بنیادی صفحہ / قومی / سانحہ آرمی پبلک سکول: کیا کمیشن اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر سکے گا؟

سانحہ آرمی پبلک سکول: کیا کمیشن اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر سکے گا؟


قوم شہدائے اے پی ایس اور ان کے لواحقین کی قربانی یاد رکھے گی۔صدر مملکت عارف علوی
رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول(اے پی ایس)میں بچھڑ جانے والوں کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی جنہوں نے اپنا لہو دے کر قوم کو متحد کیا۔جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ معصوم طلبا و اساتذہ کی قربانی نے قوم کو بیدار اور متحد کردیا۔سانحہ اے پی ایس پشاور کے 4 سال مکمل ہونے پر صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ قوم شہدائے اے پی ایس اور ان کے لواحقین کی قربانی یاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف کامیابی سے لڑنے پر پاک فوج، تمام سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے معترف ہیں۔ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ سانحہ اے پی ایس قومی المیہ ہونے کے ساتھ تجدید عہد کا بھی دن ہے، قوم عہد کرے انتہا پسندی کا راستہ روکنے کیلئے ہر قربانی کو تیار رہے گی۔جبکہ آرمی پبلک اسکول کے شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پاک فوج نے تقریب کا انعقاد کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب کا آغاز قومی ترانے اور شہدا کے لیے خصوصی دعا سے کیا گیا۔ پاک فوج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی اور شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی۔ان کا کہنا تھا کہ قوم شہدا کے لواحقین کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، سانحہ اے پی ایس نے قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کیا۔تقریب میں کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر نے بھی شرکت کی۔ ‘یہ کیسے آنسو ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے، ان بچوں کی لاشیں جس طرح دیکھائی گئی ہیں وہ بچے جو ایک انجیکشن کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے تھے جانے کیسے اتنی گولیاں ان کے جسموں کو چھلنی کر گئیں، بعض بچوں کے دونوں بازو فریکچر تھے اور جرسی گولیوں سے ادھڑ گئی تھی۔147 والدین ہیں جو ہر روز مرتے ہیں اور ہر روز جیتے ہیں۔پشاور کے ایک مکان میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں اور اساتذہ کے والدین اور رشتہ دار مہینے میں ایک یا دو بار ضرور اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس ملاقات میں یہ والدین اپنے بچوں کو یاد کرتے ہیں، ان کی باتیں اور ان کی یادیں لیے یہ لوگ چار سے پانچ گھنٹے اکٹھے بیٹھے رہتے ہیں اور ان باتوں سے اپنے دل کا غم کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نوراللہ آرمی پبلک سکول کا طالبعلم تھا۔ نوراللہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ نور اللہ ہنس مکھ تھا لیکن ذرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ‘حملے سے کچھ روز پہلے ڈاکٹر کے پاس گئے تو ایک انجیکشن کا درد سہہ نہیں سکا اور اس نے ہسپتال میں خوب شور مچایا تھا۔حملے کے بعد جب انھوں نے اپنے بیٹے نور اللہ کی لاش دیکھی تو برداشت نہیں کر پائیں۔ اشک بار آنکھوں سے ماں کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو بہت بے دردی سے مارا گیا تھا۔ یہ کہتے ہوئے ان کا چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا تھا۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ان کے بیٹے کا سینہ گولیوں سے چھلنی تھا یہاں تک کہ جرسی بھی ادھڑ گئی تھی، دونوں بازو کندھوں سے ٹوٹ چکے تھے جسم خون خون تھا اور وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ نہ جانے ان کے بچے پر کیا گزری ہوگی، جب اتنی گولیاں لگی ہوں گی تو اس وقت ان کے بیٹے کا کیا حال ہوا ہو گا۔اسی طرح دیگر والدین بھی اپنے بچوں کی باتیں کرتے رہے۔ ان والدین کا کہنا تھا کہ عجیب دہشت گرد تھے جو ٹیچرز کے کانوں کی بالیاں بھی نوچ کر چلے گئے، لاکٹ بھی چھین لیا اور ان کے پرس بھی غائب تھے، یہ کیسے عجیب دہشت گرد تھے۔شدت پسندی کے ایک واقعے کے شکار 100 سے زیادہ خاندان ایک بڑے خاندان کی شکل اختیار کر گئے ہیں جہاں ان کے دکھ اور سکھ اب مشترکہ ہیں۔ خوشی کے مواقع ہوں، شادی بیاہ کی تقریبات ہوں، ان میں کوئی مشکل کا شکار ہو یا کوئی غم یا فاتحہ ہو یہ خاندان اس میں ضرور شرکت کرتے ہیں۔خیال رہے کہ آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر سنہ 2014 کو ہونے والے حملے میں 130 بچوں سمیت 147 افراد شدت پسندوں کا نشانہ بنے تھے۔ان دنوں پشاور کے ورسک روڈ پر ایک مکان میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی تصویریں، یونیفارم، بستے، کتابیں، جوتے اور ان کی ڈھیر ساری یادیں سجا کر رکھی گئی ہیں۔ اس سے قبل گلبرگ اور پشاور صدر کے علاقے کے ایک مکان میں بھی ایسی یادیں رکھی گئی تھیں۔گل شہزاد خٹک کی بیٹی سعدیہ گل آرمی پبلک سکول میں انگریزی کی استانی تھیں۔ وہ اس حملے میں شدت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئی تھیں۔ اس مہینے ان کے مکان میں یہ خاندان دوسری مرتبہ اکٹھے ہوئے تھے۔ اس مرتبہ کوئی ایک درجن گھرانوں کے افراد ایک خاندان کی شکل میں یکجا ہوئے، کھانا کھایا، چائے پی اور اپنے اپنے دلوں کی باتیں ایک دوسرے سے کیں۔وہ کہہ رہے تھے کہ عجیب دہشت گرد تھے جو چوریاں بھی کرتے رہے، کسی ٹیچر کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ لی گئی تھیں، کسی کے گلے سے لاکٹ اچک لیا گیا تھا اور پرس تو سب کے غائب تھے۔ ایک والد نے کہا کہ لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، خاص طور پر جب لاشیں شہ زور ٹرکوں میں ہسپتالوں کو منتقل کی جا رہی تھیں۔مائیں یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جا رہی تھیں کہ ان کے بچوں پر کیا کچھ گزری ہو گی اور جو وسوسے ان کے ذہنوں میں پیدا ہو رہے تھے ان چار سالوں میں وہ وسوسے جوں کے توں ہیں کہ آخر بچوں نے اتنا تشدد کیسے برداشت کیا ہو گا۔شاہانہ اجون اپنے بیٹے اسفندیار کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کا بستر دیکھتی ہیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اور ہر وقت ان کی آنکھیں دروازے پر لگی ہوتی ہیں کہ ابھی اسفند گھر میں داخل ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی جانتی ہیں کہ ان کے دل پر کیا گزر رہی ہے۔شاہانہ اجون کہتی ہیں کہ وہ مجرمان کو سزا دینے کا حق کسی اور کو نہیں دیں گی۔ سکیورٹی ایجنسیاں صرف ان قاتلوں کو گرفتار کریں اور انھیں سزا والدین کی مرضی سے دی جائے گی۔گذشتہ برسوں میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے ایک آرمی پبلک سکول کے واقعے پر تحقیقات کا مطالبہ چار برسوں سے جاری ہے۔ مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات موصول ہوتی ہیں کہ جن بچوں نے یہ واقعہ دیکھا یا اس میں زخمی ہوئے تھے وہ اس واقعے کو بھلا نہیں پا رہے۔ ایک چھوٹے بچے پر اس واقعے کا اتنا اثر ہوا ہے کہ اس کا ذہنی توازن برقرار نہیں رہا اور اس نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ ایک والد نے بتایا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والا ایک بچہ حملے کے دو سال بعد انتہائی تکلیف میں دم توڑ گیا۔ اس بچے کی گردن پر شدید زخم آئے تھے۔ان والدین کا اب یہی مطالبہ ہے کہ اس حملے کے اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے اور ان ذمہ داروں کا تعین کیا جائے جن کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا یا جن کی غفلت کے نتیجے میں اتنا جانی نقصان ہوا۔ اس بارے میں کمیشن کی رپورٹ آئندہ چند روز میں متوقع ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کمیشن میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا اور کیا اس کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی؟۔پاکستان میں متعدد واقعات پر جوڈیشل کمیشن قائم کیے گئے لیکن ان کی رپورٹس منظر عام پر مشکل سے ہی آ سکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے تقریبا چار برس قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا حکم د یا ہواہے۔16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سینیئر جج پر مشتمل کمیشن بنائیں جو چھ ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کروائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میں لواحقین سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے کمیشن کے قیام کا زبانی حکم جاری کیا لیکن تحریری حکم جاری نہ کر سکا، اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ پشاور بینچ ٹوٹ گیا تھا۔چیف جسٹس نے لواحقین کو یقین دہانی بھی کروائی کہ میں آپ کے سامنے ابھی حکم جاری کرتا ہوں جس میں تاخیر نہیں ہو گی۔ پوری قوم آپ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور آپ کو انصاف ملے گا۔خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے شعب تعلقاتِ عامہ کے مطابق دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔آرمی پبلک سکول میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج انصاف کا بول بالا ہوگیا۔چیف جسٹس آف پاکستان کے اس کمیشن بنانے کے اعلان پر لواحقین فرط جذبات سے رو پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ اب انھیں ان کے بچوں کے خون کا حساب ملے گا۔آرمی پبلک سکول میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کا بول بالا ہوگیا، آج ہمارے ہمارے بچوں کا نیا جنم ہوا ہے۔حملے میں مارے جانے والے آرمی پبلک سکول کے ایک طالب علم زین اقبال کی والدہ کا کہنا تھا آج کا فیصلہ دیر آید درست آید کی مثال ہے۔انھوں نے کہا کہ سب سے گزارش ہے کہ جب کہیں ظلم ہو آرام سے مت بیٹھیں۔ اتنے بچے شہید ہوئے آخر ایسا کیوں ہوا۔ سکول جیسی جگہ میں ایسا واقعہ کیوں ہوا۔پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کو چار برس مکمل ہونے کو ہیں مگر اس حملے میں مارے جانے والے درجنوں بچوں کے والدین آج بھی اس سانحے سے جڑے سوالات کے جوابات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔سپریم کورٹ نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے جو حملے کے چار سال بعد وزارت دفاع سے طلب کیے گئے جوابات موصول ہونے کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرنے والا ہے۔مگر کیا یہ کمیشن اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر سکے گا؟ کیا والدین اس کمیشن کی رپورٹ سے مطمئن ہو جائیں گے؟ اور کیا اگر کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو اسے سزا دی جا سکے گی؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ہر کوئی تلاش کر رہا ہے۔پشاور کی ورسک روڈ پر قائم آرمی پبلک سکول پر مسلح شدت پسندوں نے 16 دسمبر 2014 کو حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 147 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔حملہ آور عقبی دیوار پھلانگ کر سکول کے آڈیٹوریم میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کچھ بچوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا جب کہ ایک ٹیچر کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ملکی سطح پر پالیسیوں میں تبدیلیاں لائی گئیں اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت شدت پسندوں کے خلاف متعدد کارروائیاں اور آپریشنز کیے گئے۔اے پی ایس حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اس سانحے کے بعد سے مطالبہ کرتے رہے کہ ایک خودمختار آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ اس حملے میں ملوث افراد اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور انھیں سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔ان چار سالوں میں حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں اور اساتذہ کے والدین نے عدالتوں سے بھی رجوع کیا لیکن والدین مطمئن نہیں ہوئے اور ان کی درخواستیں واپس کر دی گئی تھیں۔اسی دوران نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں سکیورٹی حکام کے مطابق اے پی ایس حملے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی کی گئیں اور کچھ لوگوں کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے بعد سزائے موت اس بنا پر دی گئی کہ وہ لوگ آرمی پبلک سکول حملے میں ملوث تھے۔