بنیادی صفحہ / قومی / شریف خاندان کے مقدمات کی نگرانی چیئرمین نیب کا خود کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان کے مقدمات کی نگرانی چیئرمین نیب کا خود کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو جاری کیے گئے طلبی کے نوٹس منسوخ کرنے کا حکم
مخصوص عناصر نیب کو بدنام کرنے کے لیے من گھرٹ پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔نیب
رپورٹ:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ((ن) کے صدر شہباز شریف کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو جاری کیے گئے طلبی کے نوٹس منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے شریف خاندان کے مقدمات کی نگرانی خود کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے لاہور بیورو کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب لاہور نے شریف خاندان سے متعلق مقدمات سمیت دیگر میگا کرپشن کے مقدمات پر بریفنگ دی۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نصرت شہباز، رابعہ عمران اور جویریہ علی کو نیب لاہور کی جانب سے بھجوائے گئے طلبی کے نوٹسز کو منسوخ کرنے اور کیس کے حوالے سے نیب کو مطلوب معلومات کے حصول کے لیے سوال نامہ ارسال کرنے کے احکامات صادر کیے’۔خیال رہے کہ نیب لاہور نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو 17 اپریل، اثاثہ جات کیس میں رابعہ عمران کو 18 اور جویریہ علی کو 19 اپریل کو طلبی کے نوٹسز جاری کردیے تھے۔علاوہ ازیں نیب لاہور نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امیگریشن) کو خط لکھ کر نصرت شہباز، رابعہ عمران، جویریہ علی اور عائشہ ہارون کا نام پرووژنل نیشنل آئیڈینٹی فیکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں ڈالنے کی درخواست کی تھی۔نیب کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جب تک ان کا نام پی این آئی ایل میں ڈال جائے گا۔چیئرمین نیب کے احکامات کے بعد نیب لاہور کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں سوال نامے ارسال کردیے جائیں گے۔نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ‘مذکورہ اقدامات اس بات کے غماز ہیں کہ نیب خواتین کی تقدیس، حرمت، عزت اور چادر دیواری پر مکمل یقین رکھتا ہے’۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ‘نیب احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر سختی سے گامزن ہے اور نیب کی کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی نہیں ہے’۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ‘نیب ایک خود مختار ادارہ ہے اور کسی بھی دباو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قانون اور آئین پاکستان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اقدامات سرانجام دیتا ہے’۔یاد رہے کہ 13 اپریل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں نے دعوی کیا تھا کہ نیب لاہور نے شہباز شریف کی بیٹیوں کے گھر کا محاصرہ کرکے چھاپہ مارا ہے جبکہ نیب نے اس بیان کو مسترد کردیا تھا۔نیب لاہور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ شہبازشریف کی صاحبزادی کے گھر کا گھیرا کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں،نیب کی ٹیم شہباز شریف کی صاحبزادیوں کے گھر طلبی کے نوٹسز پہنچانے گئی اور ٹیم کے ساتھ پولیس بھی تھی۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کئی مرتبہ نیب کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں۔اسی تحقیقات کی روشنی میں نیب حکام کی درخواست پر ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا جبکہ انہیں ایک مرتبہ بیرون ملک جانے سے بھی روکا گیا تھا۔تاہم بعد ازاں اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے دعوی کیا ہے کہ نیب نے شہاز شریف کی بیٹیوں کے گھر کا محاصرہ کرلیا تاہم نیب نے ان کا دعوی مسترد کردیا۔مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کے مطابق نیب نے پولیس کے ہمراہ شہبازشریف کی بیٹیوں کے گھر پر بغیر اطلاع چھاپہ مارا۔دوسری جانب نیب نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہبازشریف کی صاحبزادی کے گھر کا گھیرا کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں،نیب کی ٹیم شہباز شریف کی صاحبزادیوں کے گھر طلبی کے نوٹسز پہنچانے گئی۔نیب کا کہنا تھا کہ پولیس کی گاڑی نیب ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے ساتھ گئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص عناصر نیب کو بدنام کرنے کے لیے من گھرٹ پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب لاہور نے پہلی بار شریف خاندان کے خلاف کیسز میں ان کی خواتین کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے۔معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب لاہور نے شہباز شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے تقریبا پورے شریف خاندان کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق نصرت شہباز کو آئندہ ہفتے 17 اپریل، حمزہ شہباز کو چنیوٹ نالہ کیس میں 15 اپریل اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں 16 اپریل کو طلب کیا گیا جبکہ اثاثہ جات کیس میں 18 اپریل کو رابعہ شریف اور 19اپریل کو جویریہ شریف کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔علاوہ ازیں نیب لاہور نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (امیگریشن) کو خط لکھ کر نصرت شہباز، رابعہ عمران، جویریہ علی اور عائشہ ہارون کا نام پرووژنل نیشنل آئیڈینٹیفیکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) میں ڈالنے کی درخواست کی۔نیب کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جب تک ان کا نام پی این آئی ایل میں ڈال جائے۔اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف کارروائیاں کرکے اسے دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری بہنوں کے گھروں کا گھیرا کرکے نوٹسز کی تعمیل کروائی گئی، 24 گھنٹے کے دوران میری والدہ اور بہنوں کو نوٹسز جاری کیے گئے۔انہوں نے دعوی کیا کہ نیب نے مجھے حکومت سے معاملہ رفع دفع کرنے کی پیشکش کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے ساتھ وہ کارروائی ہورہی ہے جو دہشت گردوں کے ساتھ ہوتی ہے، ملک کی تمام ہائی کورٹس مجھے بلائیں میں جاں گا۔خیال رہے کہ چند روز قبل نیب کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے لاہور میں قائم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور تقریبا 4 گھنٹے تک محاصرہ کیا تھا تاہم وہ انہیں گرفتار کیے بغیر واپس روانہ ہوگئی تھی۔