بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / سال :2018 دنیا بھر 80 صحافی ہلاک ، 348 جیلوں میں ، 60 کے لگ بھگ یرغمال

سال :2018 دنیا بھر 80 صحافی ہلاک ، 348 جیلوں میں ، 60 کے لگ بھگ یرغمال

پاکستان کو 139 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں اس سال 3 صحافی قتل ہوئے۔

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز 1995 سے دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف تشدد، قتل اور سفاکانہ سلوک کے بارے میں اعداد و شمار سامنے لا رہا ہے۔ یہ گروپ اپنی رپورٹ میں دنیا کے 180 ملکوں میں صحافیوں کے کام کے لیے حالات و عوامل کی تحت درجہ بندی کرتا ہے۔اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال دنیا بھر 80 صحافی ہلاک ہوئے، 348 جیلوں میں بند ہیں جب کہ 60 کے لگ بھگ یرغمال بنائے گئے ہیں۔صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آٹ بارڈرز یعنی آر ایس ایف کی جانب سے 18 دسمبر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کو ایک ایسی سطح کے مخالفانہ رویوں کا سامنا ہے جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔آر ایس ایف کی رپورٹ کی تمام درجہ بندیوں میں شامل صحافیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ درجہ بندی، قتل، قید اور اغوا کے طور پر کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کی جبری گمشدیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سن 2018 میں رپورٹرز کو جس تشدد اور سفاکانہ رویوں کا سامنا رہا، اس سے پہلے اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔اس سال کے دوران قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد میں 8 فی صد اضافے سے یہ تعداد 80 ہو گئی جب کہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیے گئے صحافیوں کی شرح 2017 کے مقابلے میں 15 فی صد بڑھی۔ پچھلے سال قتل ہونے والے پروفیشنل صحافیوں کی تعداد 55 تھی جو اس سال 63 تک جا پہنچی۔اس سال جس صحافی کے قتل کے بارے میں سب سے زیادہ خبریں اور رپورٹس شائع ہوئیں وہ سعودی جرنلسٹ جمال خشوگی تھے جنہیں استنبول میں سعودی قونصلیٹ کے اندر بے رحمی سے قتل کر کے نعش غائب کر دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال قتل ہونے والے نصف سے زیادہ صحافیوں کو ہلاک کرنے سے پہلے سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔سن 2018 میں افغانستان صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ملک ثابت ہوا جہاں 15 صحافیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر شام ہے جہاں 11 صحافی قتل ہوئے اور تیسرے نمبر پر میکسیکو ہے جہاں 7 پروفیشنل صحافی اور 2 سیٹزن جرنلسٹس قتل ہوئے۔میکسیکو جنگ کے زون سے باہر ایک ایسا ملک ہے جہاں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اس سال دنیا بھر میں قید کیے گئے صحافیوں کی تعداد 348 رہی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 22 زیادہ ہے۔ 2017 میں زیر حراست صحافیوں کی تعداد 326 تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیلوں میں بند نصف سے زیادہ صحافیوں کا تعلق دنیا کے محض پانچ ملکوں سے ہے جن میں چین، ایران، سعودی عرب، مصر اور ترکی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ قیدی چین کی جیلوں میں بند ہیں جن کی تعداد 60 ہے۔اس وقت تک اغوا کیے گئے صحافیوں کی تعداد 60 ہے۔ یہ تعداد پچھلے سال کے 54 کے مقابلے میں 11 فی صد زیادہ ہے۔ ایک صحافی کے سوا باقی تمام صحافیوں کو مشرق وسطی کے تین ملکوں شام، عراق اور یمن میں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔یرغمال بنائے گئے صحافیوں میں 6 غیر ملکی جرنلسٹس بھی شامل ہیں۔