تاہم حکام کے اس اقدام سے بھی والدین مطمئن نہیں ہوئے اور ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور انھیں سزا دی گئی انھیں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ تھے کیسے انھوں نے منصوبہ بندی کی اور انھیں عوام کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔والدین کا موقف رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاونی میں قائم فوج کے زیر انتظام سکول میں حصولِ تعلیم کے لیے گئے تھے وہ جنگ کے محاذ پر نہیں تھے اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کی فیس سکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے دیتے تھے تو پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت کا نتیجہ تھا؟والدین کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن کی غفلت یا لاپروائی سے یہ حملہ ہوا ہے انھیں سزا دی جائے۔سپریم کورٹ نے پانچ اکتوبر 2018 کو کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سینیئر جج کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن تشکیل دیں جو ان والدین کی شکایات کی روشنی میں مکمل تحقیقات کرے جن کے جگر گوشے 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردی کی اس واردات میں اپنی جان سے گئے۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ کمیشن ان والدین کی شکایات کے ازالے کے لیے مکمل تحقیقات کرے گا اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔یہ کمیشن جسٹس ابراہیم خان کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا جس نے 12 اکتوبر سے کام شروع کیا اور جن 103 افراد کے بیانات قلم بند کیے ان میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین اور اساتذہ کے اہلخانہ کے علاوہ واقعے میں زخمی ہونے والے بچے بھی شامل ہیں۔جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ 45 روز میں رپورٹ جمع کرانی تھی لیکن 103 افراد کے بیانات قلمبند کرنے اور انھیں پورا موقع دینے کی وجہ سے کمیشن نے 15 روز کے لیے توسیع کی درخواست کی تھی جس کے بعد اب توقع ہے کہ اس ماہ کی 20 تاریخ تک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی جائے گی۔کمیشن اس وقت وزارت دفاع کے جواب کا بھی انتظار کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وزارت دفاع کو یاد دہانی کے خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔ وزارت دفاع سے بدھ کی شام تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔اطلاعات کے مطابق وزارت دفاع نے جی ایچ کیو سے تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بارے میں ان کا بیان کمیشن میں پیش کیا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ کمیشن کے ارکان آرمی پبلک سکول کا دورہ بھی کریں تاکہ حقائق معلوم کیے جا سکیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کمیشن ذمہ داروں کا تعین کر سکے گا؟ بعض والدین اس ضمن میں مایوس ہیں۔ فضل خان ایڈووکیٹ کے بیٹے عمر خان سکول حملے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ عمر خان آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے۔فضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس سال نو مئی کو بھی ایک کمیشن تشکیل دینے کا کہا تھا لیکن اس وقت اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہانھوں نے اپنے حق کے لیے درخواست دی تھی جو مسترد ہو گئی اور پھر از خود نوٹس پر کمیشن تشکیل دے دیا گیا۔فضل خان کے مطابق ان کی خواہش تھی کہ کمیشن سپریم کورٹ کے اعلی ججوں کی سربراہی میں قائم ہوتا اور وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو طلب کر کے تحقیقات کرتا تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکتا۔تاہم فضل خان کے برعکس والدین کی بڑی تعداد ایسی ہے جنھوں نے اس کمیشن کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بہتر نتائج سامنے آ سکیں گے۔اجون خان ایڈووکیٹ کے طالب علم بیٹے اسفند خان اس حملے میں حملہ آوروں کا نشانہ بنے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ اس سے ذمہ داروں کا تعین ہو سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ ان لوگوں کو سامنے لایا جا سکے جن کی وجہ سے سکیورٹی ناکام ہوئی اور اس سے ایسا ہو سکتا ہے کہ آئندہ سکیورٹی ایجنسیاں بھی الرٹ ہوں گی کہ کوئی ان سے پوچھنے والا ہے اور پوچھنا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ 28 تاریخ کو دھمکی موصول ہونے کے بعد 540 روپے فی طالبعلم پرائیویٹ گارڈز کے لیے چارج کیے گئے تھے اور اس سکول میں دو ہزار طالب علم ہیں اور اس واقعے میں کوئی پرائیویٹ گارڈ ہلاک نہیں ہوا تو یہ ساری رقم کہاں گئی؟۔