بنیادی صفحہ / قومی / تبدیلی کا وعدہ ڈراوناخواب بن چکا ہے

تبدیلی کا وعدہ ڈراوناخواب بن چکا ہے

عمران خان ہر وہ کام کر رہے ہیں جس پر وہ گزشتہ حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے۔
بدنظمی اور مفلوج انتظامیہ کے سبب معمول کے کام بھی متاثر ہوچکے ہیں
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
اگرکسی ملک کا کنٹرول کتوں کے حوالے کردیں تو آپ ہر روز یا دوسرے دن ان کے بھونکنے کے شور کے سوا کچھ نہیں سن سکتے۔ہم سب کے لئے پائیدار ترقی کا راستہ چاہتے ہیں۔مضبوط حکومت کا مطلب صرف فوجی طاقت یا موثر انٹیلی جنس اوزار نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ موثر، منصفانہ انتظامیہ دوسرے الفاظ میں ‘اچھی حکمرانی’۔ہر کوئی موجودہ فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچتا ہے، لیکن کوئی بھی خود کو تبدیل کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا تاہم یہ سب کچھ ہماری سوچ میں تبدیلی کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتاکیونکہ ہم اس سوچ کے ساتھ ان مسائل کو حل نہیں کرسکتے جو سوچ ان مسائل کا سبب بنی تھی۔ ایک خراب حکومت کو صرف ‘خراب’ حکومت کے طور پر نہیں کہا جاسکتا بلکہ حقیقی صفت یہ ہونا چاہئے: دشمن! جی ہاں، بری حکومتیں ملک کے لئے ایک حقیقی دشمن ہوتی ہیں جس میں دشمن حکومت کے اندرہوتے ہیں! بد ترین حکومتیں ہمیشہ جھوٹ بولتی ہیں کیونکہ سچ کہنے کیلئے عزت اور جرات کی ضرورت ہوتی ہے! ہوشیار قومیں وہ ہیں جو اپنی حکومتوں کے فرسودہ نظام کو تبدیل کر رہی ہیں! ورنہ یہ فرسودہ نظام گھومتا رہے گا۔ اگر آپ کا ملک بیوقوف لوگوں کی طرف سے کنٹرول کیا جاتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ ذاتی طور پر آگے بڑھیں کیونکہ آپ کا ملک نیچے جا رہا ہوتا ہے اور خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ ختم نہ ہوجائے۔جبکہ تجزیہ کاروں و مبصرین کا کہنا ہے کہ تبدیلی کا وعدہ ڈراونے خواب میں بدل چکا ہے، لیکن خود کو مبارک باد دینے کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی 8 ماہ کی حکمرانی اب تک ایک ایسا سبق بنی ہوئی ہے کہ کس طرح مسلسل غلطی پر غلطی کی جاتی ہے۔اس کا تعلق صرف نااہلی اور ناتجربہ کاری سے نہیں بلکہ اس کا تعلق خود کو نیک دکھانے سے بھی ہے جو خان حکومت کی خاص علامت بن چکی ہے۔ فوری طور پر گورننس کا وعدہ پورا ہوتا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ بدنظمی اور مفلوج انتظامیہ کے سبب معمول کے کام بھی متاثر ہوچکے ہیں۔ یہ پستی کہیں بھی رکتی نظر نہیں آتی۔ حکومت کی کارکردگی یہ بتارہی ہے کہ عوامی مقبولیت کس حد تک محدود ہوتی ہے۔ یعنی ان کی حمایت میں آنے والی حکومت لازمی کامیاب ہوگی یہ ضروری نہیں ہے۔عمران خان ہر وہ کام کر رہے ہیں جس پر وہ گزشتہ حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ ٹھیک اسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں متعارف کروارہے ہیں جس کی وہ ماضی میں زبردست انداز میں مخالفت کرچکے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسی اسکیمیں کرپشن کو دی جانے والی قانونی شکل کے برابر ہوا کرتی تھیں۔ تو اب یہ کیسے جائز ہوگئیں ہیں؟ لیکن، ہاں ان کے مطابق یوٹرن لینا قیادت کی ایک علامت ہے۔جبکہ حال ہی میں پنجاب میں قائم پی ٹی آئی حکومت نے جس طرح صوبائی وزرا کے لیے 70 لگژری گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے وہ ان کی کفایت شعائر مہم کو منہ چڑھانے کے مترادف ہے۔ ان نئی خریدی جانے والی گاڑیوں کی کل لاگت یقینی طور پر ان پیسوں سے کہیں زیادہ ہوگی جو وزیرِاعظم ہاس کی گاڑیوں کی نیلامی کی صورت حاصل ہوئے تھے۔ جی وہی گاڑیاں جنہیں وہ اسٹیٹس کو کی علامت قرار دیتے تھے جسے توڑنا ضروری تھا۔ ان کے منتخب کردہ وزیراعلی پنجاب کو ان کے عاجزانہ پس منظر نے بھی اس بڑے منصب کے بعد تاحیات مراعات کے حصول کی کوشش سے باز نہ رکھا۔ایک وقت میں جس صوبے کی انتظامی صورتحال باقی پاکستان سے بہتر بیان کی جاتی تھی، ملک کے اس بڑے اور سب سے طاقتور صوبے کی صورتحال کافی پست نظر آتی ہے۔ قیادت سے عاری صوبائی انتظامیہ سے معاملات طے کرنے میں کثیر الفریقی اور امدادی اداروں کو کافی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلسل نیب کی کڑی جانچ پڑتال کے سائے میں بیوروکریسی کوئی خطرہ مول لینے اور ایسے کسی بھی قسم کے فیصلے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی جو انہیں مشکل سے دوچار کرسکتا ہو۔خیبرپختونخوا کے معاملات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ صوبے میں مسلسل دوسری بار حکمرانی کر رہی پی ٹی آئی حکومت 2017 میں متعارف ہونے والے میٹرو بس منصوبے سے متعلق شرمناک اسکینڈل میں ملوث نظر آتی ہے۔ تاحال اس نامکمل منصوبے کی لاگت تقریبا 70 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔جائزاتی ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں فنڈز کی بدانتظامی اور منصوبے میں دیگر خرابیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ لیکن انسدادِ کرپشن کے علمبرداروں کو اپنے گھر کے پیچھے ہونے والے اس اسکینڈل سے کچھ زیادہ فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بات حزبِ اختلاف کے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے احتساب کے الزامات کو بھی تقویت بخشتی ہے۔اعجاز شاہ کی تعیناتی کے بعد وفاقی کابینہ اب اور بھی زیادہ مشرف دور کی نمائندہ نظر آتی ہے۔ سابق آئی بی چیف بلاشبہ کسی قسم کی سیاسی میرٹ پر تعینات نہیں ہوئے ہیں۔ کابینہ میں شامل پرانے چہروں کی بے پناہ موجودگی عمران خان کی جانب سے کیے گئے ان وعدوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ کریں گے اور لیڈران کی ایک نسل متعارف کروائیں گے۔عمران خان جب حزبِ اختلاف کا حصہ تھے تب انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ چند صلاحیت و قابلیت سے بھرپور ٹیکنوکریٹس کو پاکستان لائیں گے، لیکن عاطف میاں کے معاملے کے بعد کوئی بھی یہاں آنے کو تیار نہیں۔ حکومت میں شامل اعجاز شاہ اور ان جیسے دیگر حضرات کی وجہ سے مشکل ہی ہے کہ پروفیشنل افراد کو آگے بڑھ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب ملے گی۔ پی ٹی آئی کسی بھی دوسری اسٹیٹس کو پارٹی سے مختلف نہیں ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ان پر داغ کم لگے ہوں۔عمران خان کی حکومت جس غیر حقیقی اور خیالی جہان میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہے اسے وزیرِ خزانہ کے حالیہ اس دعوے سے زیادہ اور کوئی چیز ثابت نہیں کرتی کہ معیشت انتہائی نگہداشت کی صورتحال سے باہر ہے اور بحالی کی جانب گامزن ہے۔ بیل آٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے آخری دور کے لیے واشنگٹن روانگی سے قبل اسد عمر نے یہ واضح کیا کہ بحران ٹل گیا ہے۔