اگرچہ عراق اور شام میں داعش کو شکست ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود ماسوائے جاپان کے صحافی جوم پی یاسودا کے، جسے تین سال کے بعد شام سے رہا کر دیا گیا تھا، باقی صحافیوں کے متعلق کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں اور یہ کہ آیا وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔رپورٹرز ود آٹ بارڈرز 1995 سے دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف تشدد، قتل اور سفاکانہ سلوک کے بارے میں اعداد و شمار سامنے لا رہا ہے۔ یہ گروپ اپنی رپورٹ میں دنیا کے 180 ملکوں میں صحافیوں کے کام کے لیے حالات و عوامل کی تحت درجہ بندی کرتا ہے۔سن 2018 کی درجہ بندی کے لحاظ سے صحافیوں کے لیے سب سے محفوظ ملک ناروے ہے جب کہ اس فہرست میں دوسرا نمبر سویڈن اور تیسرا نیدر لینڈز کا ہے۔اس فہرست کے آخری نمبر پر شمالی کوریا ہے۔ جب کہ اس سے ایک درجہ اوپر 179 پر ارٹیریا اور 178 پر ترکمانستان ہے۔پاکستان کا شمار بھی صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ رپورٹرز ود آٹ بارڈرز کی تازہ فہرست میں پاکستان کو 139 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں اس سال 3 صحافی قتل ہوئے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں صحافیوں کو حکومتی اداروں اور مختلف گروہوں کی جانب سے بھی جبر اور دبا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کے لیے اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی آسان نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بھی صحافیوں کے لیے زمین تنگ ہو رہی ہے۔ اس سال بھارت میں 6 صحافی قتل ہوئے اور ان کے لیے فرائض کی ادائیگی کے حالات میں مزید ابتری آئی جس کے بعد اب بھارت کی رینکنگ 138 ہو گئی ہے۔اگرچہ افغانستان میں اس سال مجموعی طور پر 16 صحافی قتل ہوئے لیکن صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں کی درجہ بندی میں اس کا مقام پاکستان اور بھارت سے بہتر ہے اور اس کی رینکنگ 118 ہے کیونکہ وہاں صحافیوں کے لیے دیگر حالات ان کے مقابلے میں بہتر ہیں۔چین اس فہرست میں 176 ویں نمبر پر ہے۔ سن 2018 میں وہاں کسی صحافی کا قتل نہیں ہوا لیکن وہاں کے حالات صحافیوں کے آزادانہ کام کے لیے ساز گار نہیں ہیں۔پاکستان نے صحافیوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم "رپورٹرز ود آٹ بارڈرز” کے اس بیان کو مسترد کیا تھا کہ حکومت صحافیوں اور ان کے اداروں کے تحفظ کے لیے کافی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔کچھ سال پہلے جب رپورٹرز ود آٹ بارڈز نے اپنے ایک تازہ بیان میں حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں پاکستانی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔سابقہ حکومت کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا حکومت صحافیوں اور میڈیا ہاسز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جس میں صحافت سے وابستہ لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں پیشہ وارانہ انداز میں بلا خوف خطر ادا کرنے کے لیے ساز گار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ان کے بقول چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو بھی خط ارسال کیاگیا جس میں میڈیا ہاوسز اور صحافیوں کی سلامتی کے لیے تسلی بخش اقدام کرنے کا کہا گیا تھا۔اس وقت کے بین الاقوامی تنظیم کے ایشیا پیسیفک ڈیسک کے ڈائریکٹر بنجمن اسماعیل نے دوران پنجاب کے مختلف شہروں اور کراچی میں میڈیا ہاسز اور ان سے وابستہ افراد پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم عہدیداروں کی طرف سے کارروائی نہ کرنے کی مذمت کرتے ہیں، یہ ذرائع ابلاغ کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم کی مکمل عدم دستیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ان حملوں میں موٹرسائیکل سوار نامعلوم افراد مختلف میڈیا ہاسز کے دفاتر پر دستی بم پھینک کر فرار ہوتے رہے ہیں جن میں سے اب تک کسی کا بھی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض حملوں کے دوران جائے وقوع سے ایسے پرچے بھی ملے جن میں مبینہ طور پر داعش کی طرف سے دھمکی تحریر تھی اور حملہ آوروں کے بقول ذرائع ابلاغ کو "غیرجانبدار ہوئے حق اور سچ” پر مبنی کام کرنا چاہیئے اور ان کے موقف کو پیش کرنا چاہیے۔پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے طالبان کے مہلک حملے کے بعد جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں تیزی آئی وہیں ذرائع ابلاغ کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ دہشت گردوں کے بیانیے کو نشر اور جاری نہ کریں۔رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ صحافیوں اور ان کے اداروں کے تحفظ کے لیے مزید وسائل مہیا کرے اور ان اداروں کے لیے سکیورٹی کا درکار نظام فراہم کرے۔انہی دنوں پنجاب پولیس کے سربراہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ تمام میڈیا ہاسز کو سکیورٹی کے ایسے ہی انتظامات کرنے کا کہا گیا ہے جیسے کہ پشاور حملے کے بعد اسکولوں کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ ان میں کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب کے علاوہ ایمرجنسی الرٹ سسٹم کی تنصیب بھی شامل ہے جس کی وجہ سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی فوری اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو مل جائے اور متعلقہ سکیورٹی ادارے اس پر کارروائی کر سکیں۔پاکستان دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جنہیں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک تصور کیا جاتا ہے۔پاکستانی حکومت کا موقف رہا ہے کہ دہشت گردی نے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو متاثر کیا ہے وہیں ملک میں صحافتی برادری کو بھی ایسے ہی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صحافتی اداروں اور تنظیموں سے مشاورت کے بعد اقدام کیے جا رہے ہیں۔مقامی صحافتی تنظیمیں یہ کہتی آئی ہیں کہ پاکستان میں صحافی دو دھاری تلوار پر چل رہے ہیں کیونکہ جہاں انھیں ایک طرف دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے خطرات لاحق ہیں وہیں انھیں اپنے فرائض کی پیشہ وارانہ انداز میں ادائیگی کے دوران ریاستی اداروں کی طرف سے بھی دبا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جبکہ 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 180 ملکوں میں پاکستان کا نمبر ایک سو انسٹھواں تھا جو 12 درجے بہتری کے ساتھ2016 ایک سو سینتالیسویں نمبر پر آگیا ہے۔صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک موقر بین الاقوامی تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں گوکہ صحافیوں کو مختلف طرح کے خطرات اور دبا کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی تنازعات کی کوریج کرنے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ ایشیا میں سب سے زیادہ آزاد میڈیا میں سے ایک ہیں۔رپورٹر ود آٹ بارڈرز نامی تنظیم کی آزادی صحافت سے متعلق عالمی فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ2015 180 میںملکوں میں پاکستان کا نمبر ایک سو انسٹھواں تھا جو رواں سال 12 درجے بہتری کے ساتھ اب ایک سو سینتالیسویں نمبر پر آگیا تھا۔اس وقت پاکستان کے ایک سینیئر صحافی اور صحافیوں کے حقوق کے ایک سرگرم کارکن مظہر عباس بھی متفق ہیں کہ ملک میں سیاسی معاملات کی خبر نگاری اور مباحثوں میں میڈیا ماضی کی نسبت زیادہ آزاد ہے۔”عموما اگر ہم دیکھیں تو صحافیوں کو سنسرشپ کا اس طرح کے دبا کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بعض صورتحال میں اگر کسی سیاستدان کا کسی میڈیا چینل یا اس کے مالک پر اثر و رسوخ ہے تو وہ خبر بھی رکوا دیتے ہیں یا اس کی پیروی کو روک دیا جاتا ہے لیکن ماضی کی نسبت اگر ہم دیکھیں تو سیاسی معاملات کے حوالے سے میڈیا کو خاصی آزادی حاصل رہی ہے۔”ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحافیوں کے لیے سیاسی جماعتوں پر دبا ڈالنا نسبتا آسان ہوتا ہے اور وہ جمہوری طریقے سے اپنے اس حق کے لیے احتجاج بھی کرتے ہیں اور اس بنا پر آزادی صحافت پر قدغن لگانا مشکل ہوتا ہے۔