بنیادی صفحہ / قومی / عمران خان بھی اپنے بہت سے نعروں اور وعدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں

عمران خان بھی اپنے بہت سے نعروں اور وعدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں


کرپٹ لوگوں کو جیل میں نہ ڈالا تو ملک کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔عمران خان
کیااسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ معاشی نظام بہتر ہو۔ کرپشن نہ ہو؟
عمران حکومت کو معیشت کو درست کرنا اور باقی معاملات میں بہتری لانا اتنا آسان نہ ہوگا
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چوٹی کی قیادت کے خلاف مقدمات اور سزائیں اور ان کے حامیوں کی طرف سے ہلکا پھلکا رد عمل، ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو احتساب کے عمل پر خوشی ہے۔ اور یہ کہ اگر عمران خان حکومت ان حالات میں معیشت کے میدان میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے، تو ترکی کے راہنما طیب ایردوان کی طرح تحریک انصاف بھی ملک میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہ سکتی ہے اور ملک میں یک فریقی نظام کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔جبکہ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب عدالت کے فیصلے میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سزا سنا دی گئی ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے عدالت میں سابق صدر آصف علی زرداری کو مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کا مرتکب قرار دیا ہے۔ دونوں جماعتیں براہ راست الزامات کا جواب دینے کے بجائے تحریک انصاف اور اداروں پر جوابی الزامات عائد کر رہے ہیں۔ یہ سیاسی بحث اپنی جگہ لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ لوگ اس جوابدہی پر خوش ہیں۔مبصرین کے بقول لوگوں کو ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے دیکھا ہے۔ جو باتیں زبان زد عام تھیں، وہ جب عدالتوں میں شواہد کی صورت میں لائی جا رہی ہیں، تو لوگوں کو بھروسہ ہونے لگا ہے کہ اس بار احتساب کا عمل کمپرومائز نہیں ہوگا۔ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامی سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں اور قیادت ان کو تحریک دلانے میں ناکام ہے۔ یہ پارٹیاں عوام کو موبلائز نہیں کر پا رہیں۔ اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کریں گے اور ان ہاوس تبدیلی کی کوشش کریں گے۔ لوگ کم از کم کرپشن کے معاملات پر سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں۔تاہم بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتساب کے نعرے اور کرپشن کے الزام نئے نہیں۔ نواز شریف کی پہلی اور دوسری حکومت کو بھی کرپشن کے الزامات پر فارغ کیا گیا۔ لیکن کچھ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزامات پر فارغ کیا گیا مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ جنرل مشرف نے بھی احتساب کا نعرہ لگایا اور اس سے پہلے جنرل ضیا نے بھی۔ مگر یہاں احتساب محض نعروں تک محدود رہا ہے۔عمران خان حکومت بھی احتساب کے معاملے میں دوسروں سے مختلف ثابت نہ ہوگی۔ اس جماعت کے اندر بھی ایسے لوگ ہیں جن کے اطوار دیگر پارٹیوں کے راہنماوں سے مختلف نہیں ہیں۔ عمران خان بذات خود بھی اپنے بہت سے نعروں اور وعدوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور کمپرومائز کرتے جا رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان یکسوئی سے بدعنوانی اور احتساب کے نعرے کے ساتھ جڑے ہیں۔ یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ وہ اس پر کوئی کمپرومائز کر لیں گے۔ البتہ عمران خان کچھ بولنے سے پہلے تولنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور ایسی بات کہیں جس سے پیچھے نہ ہٹنا پڑے۔ اگر مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف مقدمات ثابت ہو جاتے ہیں اور دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو انہیں حیرت نہ ہوگی کہ ترکی کے راہنما طیب ایردوان کی طرز پر عمران خان اور ان کی جماعت لمبے عرصے کے لیے حکومت کرنے میں کامیاب ہو جائے۔کیا ایسا کچھ عوام کی طرف سے پذیرائی کے بعد ہونے کا امکان ہے یا اس میں ریاستی بندوبست کا عمل دخل ضروری ہے؟ اس وقت ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ معاشی نظم بہتر ہو۔ کرپشن نہ ہو۔ عمران خان کا بھی یہی ایجنڈا ہے۔ اور اس ایجنڈے کو عوام بھی سپورٹ کرتی ہے۔ عوام یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو، عمران خان بدعنوان نہیں ہیں۔یہ بات اصولی طور پر تو درست ہو سکتی ہے۔ لیکن، عمران خان حکومت کے لیے معیشت کو درست کرنا اور باقی معاملات میں بہتری لانا اتنا آسان نہ ہوگا۔
بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بالکل ایسا ممکن ہے کہ عمران خان اگر ملک کو اچھی سمت میں لے جاتے ہیں تو ان کا حق ہے کہ طویل مدت کے لیے حکومت کریں۔ لیکن، یہ حق عوام کے ووٹوں سے ہی ملنا چاہیے۔ اس کے لیے کوئی غیر آئینی راستہ یا حمایت قابل قبول نہ ہوگی۔ ترک ماڈل کی پاکستان کو ضرورت نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو برابر میدان ملنا چاہے اور پھر عوام جسے چاہیں اقتدار دیں بھلے ایک بار سے مدت کے لیے۔جبکہ و زیر اعظم عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا جس پرکوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن کہتی ہے ہم انتقام لے رہے ہیں۔ ہم نے تو کوئی کیس نہیں بنایا۔ یہ سب پرانے دور کے کیس ہیں۔حکومتِ پنجاب کے 100 دن مکمل ہونے پر ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت ڈرامہ ہو رہا ہے۔ کرپٹ لوگوں کو جیل میں نہ ڈالا تو ملک کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔بقول ان کے، ”میں نے پارٹی لیڈرشپ کو کہا ہیکہ اپوزیشن کی ہر بات مان لو۔ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرو۔ شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنا دو۔ لیکن، یہ نہیں ہو سکتا کہ احتساب سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اپوزیشن کی ہر بات مانیں گے۔ لیکن احتساب سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ 22 سال پہلے کرپشن کے خلاف ہی سیاست میں آئے تھے۔یہ لوگ پہلے حکومت کو پیسہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر اسمبلی کو کرپشن بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مگر یہ اب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ”جب کرپشن ہوتی ہے تو قیمت عوام ادا کرتی ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس ہونے سے پاکستانی انڈسٹری دوسرے ممالک سے مقابلہ نہیں کر پاتی جس کے نتیجے میں روپے کی قدر گرنا شروع ہو جاتی ہے اور ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔اپوزیشن انتقامی کارروائی کا الزام لگا رہی ہے۔ حکومت کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کر رہی، ایف آئی اے نے جعلی اکانٹس پکڑے تو اسمبلی میں بھی شور مچ گیا۔اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کا انٹرویو پڑھ کر انہیں احساس ہوا؛ ”قائد اعظم نے بہت پہلے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جائے گا۔ لیکن، ہم نے سب اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے بھارت کے نریندر مودی کو بتانا ہے کہ آپ اپنی اقلیتوں کو کیسے رکھتے ہیں اور ہم کیسے رکھتے ہیں۔ ماضی میں صوبہ پنجاب کا بجٹ لاہور پر خرچ ہوتا تھا۔ لیکن اب پنجاب حکومت نے تہیہ کیا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگی۔ان کے الفاظ میں، مشرقی پاکستان کے لوگ ہم سے کیوں الگ ہوئے؟ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ جب انصاف نہی ملتا تو یہ بڑی وجہ ہوتی ہے انتشار کی اور لوگ علیحدگی کی مہم چلاتے ہیں۔ ہم نے سیکھنا ہے اور ہر انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کو نااہل کرانے کے لئے ریفرنس الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا گیا، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کی استدعا کردی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کو ناہل کرانے سے متعلق درخواست الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کراچی میں واقع صوبائی دفتر میں جمع کرائی گئی ہے۔رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق صدر اور موجودہ رکن قومی اسمبلی نے امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع اپنی جائداد کو الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔رکن صوبائی اسمبلی نے دائر درخواست میں مزید کہا ہے کہ اثاثے چھپانے کے معاملے پر سابق صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 1 ایف کے تحت کارروائی کی جائے اور انہیں اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا
جائے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے جس میں، ان کے بقول، سابق صدر کی کرپشن واضح ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے کرپشن کے بڑے بڑے ہاتھیوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب ایسے تمام کرداروں کو سامنے لایا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔صوبائی الیکشن کمشنر نے درخواست وصول کرتے ہوئے کہا کہ درخواست پر کاروائی صرف الیکشن کمیشن کا مرکزی دفتر اسلام آباد ہی کرسکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن سے عمران خان اور فیصل واوڈا کے اثاثوں کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے ملاقات کی اور وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت نے عمران خان کی جانب سے تمام انتخابات سے قبل جمع کرائے گئے گوشواروں کی تفصیلات مانگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت اور اپوزیشن میں موجود تمام لوگوں کا بلا امتیاز احتساب چاہتی ہے۔ اگر ان کی قیادت پر کوئی الزمات ہیں تو وہ مقدمات کا سامنا کریں گے۔ لیکن، احتساب کا قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی منی ٹریل بھی مشکوک ہے اور اسی لئے پیپلز پارٹی نے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ادھر، پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف مقدمات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں کوئی براہ راست الزام نہیں۔ خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں سب ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات بھی ممکن ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جعلی بینک اکانٹس اور منی لانڈرنگ سے متعلق عدالت میں زیر سماعت کیسوں کے حوالے سے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے لئے سال دو ہزار انیس اچھا نہیں ہو گا۔ شاید اِس بات کا اندازہ خود پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی ہوگیا ہے۔ اس لئے چند دن پہلے انہوں نے صوبہ سندھ کے شہروں حیدر آباد اور ٹنڈو الہ یار میں دو جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن کی نوکری تین سال کے لئے ہوتی ہے ان کو قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے کا کیا حق ہے۔تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور پیپلزپارٹی دعوی کرتی ہے کہ وہ وفاق کی زنجیر بھی ہے۔ جعلی اکانٹس کیس کا جو بھی فیصلہ آئے گا اس سے پاکستان کی سیاست میں جو آج پولرائزیشن دیکھی جا رہی ہے وہ بڑھے گی۔ ایسے لگتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں سیاسی منظر نامہ اور بھی تکلیف دہ ہو جائے گا۔اگر زرداری صاحب کسی بھی ایسے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں جیل جائینگے تو انکے بعد متبادل قیادت کیا ہو گی کیونکہ بلاول کو بھی اسی کیس میں عدالت میں طلب کیا جا چکا ہے۔ سنا یہ جا رہا ہے کہ شاید صنم بھٹو کو پاکستانی سیاست میں دوبارہ لایا جائے گا کیونکہ پیپلز پارٹی کو انٹیکٹ رکھنے کے لیے اور اس کا مثبت چہرہ سامنے لانے کے لیے کسی بھی اصلی بھٹو کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے۔ جیسے جیسے کیس آگے بڑھے گا پیپلز پارٹی اور پاکستان کی سیاست پر گھمبیر اثرات پڑینگے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی ڈر کر میدان نہیں چھوڑے گی بلکہ حالات کا مقابلہ کرے گی۔ ہماری جماعت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر ایسا کیا گیا تو کارکن اور عوام سڑکوں پر ہوں گے۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی نواز کھوکھر نے الزام عائد کیا کہ ان کی جماعت اور اپوزیشن کے خلاف سلیکٹڈ احتساب کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان کی قیادت پر بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک میں ون پارٹی سسٹم چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کو مضبوط کیا جا رہا ہے جبکہ اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسا احتساب کا نظام ہے جس میں محض اپوزیشن ہی نشانے پر ہے، وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری، وزیر دفاع پرویزخٹک اور وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کا احتساب کیوں نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزرائے اعظم کے خلاف تو مقدمات تیزی سے چلائے جارہے ہیں مگر سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف کیس عرصے سے زیر التوا ہے اور اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی عائشہ نواز چوہدری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پاکستان میں منی لانڈرنگ کے مسئلے کو بار بار اٹھایا۔ جب تک منی لانڈرنگ کو نہیں روکا جائے گا خصوصی طور پر سیاستدانوں کے پیسوں کو اسٹریم لائن نہیں کرینگے تب تک پاکستانی سیاست میں صحیح احتساب نہیں شروع ہو سکتا۔حیران کن بات ہے کہ ن لیگ کی سیاست میں انکا لیڈر جیل چلا جاتا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، پیپلز پارٹی کی منی لانڈرنگ بھی ثابت ہو جاتی ہے تو ان کی سیاست کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن عوام کو پتا چلنے کی ضرورت ہے کہ اصل میں جو لوگ حکمران بن کر انکے اوپر بیٹھے رہے ہیں وہ عوام کا خون چوس کر عوام کی خدمت نہیں کر رہے تھے وہ اصل میں اپنی خدمت کر رہے تھے، اپنے اکاونٹس بھر رہے تھے۔ اپنے خاندانوں کی خدمت کر رہے تھے۔پیپلز پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے سابق گورنر پنجاب اور پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف خان کھوسہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جعلی بینک اکانٹس کیس کا پیپلزپارٹی کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ انکی قیادت کا اِس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ عدالتی فیصلہ ان کی قیادت کے حق میں آئے گا اور پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر عوام میں سرخرو ہو گی۔اس میں ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے کہ جو ٹریل آج دکھا رہے تھے کہ کنٹریکٹرز کے پیسے اس طرف گئے، بحریہ کے یہاں گئے اور فلاں کے وہاں گئے۔ اس سے زرداری گروپ کا کیا تعلق ہے۔ زرداری صاحب کا اس میں کوئی کنکشن نہیں ہے۔جعلی بینک اکانٹس سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بڑے خانچے ہیں اور وہ معاف نہیں کرینگے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

صحافی آج بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ شکیل انجم

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد پاکستان میں ...