بنیادی صفحہ / قومی / زرداری، بلاول سمیت 172 افرادکے بیرونِ ملک جانے پر پابندی

زرداری، بلاول سمیت 172 افرادکے بیرونِ ملک جانے پر پابندی

حکومت کا ایجنڈا عوامی مسائل نہیں، بلکہ سیاسی انتقام ہے۔ پیپلز پارٹی
جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان
حکومت اپنے غیرقانونی مینڈیٹ کو چھپا نہیں سکتی۔ بختاور بھٹو زرداری
ایک ایک روپے کا حساب لیں گے۔ فواد چودھری
فہرست میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری، ہمشیرہ فریال تالپور اور وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور کچھ بینکوں کے صدور کے نام شامل ہیں۔جبکہ بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کا نام 72 ویں نمبر پر ہے
رپورٹ: چودھری محمداحسن پریمی
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت جعلی بینک اکانٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی فہرست جاری کردی ہے۔فہرست میں شامل تمام لوگوں کے نام ‘ایگزٹ کنٹرول لسٹ’ میں شامل کردیے گئے ہیں جس کے بعد ان کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی ہوگی۔فہرست میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری، ہمشیرہ فریال تالپور اور وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ سمیت 172 سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور کچھ بینکوں کے صدور کے نام شامل ہیں۔پیپلز پارٹی نے حکومت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کا ایجنڈا عوامی مسائل نہیں، بلکہ سیاسی انتقام ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔وفاقی حکومت نے جمعے کو ملزمان کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا نام 24 ویں نمبر پر، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا نام 27 ویں، فریال تالپور کا نام 36 ویں اور پراپرٹی ٹائیکون اور بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کا نام 72 ویں نمبر پر ہے۔پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ اور سابق وزیرِ اعلی سندھ قائم علی شاہ کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔اس کے علاوہ صوبائی وزیر امتیاز شیخ، حسین لوائی، ڈاکٹر ڈنشا ایچ انکل سریا، منصور قادر کاکا، مکیش چالہ، محمد اعجاز ہارون پر بھی بیرونِ ملک سفر کرنے پابندی عائد کردی گئی ہے۔مقدمے میں گرفتار عبدالغنی مجید سمیت ‘اومنی’ گروپ کے 10 افراد بھی بیرونِ ملک نہیں جاسکیں گے۔بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کے داماد زین ملک کا نام بھی فہرست میں ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری فنانس ناصر احمد شیخ، سیکریٹری انڈسٹری ضمیرحیدر اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے قائم مقام چیئرمین طاہر محمود اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد حسین بھی ملک سے باہر نہیں جاسکیں گے۔حکومت نے کئی نجی بینکوں کے سربراہان اور اعلی افسران پر بھی بیرونِ ملک جانے پر پابندی لگادی ہے۔ ان میں سمٹ بینک کے سربراہ حسین لوائی اور صدر ضمیر اسماعیل، سابق صدر نیشنل بنک علی رضا، قائم مقام صدر سمٹ بینک احسن رضا درانی، سندھ بینک کے چیئرمین بلال شیخ کے علاوہ کئی سابق اور موجودہ بیوروکریٹس اور تاجروں کے نام شامل ہیں۔گزشتہ روز وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے جعلی اکانٹس کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے نامزد کردہ 172 ملزمان اور مشتبہ افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔فواد چوہدری نے الزام لگایا تھا کہ ان افراد نے منی لانڈرنگ کے لیے عوامی عہدوں کا استعمال کیا تھا اور اب ان سے ایک ایک روپے کا حساب لیا جائے گا۔منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک نے اٹھایا تھا جب اس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ بھیجی تھی۔معاملے کی تحقیقات کے دوران ‘اومنی’ گروپ کا نام سامنے آیا تھا اور پتہ چلا کہ تھا تمام بینک اکانٹس 2013 سے 2015 کے دوران چھ سے 10 ماہ کے لیے کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔دستیاب دستاویزات کے مطابق ان اکاونٹس کے ذریعے کم از کم 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔رواں سال 5 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرچکی ہے۔ رپورٹ میں 172 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔آصف علی زرداری کی صاحب زادی بختاور بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایک "منتخب شدہ حکومت” نے میرے والد، بھائی اور پھوپھی کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔ ہمارے خلاف یہ ہتھکنڈے نہیں چلیں گے۔ ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ڈرا دھمکا کر اور دبا میں لا کر حکومت اپنے غیرقانونی مینڈیٹ کو چھپا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے خاندان نے رسوائی کے مقابلے میں موت کو قبول کیا اور اب بھی "ہم لڑیں گے اور ہم جیتیں گے۔ پیپلز پارٹی نے بھی وفاقی کابینہ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پی پی پی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اس طرح کی سازش اور میڈیا ٹرائل سے نہیں ڈرتی۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت احتساب اور انتقام میں فرق کرے اور اگر اسے احتساب کرنا ہے تو شروعات اپنے گھر سے کرے۔دریں اثنا وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا تھا کہ ملزمان کو سنے بغیر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ملزمان کو اپنا دفاع پیش کرنے کا پورا پورا حق ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں کے خلاف بھی اگر ثبوت ملیں گے تو ان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے جعلی بنک اکاونٹس کیس میں ملوث پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ بات وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ جمعرات کے روز میڈیا بریفنگ میں کہی۔وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ امید ہے آصف علی زرداری جے آئی ٹی کو سنجیدہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں جعلی بنک اکانٹس کیس میں 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان بھی شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ پرانا پاکستان نہیں جہاں دونوں بڑے سودے بازی کر لیں اور ہنسی خوشی زندگی گزاریں۔ وزیرِ اطلاعات کے مطابق ملک میں احتساب کا عمل بلاخوف و خطر جاری رہے گا، کرپٹ لوگ اوپر سے ہنس رہے ہیں لیکن درحقیقت اندر سے رو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے۔گڑھی خدا بخش میں سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنا نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر براہ راست تبصرہ تو نہیں کیا البتہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی پریس کانفرنس پر جواب دیا کہ حکومتی ہتھکنڈوں سے ہم نہیں ڈرتے، پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا اور اب بھی کریں گے، ان لوگوں کو سوائے ٹی وی پر باتیں کرنے کے کچھ نہیں آتا۔کراچی میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ کراچی میں امن کی صورتحال اچانک خراب ہوئی اور علی رضا عابدی کے قتل سمیت کئی واقعات ہوئے، اس وقت شہر میں کچھ گینگز دوبارہ فعال ہوگئے ہیں اور باہر بیٹھے کچھ لوگ امن خراب کررہے ہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم لندن
کے قائد الطاف حسین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی اور ایم کیو ایم الطاف حسین کی جانب سے کراچی میں امن خراب کرنے کا معاملہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔فواد چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں خواتین کی ایک ایک نشست میں اضافے کی تجویز پر غور جاری ہے۔جعلی بینک اکاونٹس کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، بحریہ ٹاون اور اومنی گروپ کو جعلی اکاونٹس اور ان کے ذریعے منی لانڈرنگ کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر کمرہ عدالت میں پروجیکٹر لگا کر جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری چلائی گئی جس میں آصف زرداری، بحریہ ٹاون اور اومنی گروپ پر جعلی اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔جے آئی ٹی کے رکن ڈاکٹر رضوان نے عدالت کو بتایا کہ تینوں گروپس نے مل کر 23 اکاونٹس سے 42 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ ان کے بقول صوبہ سندھ میں 19 ٹھیکے داروں کا ایک گروپ ہے جو اِن کے لیے منی لانڈرنگ کرتا ہے۔جے آئی ٹی کے سربراہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ ٹنڈو الہیار، کراچی اور لاہور میں بلاول ہاوس کے لیے رقم جعلی اکاونٹس سے ادا کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ بلاول ہاوس لاہور کی اراضی زرداری گروپ کی ملکیت ہے۔دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ لاہور کی اراضی گفٹ کی گئی تو پیسے کیوں ادا کیے گئے؟ کیا گفٹ قبول نہیں کیا گیا تھا؟۔سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت کو مزید بتایا کہ مشتاق اور ڈنشا نامی افراد آصف زرداری کے فرنٹ مین ہیں جب کہ ملک ریاض نے اپنے داماد زبیر کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔ان کے مطابق اومنی گروپ اور بحریہ ٹاون نے کِک بیکس دے کر زمینیں الاٹ کرائیں۔احسان صادق نے عدالت کو بتایا کہ زرداری گروپ نے 453 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے۔دورانِ کیس چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ماڈل ایان علی کہاں ہیں؟ کیا وہ بیمار ہو کر پاکستان سے باہر گئیں؟ کوئی بیمار ہو کر ملک سے باہر چلا گیا تو واپس لانے کا طریقہ کیا ہے؟۔جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلاول اور دیگر اہلِ خانہ کا ایک کروڑ بیس لاکھ سے ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے کا ماہانہ خرچہ جعلی اکاونٹ والی کمپنیوں سے ادا کیا جاتا تھا جب کہ کراچی اور لاہور کے بلاول ہاوسز کی تعمیر کے لیے بھی جعلی اکاونٹس سے رقوم منتقل ہوئیں۔دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں شامل کیے جائیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وزارتِ داخلہ کو درخواست دیں، ای سی ایل سے متعلق وہ فیصلہ کریں گے۔چیف جسٹس نے جے آئی ٹی رپورٹ فریقین کو دینے کا حکم دیا اور آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو کہا کہ رپورٹ پر آپ جواب جمع کرائیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے کھانچے ہیں، معاف نہیں کریں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے اومنی گروپ کی جائیدادوں کو کیس کے فیصلے کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام جائیدادیں ضبط کی جائیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ وہ پاکستان نہیں جو پہلے کا تھا۔ جہاں سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی جاتی تھی۔ اگر کوئی پیمپر میں ہے تو اس کے ساتھ ہی جائے گا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ زرداری اور بلاول کے گھر کے خرچے بھی یہ کمپنیاں چلاتی تھیں اور ان کے کتوں کا کھانا اور ہیٹر کے بل بھی کوئی اور دیتا تھا۔عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 31 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔جعلی بینک اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تفصیلی رپورٹ رواں ماہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی بینک اکاونٹس کیس میں گرفتار ملزمان انور مجید کو پمز اسپتال اسلام آباد جب کہ اے جی مجید اور حسین لوائی کو اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملزمان ان کے قریب رہیں گے تو اثر زیادہ ہو گا۔عدالت نے یہ حکم ہفتے کو لاہور رجسٹری میں جعلی بینک اکاونٹس کیس کی سماعت کے دوران دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ لوگ بہت بااثر ہیں، کراچی میں ان کا اقتدار ہے۔ یہ کراچی میں کیس پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ انہیں اسلام آباد منتقل کیا جائے تاکہ آزادانہ تفتیش ہو سکے۔ مکمل تفتیش کے بعد دیکھا جائے گا کہ انہیں واپس بھجوایا جائے یا نہیں۔سماعت کے دوران ‘اومنی’ گروپ کے سربراہ انور مجید کے وکیل نے عدالت سے بار بار استدعا کی کہ ان کے موکل سے کراچی میں ہی تفتیش کی جائے جسے چیف جسٹس نے مسترد کردیا۔پاکستان کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے پانچ ہزار ایسے بینک اکاونٹس کی نشاندہی کی ہے جنھیں مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔اسلام آباد میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تقریبا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیے گئے ۔انھوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ پاکستانیوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بنائے گئے اثاثوں کی جانچ پڑتال کر رہا ہے اور اب تک دس ممالک میں سات سو ارب روپے کے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی پلیٹ فارم ایسٹ ریکوری یونٹ تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد بیرون ممالک پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنا ہے۔وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر کے ساتھ پریس کانفرنس میں سینیٹر فیصل جاوید اور وزیراعظم کے مشیرافتخار درانی بھی موجود تھے۔وزیر اعظم کے مشیر نے بتایا کہ دبئی میں پاکستانیوں کی 15 ارب ڈالر مالیت کی جائیدادیں موجود ہیں اور اس سلسلے میں دبئی کے حکام سے بات چیت جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں اقامے کی آرڑ میں بہت زیادہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اثاثوں کی یہ تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہیں لیکن بدعنوانی کے بارے میں جب کوئی ریفرنس دائر کیا گیا تو میڈیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔مبینہ منی لانڈرنگ کی تفصیلات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کی تفصیلات معلوم کرنے کے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکانٹس کیس کے مقدمے میں جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید دو ہفتوں کی مہلت دی ہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکانٹس کیس کی سماعت کی اور اس دوران جے آئی ٹی نے اب تک کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی ہے۔سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکانٹس کے مقدمے کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید دو ہفتوں کی مہلت دی ۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔جبکہ وزارتِ خزانہ نے منی لانڈرنگ اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ‘ہنڈی’ اور ‘حوالہ’ کے غیر قانونی طریقوں کی روک تھام کے لیے تعزیرات کو مزید سخت کرنے کے لیے متعلقہ قوانین میں ترامیم کی سفارشات منظور کی ہوئی ہے۔وزارتِ خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان سفارشات کی منظوری وزیرِ خزانہ اسد عمر کے صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلی سطح کے اجلاس کے دوارن دی گئی تھی۔ ان سفارشات کو اب حتمی منظوری کے لیے وزیرِ اعظم کو بھیجا گیا تھا۔مجوزہ ترامیم فارن ایکسچینج ایکٹ 1947، کسٹم ایکٹ 1969 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں کی گئی ہیں۔بیان کے مطابق اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر نے منی لانڈرنگ اور غیر بینکنگ چینلز سے رقو م کی غیر قانونی ترسیل کو روکنے کے لیے موثر مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔واضح رہے کہ حوالہ’ یا ‘ہنڈی’ سسٹم بینکاری اور مالیاتی اداروں سے الگ ایسا نظام ہے جس کے ذریعے رقوم غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر منتقل کی جاتی ہیں۔یہ طریقہ کار عموما کالے دھن کو سفید کرنے اور دہشت گردی کے لیے فراہم کیے جانے والے پیسے کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل سے متعلق بین الاقوامی نگران ادارہ ‘فنانشل ایکشن ٹاسک فورس’ (ایف اے ٹی ایف) ایک عرصے سے پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے اپنے مالیاتی نظام کو موثر بنانے پر زور دے رہا ہے۔اگرچہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اس ضمن میں کئی قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں لیکن ‘ایف اے ٹی ایف’ نے ان اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رواں سال جون میں پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کردیا تھا جنھوں نے ادارے کے مطابق منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مالی وسائل کی روک تھام کے مناسب اقدامات نہیں کیے۔تاہم اس دوران ہی ‘ایف اے ٹی ایف’ نے پاکستان کے ساتھ مل کر ایک ایسا لائحہ عمل بھی مرتب کیا جس پر عمل کر کے پاکستان اس فہرست سے نکل سکتا ہے۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کیے گئے تازہ اقدامات بھی ‘ایف اے ٹی ایف’ کے تجویز کردہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کو موثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔پاکستان فوریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ہنڈی یا حوالہ کے خلاف موجودہ قوانین کے موثر نہ ہونے کے وجہ سے نان بینکنگ چینلز سے رقوم کی ترسیل کو روکنا ایک مشکل امر تھا۔لیکن ان کے بقول اگر حکومت کی طرف سے اس حوالے سے تجویز کردہ اقدامات کو عملی شکلی دی جاتی ہے تو اس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے ہنڈی یا حوالہ کے نظام کے ذریعے رقوم کی ترسیل کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ ایسے اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر کرنے میں بھی مدد مل گی۔ منی لانڈرنگ اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے کیوں کہ اس وقت بھی لگ بھگ 30 فی صد لوگ غیر قانونی چینل سے رقوم کی ترسیل کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے تجویز کردہ اقدامات کی وجہ سے نہ صر ف بیرونِ ملک سے ترسیلِ زر میں اضافہ ہوگا بلکہ بدعنوانی میں بھی کمی آئے گی۔حالیہ عرصے کے دوران اگرچہ پاکستان نے بینکنگ سسٹم کے کنٹرول کو موثر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کہ اب بھی حکومت کے لیے ہنڈی اور حوالہ کے نان بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم کی ترسیل روکنا ایک چیلنج ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

22 اے ختم کرنے پر وکلاء کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ملک بھر میں وکلا برادری عدالتی کارروائیوں کا ...