بنیادی صفحہ / جرائم / جعلی اکاونٹس کیس میں پہلا ریفرنس دائر، 60 کروڑ روپے کا پلاٹ نیب کے حوالے

جعلی اکاونٹس کیس میں پہلا ریفرنس دائر، 60 کروڑ روپے کا پلاٹ نیب کے حوالے

رپورٹ:اے پی ایس
قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکانٹس کیس میں پہلا عبوری ریفرنس دائر کردیا، جس میں 8 سینئر سرکاری عہدیداران اور نجی کمپنی کے ڈائریکٹر کو نامزد کیا گیا ہے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب کی پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس میں درخواست کی گئی ہے کہ نامزد ملزمان نے کراچی میں بڑی پراپرٹیز خریدیں، جس کی رقم جعلی اکانٹس سے ادا کی گئی، لہذا ان کا ٹرائل ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص پلاٹس غیر قانونی طور پر الاٹ کیے اور اس کی وجہ سے قومی خزانے کو بڑا نقصان پہنچا۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ان میں کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی)کے سابق ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید، کے ایم سی کے سابق میٹروپولیٹن کمشنر متانت علی خان اور کے ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر سمیع الدین صدیقی شامل ہیں۔اس کے علاوہ دیگر نامزدگیوں میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کے ایم سی سید خالد ظفر ہاشمی، سابق ڈائریکٹر کے ڈی اے ونگ کے ایم سی نجم الزماں شامل ہیں جو اس وقت جوڈیشل حراست میں ہیں۔عدالت میں دائر ریفرنس میں شامل دیگر ملزمان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اے پی سی، کے ڈی اے ونگ کے ایم سی عبدالرشید، اسسٹنٹ ڈائریکٹر(نیلامی)کے ڈی اے ونگ کے ایم سی عبدالغنی اور پرتھینن کمپنی کے ڈائریکٹر یونس کڈواوی شامل ہیں۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق یونس کڈواوی نے نیب کو پلی بارگین کی پیش کش کرتے ہوئے 60 کروڑ روپے مالیت کے کراچی کے پلاٹ کے دستاویز پیش کردیے۔ذرائع کے مطابق یونس کڈواوی پر کراچی میں مندر اور لائبریری کی زمین کو غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کا الزام تھا، جس کی موجودہ قیمت 60 کروڑ روپے کے قریب ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز نیب کے ایگزیکٹو اجلاس میں بدعنوانی کے 6 ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جس میں سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی میونسپل کارپوریشن محمد حسین سید اور دیگر کے خلاف ریفرنس بھی شامل تھا۔ساتھ ہی احتساب کے ادارے نے جعلی اکانٹس کیس سے متعلق چیف ایگزیکٹو آفیسر اومنی گروپ آف کمپنیز عبدالغنی مجید اور دیگر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ جعلی اکانٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور دیگر اہم نام سامنے آئے تھے۔اس حوالے سے کراچی کی بینکنگ عدالت میں کیس زیر سماعت تھا جسے گزشتہ ماہ اسلام آباد کی احتساب عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص پلاٹس غیر قانونی طور پر الاٹ کیے اور اس سے قومی خزانے کو بڑا نقصان ہوا۔تاہم اس کیس کے اسلام آباد منتقلی کی وجہ سے 22 مارچ کو احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو میگا منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکانٹس کیس میں 8 اپریل کو طلب کیا ہوا ہے لیکن دونوں شخصیات پہلے ہی عبوری ضمانت لے چکی ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب)کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کے 6 ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی، جس میں اومنی گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر کے خلاف ریفرنس بھی شامل ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتساب کے قومی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی نیب ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں مختلف امور اور زیر تفتیش کیس کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد بدعنوانی سے متعلق 6 ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق سیکریٹری ویلفیئر فنڈز افتخار رحیم خان و دیگر کے خلاف بدعنوانی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ان ملزمان پر مبینہ طور پر بدعنوانی اور فنڈز میں خورد برد کا الزام ہے۔ملزمان پر الزام ہے کہ ان کے خورد برد سے قومی خزانے کو تقریبا 46 کروڑ 60 لاکھ روپے نقصان پہنچایا۔