رپورٹرز ود آٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں میڈیا کو درپیش خطرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو انتہا پسندوں اور ایجنسیوں، دونوں ہی کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ میڈیا کو درپیش خطرات کا تعلق ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال سے ہے۔”بعض معاملات بہت حساس ہوتے ہیں کہ جس کی بنا پر میڈیا پر دبا آ جاتا ہے اس ایونٹ کی اگر کوریج نہیں کی جاتی تو ہم دیکھتے ہیں کہ میڈیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے۔۔۔ اس کے لیے بدقسمتی سے باتیں تو بہت ہوتی رہتی ہیں لیکن جو حکمت عملی میڈیا کے مختلف فریقین کو بنانا چاہیے وہ اب تک نہیں بنا پائے ہیں۔ پیمرا کی ذمہ داری پر بھی بات ہوتی ہے لیکن میڈیا ہاوسز اپنی ذمہ داری ابھی تک محسوس نہیں کر پا رہے۔”حالیہ برسوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر ہلاکت خیز حملوں کے علاوہ میڈیا ہاسز پر بھی حملے ہو چکے ہیں جب کہ بعض واقعات میں سیکورٹی ایجنسیز کی طرف سے مبینہ طور پر کسی صحافی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے یا ہراساں کیے جانے سے متعلق بھی خبریں منظریں عام پر آچکی ہیں۔پاکستانی حکومتیں یہی کہتی رہی ہیں کہ وہ صحافیوں کے لیے ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جس میں وہ اپنے فرائض غیر جانبداری کے ساتھ آزادانہ طور پر انجام دے سکیں لیکن اس کے باوجود صحافتی تنظیمیں اس ضمن میں کچھ زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتیں۔ گزشتہ جولائی میںپاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ کی سربراہی میں پی ایف یو جے نے پریس کی آزادی کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، جس میں ذرائع ابلاغ پر غیر اعلانیہ سینسر شپ لگانے کے خلاف احتجاج تھا۔مذکورہ تحریک میں ڈان اخبار کی ترسیل و تقسیم روکنے کی کوششوں کے خلاف بھی آواز بلند کرنا تھا۔پی ایف یو جے کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ 5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ ہونے کی یاد میں تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس سے ملک میں ذرائع ابلاغ کے خلاف مذموم کارروائیوں کا آغاز ہوا۔اس سلسلے جنرل ضیا الحق کے لگائے گئے مارشل لا کے نتیجے میں ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کے خلاف روا رکھے گئے مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے پی ایف یو جے کی جانب سے تمام پریس کلبز اور اس حوالے سے منعقدہ تقریبات میں سیاہ پرچم لہرانے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ صحافیوں کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے ڈان کے دفاتر کے سامنے کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔پی ایف یو جے نے سینیٹ کے اجلاس کے موقع پر پریس کی آزادی کے لیے پارلیمنٹ کے باہر کیمپ لگانے کا بھی اعلان بھی کیا تھا۔صحافیوں کی تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت کی جانب سے میڈیا کی شکایات پر ان معاملات کے حل کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔پی ایف یو جے کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کو غیر اعلانیہ اور بلاوجہ سینسر شپ کا سامنا ہے جبکہ کچھ صحافتی اداروں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے جس کے خلاف اس تحریک کا آغاز کیا جارہا ہے۔جبکہ پی ایف یو جے کی جانب سے نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن سے اس معاملے کی جانب توجہ دینے اور ڈان اخبار کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

دھمکیاں اور خطرات کے سبب پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا مقابلہ منسوخ

اسلام آباد: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) نیدرلینڈز میں انتہائی ...