گل شہزاد خٹک کی بیٹی سعدیہ گل اس سکول میں انگلش کی استانی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے کمیشن نے تمام والدین کو سنا اور انھیں مکمل موقع اور وقت دیا تو لگتا ہے کہ کچھ بہتری آ سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔یہ کمیشن اگر ان جوابات کو تلاش کر لیتا ہے تو شاید والدین کے ان زخموں پر مرہم رکھنے کی وجہ بھی بنے جو چار برس گزرنے کے بعد بھی ہرے ہیں۔پشاور سے تعلق رکھنے والی شاہانہ عجون کے بیٹے اسفند خان آرمی پبلک سکول میں دسویں جماعت کے طالبعلم تھے اور اس حملے میں مارے گئے۔ان کا کہنا ہے کہ چار سال بڑا عرصہ ہوتا ہے لیکن اس دوران ہم جن حالات سے گزرے اور جو دکھ اور تکالیف ہم نے برداشت کیں ان کو یاد کر کے ایسا لگتا ہے کہ جیسے آج بھی ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم اس وقت کو کبھی نہیں بھول سکتے جب ہم پاگلوں کی طرح ہسپتالوں میں گھوم رہے تھے، جب ان کی لاش گھر پہنچی اور جب ہم نے ان کو اس حالت میں دیکھا، اس سارے منظر کو یاد کر کے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے چند ہی لمحوں میں ہم سے دنیا کا سب کچھ چلا گیا ہو۔شاہانہ عجون کے مطابق ان چار سالوں میں ہم نے کبھی خوشی نہیں دیکھی، ہمیں سکون نہیں ملا، کبھی جی بھر کے آرام نہیں کیا، بیٹے کی شہادت نے ہماری سب خوشیاں اور آرمان ایسے پل بھر میں زمین بوس کر دیے کہ ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور اب دائمی غم ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ان کے بقول انھیں اگر پہلے سے یہ معلوم ہوتا کہ ان کے بیٹے کا ان کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے تو وہ انھیں کبھی کہیں جانے نہ دیتی اور ہر وقت ان کو پیار کرتی رہتیں۔شاہانہ عجون نے کہا کہ میں لاکھ بھی کوشش کروں لیکن پھر بھی اپنے اسفند کو نہیں بھلا سکتی، میں کیسے اسے بھول جاں جب ان کے دوست آتے ہیں، ان کے کزن آتے ہیں، وہ سب کتنے بڑے ہو چکے ہیں اگر میرا اسفند زندہ ہوتا تو آج وہ بھی کتنا بڑا ہو چکا ہوتا، وہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہوتا۔شاہانہ عجون کے بیٹے اسفند خان 2014 میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں حملہ آوروں کا نشانہ بنے تھے۔شاہانہ عجون نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ جب شروع ہوتا ہے تو ان کا غم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مہینے میں تو جیسے صبح و شام ان کے سامنے اے پی ایس واقعے کی وہ فلم چل رہی ہوتی ہے اور وہ سب مناظر ہو بہو سامنے نظر آتے ہیں۔’اس سال دسمبر کا مہینہ جب شروع ہوا تو میری ایک کزن نے مجھے ہیپی دسمبر کا پیغام بھیجا تو میں نے اسے فورا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر میرے لیے کبھی ہپی نہیں ہو سکتا یہ تو میرے لیے منحوس مہینے سے کم نہیں۔شاہانہ عجون نے کہا ‘بحثیت مسلمان ہم سب کا یہ عقیدہ ہے کہ میرا بیٹا اب کبھی واپس نہیں آ سکتا بلکہ اب تو ہم نے ان کے پاس جانا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت ہم اکیلے رونے والے نہیں تھے بلکہ پورا پاکستان ہمارے ساتھ رو رہا تھا۔ اس مشکل وقت میں تمام بچوں کے والدین ایک مٹھی کی طرح ایک دوسرے کا سہارا بنے کیونکہ وہی افراد آپ کا غم بہتر انداز میں جان سکتے ہیں جو خود اس صدمے سے گزر رہے ہوں۔انھوں نے کہا کہ ‘مجھے اس بات پر فخر ہے کہ آج میں ایک شہید بیٹے کی والدہ ہوں لیکن اس کے لیے میں نے بہت بڑی قربانی دی ہے۔ان کے مطابق ان کا بیٹا تو نہیں رہا لیکن ان کی یادیں ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں اور یہی حال اس واقعے میں بچے کھونے والی دیگر ماں کا بھی ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

22 اے ختم کرنے پر وکلاء کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ملک بھر میں وکلا برادری عدالتی کارروائیوں کا ...