نیب کی جانب سے دوسرا ریفرنس سابق ڈائریکٹر اربن پلاننگ سی ڈی اے غلام سرور سندھو اور دیگر کے خلاف بدعنوانی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔اعلامیے کے مطابق ملزمان پر مبینہ طور پر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ڈپلومیٹک انکلیو میں شٹل بس سرس کے لیے ساڑھے 4 ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا الزام ہے، جس سے قومی خزانے کو 40 کروڑ 83 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔اجلاس میں تیسرا بدعنوانی ریفرنس سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) محمد حسین سید اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فلاحی مقاصد کے لیے مخصوص پلاٹس غیر قانونی طور پر الاٹ کیے اور اس سے قومی خزانے کو بڑا نقصان ہوا۔نیب کے اجلاس میں چوتھا بدعنوانی کا ریفرنس چیف ایگزیکٹو آفیسر اومنی گروپ آف کمپنیز عبدالغنی مجید اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی اکانٹس اور غیر قانونی طور پر 7 ایکڑ سرکاری اراضی کو ریگولرائز کروایا، جس سے قومی خزانے کو ایک ارب 42 کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔احتساب بیورو نے سابق سیکریٹری اسپیشل انیشی ایٹو ڈپارٹمنٹ سندھ اعجاز احمد خان اور دیگر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔اعلامیے کے مطابق ملزمان پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے من پسند افراد کو پانی فراہمی کی اسکیموں کا ٹھیکہ دینے کا الزام ہے۔نیب کے مطابق ملزمان کے اس اقدام سے قومی خزانے کو تقریبا 2 کروڑ 92 لاکھ 50 ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں آخری ریفرنس علی گوہر ڈاہری اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی گئی، ان ملزمان پر مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے۔نیب اعلامیے کے مطابق ملزمان کے اس عمل سے قومی خزانے کو تقریبا 7 کروڑ 48 لاکھ 50 ہزار روپے کا نقصان پہنچا۔علاوہ ازیں اجلاس سے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ‘احتساب سب کے لیے’ کی پالیسی پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ کراچی کی بینکنگ عدالت نے عبدالغنی مجید کی حوالگی کے حوالے سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کردیا تھا۔بینکنگ عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست میں نیب نے استدعا کی تھی کہ عبدالغنی مجید کو زمینوں پر قبضے اور جعل سازی کیس میں مزید تفتیش کے لیے ان کے حوالے کیا جائے۔خیال رہے کہ اومنی گروپ کے مالک عبدالغنی مجید اپنے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے ہمراہ منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہیں۔درخواست میں نیب پراسیکیوٹر نے بینکنگ عدالت کے جج کو بتایا کہ کراچی میں تجاوزات پر مبینہ قبضے سے متعلق تفتیش کے سلسلے میں نیب کو ان کی حوالگی کی ضرورت ہے۔انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ جیل حکام کو، ملزم کو نیب کے حوالے کرنے سے متعلق احکامات جاری کرے جبکہ نیب کو ملزم کی گرفتاری کی اجازت دی جائے۔تاہم جج طارق محمود کھوسو نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملزم کو نیب کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کرنا بینکنگ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ عبدالغنی مجید اوشین پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر عباس علی آغا کی جانب سے کراچی کے علاقے کلفٹن میں 4 ہزار ایکٹر اراضی کے مبینہ قبضے سے متعلق کیس میں ملوث ہیں۔بیورو کی جانب سے ریفرنس میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادر کاکا بھی اس میں ملوث ہیں۔سندھ ہائی کورٹ نے جعلی بینک اکانٹس کیس کی تحقیقات کراچی سے راولپنڈی منتقل کرنے کے بینکنگ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلے کے خلاف تمام اپیلیں مسترد کر دیں ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، عبدالغنی مجید، انور مجید اور حسین لوائی نے بیکنگ کورٹ کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چینلج کیا تھا۔خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردای، فریال تالپور، اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید، ان کے بیٹے سمیت 10 افراد کے خلاف بینکنگ کورٹ میں گزشتہ برس اگست میں چارج شیٹ پیش کی تھی۔