نیب کی ٹیم لاہور کے علاقے ماڈل ٹان میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ 96 ایچ پر پہنچی، جہاں انہیں گھر کے اندر داخل ہونے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کئی مرتبہ نیب کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں۔اسی تحقیقات کی روشنی میں نیب حکام کی درخواست پر ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا جبکہ انہیں ایک مرتبہ بیرون ملک جانے سے بھی روکا گیا تھا۔تاہم بعد ازاں اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔ساتھ ہی گزشتہ روز یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ نیب کی ٹیم حمزہ شہباز کو صرف آمدنی سے زائد اثاثے کے کیس میں نہیں بلکہ مبینہ منی لانڈرنگ میں ثبوت کی بنیاد پر گرفتار کرنے پہنچی تھی۔اس سارے معاملے پر نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ شہباز شریف کے اہل خانہ کی جانب سے اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے ثبوت ملنے کا انکشاف ہوا، جس کی بنیاد پر حمزہ اور سلیمان شہباز کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو منظم مبینہ منی لانڈرنگ کی چونکا دینے والی اسکیم کا پتہ چلا، جس کے ذریعے شہباز شریف کے اہل خانہ کے اراکین نے حالیہ برسوں میں غیرقانونی دولت بنائی اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب تھے۔ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو کرپشن اور منظم مبینہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 85 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کا پتہ چلا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملنے والے ثبوت ناقابل تردید ہیں اور شریف خاندان کے مختلف ارکان منظم مبینہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی دولت بنانے میں ملوث ہیں۔حمزہ شہباز کی جانب سے 2003 میں ظاہر کیے گئے اثاثے 2 کروڑ روپے سے کم تھے تاہم ان کے والد کے وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد ان کی ذاتی دولت مبینہ طور پر 41 کروڑ (تقریبا 2 ہزار فیصد) سے زائد بڑھ گئی تھی۔اسی سلسلے میں نیب نے حمزہ شہباز سے متعلق نیب کی جانب سے کچھ قریبی ساتھیوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے دوران تفتیش کرپش اور مبینہ منی لانڈرنگ کا پورا طریقہ بتایا تھا۔ساتھ ہی لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار 2 افراد قاسم قیوم اور فضل داد کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے نیب کے اختیارات کو بڑھاتے ہوئے انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر گرفتاری کی اجازت دے دی تھی۔عدالت عظمی نے فیصلہ دیا تھا کہ نیب کسی بھی ملزم کو پیشگی اطلاع دیے بغیر ہی گرفتار کر سکتا ہے، اگر نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہوں تو اسے گرفتاری کا مکمل اختیار ہے۔تاہم اعلی عدالت نے ساتھ یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ عدالت کو امید ہے کہ نیب اپنے ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرے گا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے حمزہ شہباز کے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم کے حوالے سے کیے گئے دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز بے بنیاد الزام لگا کر ان کے خلاف ہونے والی تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے پریس کانفرس کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ڈی جی نیب لاہور نے ان کو بلا کر کہا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں ان کی جعلی ڈگری سے متعلق قرارداد واپس لے لیں تو نوٹس نہیں آئے گا۔نیب کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں حمزہ شہباز کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ڈی جی نیب لاہور نے اپنی ڈگری کے بارے میں حمزہ شہباز سے کبھی کوئی بات نہیں کی اور اگر انہوں نے ایسی بات کی تھی تو حمزہ شہباز اس وقت کیوں خاموش رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کو حمزہ شہباز اور ان کے اہلخانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں جب نیب کو ٹھوس شواہد ملے ہیں تو وہ من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے ذریعے نیب کی قانون کے مطابق تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔نیب نے وضاحت کی کہ ڈی جی نیب لاہور کی ڈگری کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تصدیق کروائی جاچکی ہے اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع بھی کروائی جاچکی ہے۔انہوں نے حکومت کا نیب پر دبا ہونے کا حمزہ شہباز کا دعوی بھی مسترد کیا اور کہا کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے جو قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب چادر، چار دیواری اور خواتین کا احترام کرتا ہے، شریف خاندان کی خواتین کو بلانے کا مقصد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے موصول شکایت کی روشنی میں تحقیقات کرنا ہے۔پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت میں بتایا گیا ہے کہ شریف خاندان کے اکانٹس میں خطیر رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔نیب کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز نیب پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنے خلاف مبینہ تحقیقات کا جواب پیش کریں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے جب نیب نے ضمانت کے بعد بلایا گیا تو انکوائری روم کے بجائے ڈی جی نیب کے دفتر کے باہر گاڑی لگائی گئی اور کہا گیا کہ ڈی جی نیب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہاں ڈی جی نیب شہزاد سلیم صاحب نے مجھ سے کہا کہ حمزہ صاحب آپ کی اسمبلی میں میرے خلاف جعلی ڈگری جمع ہوئی ہے، اسے واپس لیں تو آپ کے پاس ایک مہینے تک نوٹس نہیں آئے گا۔انہوں نے دعوی کیا کہ ڈی جی نیب کا کہنا تھا کہ آپ حکومت سے کوئی معاہدہ کرلیں تو ہم اس سارے معاملے کو رفع دفع کرسکتے ہیں۔حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ان کی اس گفتگو کے ایک ماہ بعد انہیں نوٹسز ملنے لگے اور ان کے گھر والوں کو بھی بلایا گیا، چادر چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی دبئی میں گرفتار

اویس مظفر ٹپی پر منی لانڈرنگ اور زمینوں پر ناجائز قبضے کرنے ...