بنیادی صفحہ / قومی / جہانگیر ترین کی سرکاری تقریبات میں شرکت توہین عدالت ہے۔شاہ محمود قریشی

جہانگیر ترین کی سرکاری تقریبات میں شرکت توہین عدالت ہے۔شاہ محمود قریشی


سیاسی معاملات میں وزیر اعظم کے علاوہ اور کسی کو جوابدہ نہیں۔جہانگیر ترین
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ پیر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کو کابینہ کے اجلاس سمیت سرکاری تقریبات میں نہیں بیٹھنا چاہیے کیونکہ اس سے حزب مخالف کی جماعتوں کو حکومت پر تنقید کرنے کا موقع ملتا ہے۔لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کو پیچھے بیٹھ کر حکومت کو مشورے دینے چاہیے۔جب وزیر خارجہ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے اٹھائیں گے تو انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اثاثے چھپانے کے الزام میں جہانگیر ترین کو زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا جس کی وجہ سے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم میاں نوا شریف کو بھی سپریم کورٹ نے آئین کے ارٹیکل62 ون ایف کے تحت عمر بھر کے لیے نااہل قرار دیا تھا ا ور اگر وہ پارٹی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوتے تو پھر جہانگیر ترین کو بھی عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کا وفاقی کابینہ اور سرکاری تقریبات میں شرکت پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کی توہین ہے۔انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین جن سرکاری افسران سے اجلاسوں میں بریفنگ لیتے ہیں، وہ افسران باہر آکر باتیں کرتے ہیں جو کہ کسی طور پر حکمراں جماعت کے حق میں نہیں ہوتیں۔البتہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے کئی صوبائی اور وفاقی وزرا جہانگیر ترین کے حق میں بول پڑے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں سب سے اہم کردار جہانگیر ترین کا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جہانگیر ترین نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔شاہ محمود قریشی کے بیان پر جہانگیر ترین کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کی مرضی سے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ سیاسی معاملات میں وزیر اعظم کے علاوہ اور کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ انھیں عوام کی خدمت کرنے سے شاہ محمود قریشی سمیت کوئی اور نہیں روک سکتا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹ میں موجود ارکان دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں ایک دھڑا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہے جبکہ دوسرے دھڑے کو جہانگیر ترین کی حمایت حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے دونوں بڑے رہنماوں کے درمیان اختلافات سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکمراں اتحاد میں شامل جو افراد بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے بارے میں کہہ رہے ہیں وہ حکومت کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس ادارے کا نام تبدیل کرنے کی نہیں بلکہ کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے دورے کے دوران گھوٹکی میں حکمراں اتحاد میں شامل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماوں سے ملاقات کے دوران ان رہنماں کے مطالبے پر وزیر اعظم عمران خان نے بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام تبدیل کرنے حکم دیا تھا۔ان رہنماں کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان پیپلز پارٹی یا سندھ کی صوبائی حکومت اس پروگرام کو چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ یہ ادارہ وفاقی حکومت چلارہی ہے اس لیے اس ادارے کے نام کو تبدیل کیا جائے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے جواب دیا کہ سمجھو ہوگیا`۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت تمام اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں کوشاں ہے۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف ایوان بالا یعنی سینیٹ میں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں وزیر اعظم کے اس فیصلے کے مذمت کی گئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ پسماندہ خاندان کی مالی معاونت کے لیے بنائے گئے ادارے کا نام بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام رکھنے کے لیے قومی اسمبلی میں قانون سازی کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکمران جماعت تحریکِ انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور اب اس طرح پی ٹی آئی میں کنگ میکر یا بادشاہ گر کہلانے والے جہانگیر ترین عمر بھر پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔یہ خبر یقینا پی ٹی آئی، حزبِ اختلاف اور پاکستانی سیاست سب کے لیے ایک اہم خبر ہے۔ ایک شخص جسے پاکستان تحریکِ انصاف کو ہر طرح متحرک کرنے کا، چاہے وہ مالیاتی معاملات ہوں یا الیکٹیبلز کو پارٹی میں لانا، کریڈٹ دیا جاتا ہو وہ ایک دم پسِ پردہ چلا جائے یا اس کا کوئی باضابطہ کردار نہ رہے پارٹی کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔ پی ٹی آئی وہ کہتی رہی ہے کہ جہانگیر ترین نے عدالت میں پہلے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دے رکھی ہے اس لیے درخواست پر فیصلہ ہونے تک وہ بے قصورتھے اور ساتھ ساتھ یہ امید بھی کی جاتی رہی کہ وہ دبنگ انداز میں واپس آ کر پنجاب کی گدی سنبھالیں گے اور شریف برادران کو زبردست ٹکر دیں گے۔ دوسری طرف حزبِ اختلاف کے لیے یہ اہم اس لیے ہے کہ پی ٹی آئی کا ایک بڑا ‘پاور بروکر’ اب مستقل بیک سیٹ پر چلا جائے گا اور خیال ہے کہ کم از کم پنجاب میں پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں گروپ بندی زیادہ بڑھے گی۔تاہم تجزیہ کار سمجھتے تھے کہ ان کی نا اہلی پی ٹی آئی کے ‘امیر ترین فائنانسیر’ تو تصویر سے باہر چلے جائیں گے لیکن اس کا کوئی فائدہ حزبِ اختلاف خصوصا پاکستان مسلم لیگ کو بالکل نہیں ہو گا۔ ‘ان کی درخواست بھی تو عدالت نے رد کر دی تھی۔ جہانگیر ترین ایک تیز سیاستدان ہیں اور انھوں نے پارٹی میں ایسی چال چلی ہے کہ بہت سے ارکانِ پارلیمان ان کے اپنے ہیں جس میں وزیرِ اعلی پنجاب بھی شامل ہیں۔’آج کچھ ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ وزیرِ اعلی پنجاب عثمان بزدار کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان کا اب تک ریکارڈ کوئی اچھا نہیں ہے لیکن اس کا تعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے بالکل نہیں۔ ایسا پہلے سے کہا جا رہا ہے۔ اب یہ کشمکش ہے کہ اگر اگلا وزیرِ اعلی آیا تو وہ کس کا ہو گا۔ شاہ محمود کیمپ کا یا جہانگیر ترین کیمپ کا۔’ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ عثمان بزدار کسی اور کے نہیں بلکہ عمران خان کے اپنے لائے ہوئے ہیں۔یہ بات کبھی ثابت نہیں ہو سکی ہے کہ عثمان بزدار کو جہانگیر ترین لائے ہیں۔ شاید عمران خان نے انھیں براہ راست چنا ہے چاہے جس کا بھی مشورہ تھا لیکن سچ یہ ہے کہ عمران خان کو یہ پسند آئے تھے، ان کی سادگی پسند آئی۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ مجھے کوئی عہدہ نہیں چاہیے تو عمران خان کو ان کی یہ ادا ہی بہت پسند آئی۔’تاہم جہانگیر ترین کی نا اہلی کی درخواست کے رد ہونے سے جہانگیر ترین کی پارٹی کے لیے کی گئی ساری محنت اگر ضائع نہیں ہوئی تو اس کو ایک شدید دھچکہ ضرور لگا ۔ اور جو پارٹی نے اور انھوں نے خود پنجاب کو چلانے کے منصوبے بنائے تھے وہ ضرور متاثر ہوئے ہیں۔ انتخابات میں جہانگیر ترین نے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھایہ بھی کہا جا رہا تھا کہ پنجاب کے اندر پالیسی پلاننگ کی جو ایک کمزوری نظر آ رہی ہے اس کو جہانگیر ترین آ کر درست کر دیں گے۔ ایگریکلچر کی پالیسی، ایریگیشن کی پالیسی، اور کون سا بیوروکریٹ لگانا ہے اور کون سا نہیں لگانا اس پر پی ٹی آئی مکمل طور پر جہانگیر ترین صاحب پر انحصار کر رہی تھی۔ جب جہانگیر ترین صاحب نا اہل قرار پائے اور انھیں پردے کے پیچھے جانا پڑا تو ایسا لگا کہ پسِ پردہ بھی وہ ہی فیصلے کیا کریں گے لیکن اب وہ بہت پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اور اس فیصلے کے بعد اب انھیں مزید سیاسی پسپائی اختیار کرنا پڑے۔”جتنا ان کا پہلے کردار تھا اور جتنا اب ہے اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلے لگتا تھا کہ عمران خان کے بعد اور کہیں کہیں عمران خان سے بھی آگے ان کا کردار تھا لیکن اب پارٹی کے لوگوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ جو کرسی جہانگیر ترین صاحب نے خالی کی اس پر اب دوسرے لوگ بیٹھ گئے ہیں۔ اور اب اگر کبھی جہانگیر ترین صاحب آتے بھی ہیں تو کبھی میڈیا اعتراض کر دیتا ہے، کوئی سوال اٹھ جاتا ہے یا وہ خود کبھی سمجھتے ہیں کہ کیونکہ میرے پاس کسی منتخب امیدوار والی طاقت نہیں ہے اس لیے مجھے کوئی اہم کردار نہیں ادا کرنا چاہیے۔انتخابات اور اس سے پہلے انتخابی مہم میں جو پی ٹی آئی کی سب سے بڑی طاقت نظر آئی تھی وہ اس کے سوشل میڈیا فولوورز تھے۔ ایسا اب بھی ہے شاید پہلے سے بھی زیادہ۔ جب بھی کوئی ایسی بات کہتا یا لکھتا ہے جس میں پی ٹی آئی پر تنقید کا عنصر آتا ہے تو سوشل میڈیا پر ایک فوج اس کے دفاع میں نکل آتی ہے اور اپنی پارٹی اور لیڈر کے لیے ڈٹ جاتی ہے۔آج کے جہانگیر ترین کے خلاف فیصلے کے بعد بھی ایسا ہی دیکھنے میں میں آیا۔لیکن جہانگیر ترین کے حامی کہتے ہیں کہ وہ ایک حقیقی جنگجو ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جنگ ہارے ہیں لیکن آپ نے ہمارے دل جیت لیے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لیے آپ کا خلوص لازوال ہے اور آپ کی کوششیں ناقابلِ فراموش۔ نئے پاکستان کے لیے آپ کی قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔بعض کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کی نااہلی کے خلاف درخواست کا مسترد ہونا ان کے سیاسی کیریئر کے تابوت میں آخری کیل تھا۔ بادشاہ گر کو اب مستقل طور پر جھوٹا اور مالیاتی دھوکے باز کہہ دیا گیا ہے۔ لیکن وہ ضروری اور طاقتور رہیں کیونکہ ان کے پیچھے وزیرِ اعظم عمران خان ہیں۔سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کی نااہلی کے خلاف اپیل رد کر دی ہے۔ کیا اب وزیرِ اعظم کے پاس ایسی کوئی وجہ ہے کہ انھیں پارٹی یا سرکاری میٹنگز میں بیٹھنے دیں۔ اب تک کسی ادارے نے ان کے سوئس اکانٹس کے بارے میں کوئی آواز کیوں نہیں اٹھائی۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

ملک گیر مہنگائی سے عوام اہم نشانے پر

کیا غریب عوام روٹی کم کھائے اور بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ ...