچھ نہیں ہے یہ تو 2013 سے پہلے جیسا پرانا پاکستان بنتا جا رہا ہے بجلی ہے نہ گیس نہ پانی البتہ مہنگائی کا طوفان شدت اختیار کر چکا ہے۔جبکہ پاکستان میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تقریبا ایک دن میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔یہی نہیں ڈالر کی قیمت میں یہ اضافہ ایک دن میں ہونے والا اور ایک سال میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافیکے بعد اس کی قیمت 145 روپے ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ روپے کی قدر میں اس کمی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہوجائے گا۔ادھر اسلام آباد میں ہی ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضوں، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو کم کرنا ضروری تھا۔یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ آنے والے دنوں میں ڈالر مزید اوپر کی جانب جاتا ہے یا نیچے کی طرف، مگر ماہرین کے خیال میں جب تک تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا ڈالر مہنگا ہوتا جائے گا۔پاکستان میں ڈالر نے کہاں سے کہاں تک کا سفر طے کیا ہے۔اس اضافے کی وجہ ہم جو آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں تو ان کی ایک شرط تو یہ بھی ہے کہ ڈالر کو 145 روپے تک لے کر جانا ہو گا۔حکومت آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی ہے اور اعلان کرنے سے قبل اس کی شرائط کو پورا کیا جا رہا ہے۔ایسا نہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہی ڈالر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا ہے، بلکہ ماضی میں بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن اتنا اضافہ پہلی بار ہوا ہے۔ اس کی وجہ بین الاقوامی فنانشل اداروں سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے وعدے ہیں۔پاکستان میں نگران حکومت کے دور میں الیکشن کے انعقاد سے قبل امریکی ڈالر 118 روپے سے بڑھ کر 130 تک پہنچ گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 122 روپے میں فروخت ہونے لگا۔جو کہ اب 145 روپے میں آگیا ہے۔اس اتار چڑھا کے اثرات کیا ہوں گے؟۔اس ضمن میں عام آدمی کی زندگیوں پر اس اضافے کا بہت اثر پڑنے والا ہے۔ افراط زر میں جو اب اضافہ ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہوگا،اور ساتھ ہی ساتھ بے روزگاری بھی بڑھے گی۔سال 2019 پاکستانی عوام اور خاص طور پر غریبوں اور مڈل کلاس کے لیے بہت برا گزرے گا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے وزیرِاعظم بننے سے پہلے انتھک جدوجہد کی۔ اپنی اس تحریک میں انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور جے یو آئی(ف)کو شدید ہدف تنقید بنایا۔ انتخابی مہم کے دوران ان کا نعرہ تھا کہ وہ پاکستان سے لوٹی گئی 200 ارب ڈالر کی رقم کو سوئیٹزر لینڈ سے واپس لے آئیں گے، ملک کے بڑے چوروں کو گرفتار کرکے ان کا احتساب کریں گے، بدعنوانی کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا کیونکہ معاشرے اس وقت تباہ ہوجاتے ہیں جب ان میں انصاف نہ رہے۔ وہ کہتے تھے کہ جب بھی اس طرح کی سماجی بیماریاں ختم ہوں گی تو پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوشحال ملک بن جائے گا۔اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ تحریک انصاف سمجھتی تھی کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے، معیشت تباہ کردی گئی ہے۔ لیکن حکومت ملنے کے بعد جس طرح حکومت وزرا کے ہاتھ پیر پھولے اسے دیکھ کر شدید حیرانی ہوئی۔ معیشت کے حوالے سے کہا جانے لگا کہ یہ تو تباہ حال ہے جسے سنبھالنے میں وقت لگے گا،
لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ راز ان پر حکومت میں آنے کے بعد کھلا؟ کیا حکومت میں آنے سے پہلے وہ یہ سوچ رہے تھے کہ سب بہتر ہے، اور انہیں معیشت کے میدان میں اتنی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا؟۔نئی حکومت نے آتے ہی (ن) لیگ کے پیش کیے گئے فنانس بل میں 2 بار ترامیم کیں۔ اس دوران ادویات، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ جبکہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوتی رہی، جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات اور پریشانیوں میں کمی ہونے کے بجائے مزید اضافہ ہوگیا۔ ایک طرف مہنگائی بڑھ گئی تو دوسری طرف مزدوری کی اجرت کم ہوگئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت نے اگر اب بھی عام آدمی کے لیے کچھ نہیں کیا تو کرپشن کے خلاف سیاسی نعرہ بے فائدہ ہوجائے گا۔ لہذا وزیرِاعظم کو سنجیدہ ہونا ہوگا، حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی کابینہ اور مشینری کا تنقیدی جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ ساڑھے سات ماہ ملکی سمت کا تعین کرنے کے لیے کافی مناسب وقت ہے، مگر اس عرصے میں زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جتنی محنت کی جارہی ہے نتائج اس کے برعکس ہیں۔ عام آدمی زیادہ تنگ ہوچکا ہے، اور کرپشن کرپشن کا کھیل تب ہی چل سکتا ہے جب عام آدمی ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت کے درمیان فرق کرسکے۔ اگر وہ اس دور میں بھی مشکل زندگی گزار رہا ہے تو پھر اس کے لیے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی دبئی میں گرفتار

اویس مظفر ٹپی پر منی لانڈرنگ اور زمینوں پر ناجائز قبضے کرنے ...