یہ انتہائی پرامیدی سے بھرپور اعلان ایسے وقت میں آیا جب افراطِ زر 2 ہندسوں تک جا پہنچی، روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر نیچے آگئی اور اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دکھائی دی۔گزشتہ 9 ماہ کے دوران آمدنی کے حصول میں 300 ارب سے زائد کی ریکارڈ کمی نظر آئی ہے۔ جبکہ رواں برس اقتصادی شرح پیداوار ممکنہ طور پر 3.4 فیصد تک گھٹ جائے گی، اور ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اگلے سال یہ شرح 2.7 فیصد تک مزید گھٹ سکتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر معیشت ہرگز مشکل حالات سے باہر نہیں نکلی جس کا اشارہ وزیرِ خزانہ نے دیا ہے۔مسئلے کے نصف حصے کو تو استحکام کی خاطر تکلیف سے منسوب کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا زیادہ تر تعلق حکومت کی جانب سے جادوئی معاشیات (voodoo economics) یا غیر حقیقت پسند اور کوتاہ اندیش نظر آنے والی اقتصادی پالیسی پر عمل اور اس غیر یقینی کی صورتحال سے ہے جس کو حکومت کی سستی کے باعث ہوا ملتی رہی ہے۔ اسی کے باعث مقامی سرمایہ کاری بھی کافی کم رہی۔ حکومت کی جانب سے ایسی اصلاحات لانے یا ایسی رعایت دیے جانے کے بہت ہی کم آثار نظر آتے ہیں جن کی مدد سے سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔ترقیاتی بجٹ میں بھاری کٹوتیاں بھی اقتصادی پیداوار میں سستی کا باعث رہی ہیں۔ افراطِ زر کی بلند شرح اور اس پر پست اقتصادی پیداوار کی وجہ سے حالات افراطی جمود کی طرف جاسکتے ہیں جس کے سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑسکتے ہیں۔یقینا دوست ممالک سے لیے گئے ادھار کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی نے ہمیں ڈیفالٹ ہونے سے تو بچا لیا ہے مگر چونکہ نئے قرضے چڑھتے رہیں گے اس لیے اس مشکل سے چھٹکارا قلیل مدتی ہے۔ وزیرِ خزانہ کی جانب سے کرنٹ اکانٹ خسارہ کم ہونے کے دعوے کے باوجود بھی موجودہ کرنٹ اکانٹ خسارہ سب سے بڑا مسئلہ ہی رہے گا۔ پاکستان کا بیرونی قرضہ 100 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکا ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔اس سے بھی زیادہ پریشان کن مسئلہ اس سست و کاہل معیشت اور آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث بد سے بدتر ہوتی بے روزگاری کا مسئلہ ہے۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی جانب سے 50 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ پورا ہوتا بہت ہی کٹھن نظر آتا ہے۔ تاہم آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے اعلان کیا کہ اگلے چند ہفتوں میں پاکستان میں اتنی زیادہ ملازمتوں کے مواقع موجود ہوں گے کہ یہاں نوکریوں کے مقابلے میں لوگ کم پڑجائیں گے۔شاید وہ اپنے وزیرِاعظم کے اس بیان سے کافی متاثر ہوچکے ہیں کہ پاکستان تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت کرنے کے دہانے پر ہے جس کے بعد ہمارا ملک تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک بن جائے گا اور یوں اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ موٹر سائیکل دوڑانے اور اسپورٹس گاڑیوں کی کلیکشن کے شوقین یہ وزیر ستم ظریفانہ طور پر اس غیر حقیقی اور خیالی جہان کے لاپرواہ عملے کا حصہ ہیں جس میں رہ کر پی ٹی آئی کام کرتی ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطرہ ہے۔ شیریں مزاری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد: انسانی حقوق کی ...