چارج شیٹ میں ملزمان کے خلاف سمٹ، سندھ اور یونائیٹڈ بینک میں جعلی بینک اکانٹس کے ذریعے 4 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر بینکنگ کورٹ نے 15 مارچ 2019 کو جعلی بینک اکانٹ کیس راولپنڈی احتساب عدالت میں منتقل کر دیا تھا۔بعدازاں سپریم کورٹ نے معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے نئے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دے کر نیب کو آزادانہ طور پر 2 مہینے کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی۔گزشتہ سماعت میں نیب کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب سے متعلق آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے آج اپنے دلائل پیش کیے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف مزید تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا تاہم مقدمے کو منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ نیب عدالت کو مقدمہ کی سماعت کا اختیار نہیں اور نیب چیئرمین کو عدالت میں جمع ہونے والے حتمی چالان تک انتظار کرنا چاہیے۔حسین لوائی اور طلحہ رضا، شوکت حیات کے وکیل نے حتمی دلائل میں کہا کہ یہ تاریخ کا پہلا مقدمہ ہے جو ایک صوبے سے دوسرے صوبے کو منتقل کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کیس منتقل کرنے کا حق نہیں رکھتی اور نہ ہی نیب کے چیئرمین یہ اختیار رکھتے۔شوکت حیات نے کہا کہ چیرمین نیب کو دوسرے صوبے میں منتقل کر نے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تاہم اس مقدمے کی انکوائری 2015میں بند کردی گی تھی۔تاہم سندھ ہائی کورٹ نے تمام اپیلیں مسترد کردی جس کے بعد مقدمہ کراچی سے راولپنڈی احتساب عدالت میں منتقل ہوگیاہے۔گزشتہ دسمبر کے آخر میں وزیراعظم عمران خان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تمام اقدامات کو پاکستان کے حق میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں منی لانڈرنگ کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کرنے جارہے ہیں۔اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کی چیخیں سن رہا ہوں لیکن منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ان ملزمان سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے لیے ‘آئی ایم ایف’ پروگرام کی ضرورت نہیں اور ہم آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن نہیں لیتے۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں اصلاحات ملک کے لیے کیں، منی بجٹ عوام دشمن نہیں ہوگا بلکہ کاروبار کا فروغ چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی اسمگلنگ کرنے والے بھی اپنے دن گننا شروع کردیں۔ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تمام اقدامات پاکستان کے حق میں ہیں کیونکہ ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ روکنے اور مسلح گروپوں کی روک تھام چاہتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ واضح کردوں کہ ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اب کوئی بحران نہیں ہے، سرمایہ کار اطمینان رکھیں ملک میں کوئی غیر یقینی کی صورت حال نہیں ہے۔حکومتی اقدامات کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اور موثر غربت مٹاو پروگرام لے کر آرہا ہوں۔بعد ازاں اسلام آباد میں دنیا بھر سے آئے ہوئے پاکستانی سفیروں کی دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے سفیروں کو بیرون ملک منی لانڈرنگ کے حوالے سے کام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں دوسروں پر انحصار کی پالیسی سے بہت نقصان پہنچا۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی وقار کی بات پر مذاق اڑایا جاتا ہے، قوموں کی غیرت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘دوسروں پر انحصار پر بنائی گئی پالیسی سے نقصان پہنچا، سیٹو، سینٹو اور امریکا سے امداد نہ آئی تو ملک تباہ ہوجائے اور انحصار کے تحت خارجہ پالیسی بنائی گئی اور ہماری قیادت نے فیصلے اس بنیاد پر کیے کہ امداد کہاں سے آئے گی اور ہمیں آئی ایم ایف سے قرضہ کیسے ملے گا’۔انہوں نے کہا کہ دوسروں پر انحصار کی پالیسی سے بہت نقصان ہوا اس لیے دوسروں پر انحصار کی پالیسی کو ترک کرنا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ ‘جب ہمارے پاس خسارہ بڑھنے لگا تو ملک میں آمدنی بڑھانے کے بجائے قرض لینے یا امداد لینے کا شارٹ کٹ لیا جس سے ہم نے اپنی خومختاری بھی کھو دی اور ہماری غیرت اور خود داری ختم ہوگئی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کر سکے اور قوم کی تعمیر بھی نہیں ہوئی اور ملک میں جتنے بھی مسائل آئے ہیں وہ اسی ذہنیت کی وجہ سے آئے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ذہنیت میں تبدیلی آئے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘ذہنیت میں تبدیلی لانے اس لیے ضروری ہے کیونکہ باہر ہماری ایک بری تصویر ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ایران میں خمینی کے انقلاب کے بعد مغرب میں اسلامی بنیاد پرستوں کی اصطلاح آئی اس کے بعد نائن الیون اور اس سے قبل بھی میں نے دیکھا کہ ہماری قیادت خود ہمارے وزرااعظم باہر جاکر دنیا کو یہ کہتے تھے کہ میں ہوں لبرل اور اب مجھے بچالو ورنہ یہاں سارے بنیاد پرست آئیں گے اور ڈراتے تھے’۔گزشتہ حکومت اور وزیر خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘واشنگٹن میں ایشیا سوسائٹی میں پاکستان تحریک انصاف اور اپنے اندر فرق کے سوال پر وزیرخارجہ کہتا ہے کہ ہم لبرل ہیں اور یہ تحریک انصاف مولویوں کے ساتھ ہے’۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘اس ملک کی اشرافیہ نے پیسے لینے کے لیے اپنے آپ کو لبرل بنا کر ملک میں تقسیم پیدا کی اور میں نے خود صحافیوں کو دیکھا کہ جو یہ کہہ رہے تھے کہ یہاں بنیاد پرست آئیں گے، لیکن دنیا میں ہر جگہ اکثریت جدید لوگوں کی ہوتی ہے جبکہ بنیاد پرست بھی ہوتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مختصر مدت کے مفاد کے لیے غلط فیصلے کیے اور اشرافیہ ذاتی مفاد کے لیے بیرون ملک، پاکستان کا منفی تشخص پیش کرتی رہی۔سفیروں کو اپنی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے دفتر خارجہ اپنی ذہنیت تبدیل کرے، ہم اپنے سفیروں سے وہ کام چاہتے ہیں جو ابھی تک نہیں ہوا اور پاکستان ٹیم ورک سے ہی اس صورت حال سے باہر آئے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دفتر خارجہ اور سفیروں سمیت دیگر اداروں سے رابطہ بہت ضروری ہے کیونکہ جن چیلنجز کا سامنا ہے ان پر معمول کے طریقوں سے قابو نہیں پاسکتے ہیں’۔عمران خان نے کہا کہ ‘سفیروں سے سب سے پہلے میں یہ چاہتا ہوں کہ سمندر پار پاکستانیوں سے معاملات ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے جو استعمال میں نہیں ہے اس لیے ان کے لیے تمام رکاوٹیں ختم کرنے ہیں اور ان کی فہرستیں بنائیں تاکہ ہم ان سے رابطہ کرسکیں، آپ ان سے مسلسل رابطے میں رہیں کیونکہ وہ سرمایہ کاری کریں گے’۔سفیروں کو وزیراعظم نے کہا کہ ‘دوسرے نمبر پر باہر رہنے والے ہمارے محنت کش کے لیے آسانیاں پیدا کریں، ان کے لیے خاص رحم ہونا چاہیے کیونکہ 19 ارب ڈالر نہ آئے تو ہمارا کیا حال ہو اس لیے ان کی خدمت کریں’۔انہوں نے کہا کہ ‘برآمدات کے حوالے سے توجہ دیں کہ ہم افریقہ اور لاطینی امریکی ممالک کو کیا فروخت کرسکتے ہیں اور وہاں جائیں تو آپ رپورٹ لیں کہ ہم کیا کررہے ہیں’۔وزیراعظم نے سفیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘چوتھی چیز منی لانڈرنگ پر بھی آپ کی بڑی مدد چاہیے کیونکہ منی لانڈرنگ کے حوالے جعلی بینک اکاونٹس کی رپورٹ پڑھی ہوگی اور کس سطح پر پیسہ چوری ہوکر باہر جا رہا ہے’ان کا کہنا تھا کہ ‘منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی، لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کے لیے مختلف ممالک سیمعاہدے کر رہے ہیں’۔عمران خان نے کہا کہ ‘امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا اندازہ ہے کہ 10 ارب ڈالر کی سالانہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے اس کو جتنا بھی روک سکیں روکیں کیونکہ ہمارے روپے پر جو دباو پڑتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے’۔قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ غیر مستحکم داخلی صورت حال منفی تشخص کی وجہ بنی، داخلی صورت حال پر توجہ دیے بغیر خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت تک ایک موثر خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی جب تک آپ داخلی معاملات کو مدنظر نہیں رکھتے، اگر داخلی صورت حال صحیح نہیں ہے تو جتنے بھی قابل سفارت کار کیوں نہ ہوں وہ توقعات کے مطابق کام نہیں کرسکتے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

نیسلے دودھ میں زہریلے فارمولے سے بچی کی ہلاکت پر مقدمہ درج

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) لاہور کے ایک رہائشی ...