بنیادی صفحہ / قومی / افغانستان کی مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے میں تعاون کی یقین دہانی

افغانستان کی مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے میں تعاون کی یقین دہانی

دنیا نے پاکستانی موقف کو تسلیم کیا کہ افغان تنازع صرف مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے
امریکہ کا طالبان کے ساتھ مل بیٹھنا اور افغانستان سے فوجی دستے واپسی کا اعلان اہم پیش رفت ہے
دورے کا مقصد ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا فروغ اور دو طرفہ اقتصادی تعاون، ترقی کا فروغ مذاکرات کا اہم موضوع تھا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افغانستان ہمیشہ سے نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے اور اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا دونوں ملکوں کے لیے چیلنج رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو قرار دیا جاتا ہے۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلی سطح کے رابطوں اور افغان امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی مثبت کوششوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان

اعتماد کے فقدان کو دور کرنے میں مدد ملی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں کی طرح 2018 میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اتار چڑاہا کا شکار رہے ہیں۔ تاہم رواں سال اسلام آباد اور کابل کے درمیان ہونے والے اعلی سطح کے سفارتی اور عسکری رابطوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے مئی 2018 میں پاکستان اور افغانستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالیڈیرٹی کے فریم ورک پر اتفاق کرنا دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں اہم پیش رفت تھی گو کہ اس فریم ورک کے تحت کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، تاہم ان کے بقول یہ ایسا فریم ورک ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت

کے لیے ایک طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ اسلام آباد اور کابل نے ‘افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالیڈیرٹی’ کے فریم ورک کے تحت انسدادِ دہشت گردی، امن و مصالحت، پناہ گزینوں کی واپسی، مشترکہ اقتصادی ترقی اور سرحد کی نگرانی سے متعلق معاملات پر بات چیت کا طریقہ کار وضع کیا ہے۔بین الاقوامی امور کے ماہر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ افغانستان، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم چیلنج رہا ہے اور پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے۔ کہ کابل کے ساتھ اعتماد کے فقدان کو کم کیا جائے تاہم ان کے بقول رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں باہمی تعلقات سرد مہری کا شکار رہے لیکن بعد ازاں ان میں بتدریج بہتری دیکھی گئی ہے۔ظفر جسپال کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات افغانستان کی صورت حال سے جڑے ہوئے ہیں اور حال ہی میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کے میز پر لانے اور امریکہ سے بات چیت کے لیے راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ رابطے 2018 کے آخری مہینے میں ہوئے ہیں اور آئندہ سال اس میں مزید پیش رفت ہو سکتی ہے۔ظفر جسپال نے مزید کہا کہ "جب ہم 2019 میں داخل ہوں گے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 2018 میں پاکستان اور افغانستان اعتماد کے فقدان کو بہت حد تک کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔یاد رہے کہ دسمبر میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت کی قیادت میں امریکی وفد اور طالبان کے درمیان ابوظہبی میں بات چیت ہوئی جس میں پاکستان سعودی عرب اور میزبان ملک کے نمائندے بھی شریک ہوئے جن میں افغان امن مصالحت، افغانستان میں نگران حکومت اور جنگ بندی کے معاملات پرتبادلہ خیال ہوا۔امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات میں تیزی رواں سال ستمبر سے آئی ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق سفارت کار زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں مفاہمت کے لیے اپنا نمائندہ خصوصی مقرر کیا تھا۔خلیل زاد آئندہ سال اپریل میں افغان صداراتی انتخابات سے قبل افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ طے پانے کی امید کا اظہار کر چکے ہیں۔ سعد محمد کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطوں سے افغان امن و مصالحت کے لیے مثبت اشار ے ملے ہیں۔پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کا امن پاکستان اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔ افغان امور کے ماہر اور صحافی مشتاق یوسف زئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کا امن کابل اور اسلام آباد دونوں کے لیے ضروری ہے اور اب عوامی سطح پر یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ دنوں ملک اپنے باہمی معاملات بات چیت سے حل کر سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے مصالحتی عمل میں پاکستان کی کوششوں کو سراہاتے ہوئے افغانستان میں بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کو اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بات گزشتہ منگل کو بیجنگ میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ شاہ محمود قریشی چار ملکی دورے کے تیسرے مرحلے پر کابل اور تہران کے دورے کے بعد منگل کو چین پہنچے جہاں سے وہ روس جائیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد خطے کے اہم ممالک کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پر اعتماد میں لینا، نئی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا اور انہیں پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنا ہے۔وزیر خارجہ چار ملکی دورے کے پہلے مرحلے پر پیر کو کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغان قیادت سے دو طرفہ امور اور افغان امن و مصالحت کے لیے ہونے والی حالیہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ شاہ محمود نے کہا کہ دورہ کابل کے دوران صدر اشرف غنی نے پاکستان امن و مصالحت کے کوششوں کو سراہا ہے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح صدر اشرف غنی نے سارے عمل کو سراہا ہے۔ ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اپنی مکمل تائید اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ یہ ایک مشترکہ مقصد ہے۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی سے ہونے والی بات چیت میں شاہ محمود قریشی کے بقول پاکستان چین دو طرفہ امور، افغانستان کی صورت حال اور ابو ظہبی میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے امن و استحکام کی پیش رفت اور جنگ بندی کی کوششوں پر چین نے ہماری حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کا کہنا ہے کہ افغان امن و استحکام کی کوشش کو آگے بڑھنا چاہیئے وزیرِ خارجہ نے افغانستان، ایران اور چین کا یہ دورہ ایسے وقت کیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکی وفد نے ابو ظہبی میں طالبان نمائندوں سے تین روز تک مذاکرات کیے تھے۔ان مذاکرات میں افغانستان، پاکستان، سعودی عرب اور میزبان ملک کے نمائندے بھی موجود تھے۔پاکستان کا دعوی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ براہِ راست مذاکرات اس کی کوششوں سے ممکن ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چینی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں دو طرفہ معاملات امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی سطح پر اسٹریٹجک ڈائیلاگ ہونا ہے اور چین کے ساتھ برآمدات کے لیے بھی بات چیت کی گئی ہے۔پاکستانی حکومت نے افغانستان کی دو اہم وزارتوں پر پاکستان مخالف شہرت رکھنے والے رہنماوں کی تعیناتی پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں افغانستان کے نامزد وزیرِ داخلہ امراللہ صالح کے پاکستان کے خلاف سخت موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا آپ پاکستان کو ایک شراکت دار سمجھتے ہیں یا اپنی حکومت کی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹہرانا چاہتے ہیں۔فواد چودھری نے نامزد افغان وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حقیقت کی دنیا میں آئیں اور خوف زدہ ذہن کی پیداوار وسوسوں سے چھٹکارا پائیں۔ فواد چودھری نے یہ ٹوئٹ نامزد افغان وزیر کے اس ٹوئٹ کے جواب میں کی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی خفیہ ادارے کو افغانستان کے لیے داعش سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے اتوار کو پاکستان کے بارے میں سخت موقف رکھنے والے دو افغان رہنماں کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے اور انہیں دو اہم وزارتیں سونپنے کا اعلان کیا تھا۔صدر غنی نے امراللہ صالح کو افغانستان کا نیا عبوری وزیرِ داخلہ اور اسد اللہ خالد کو عبوری وزیرِ دفاع تعینات کیا ہے۔ دونوں رہنماوں کا تقرر افغان پارلیمان کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ان دونوں افغان رہنماوں کا شمار پاکستان کے سخت ناقدین میں ہوتا ہے اور ان کا الزام رہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔یہ دونوں افراد ماضی میں افغانستان کے خفیہ ادارے ‘این ڈی ایس’ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسے وقت میں جب افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہو رہے ہیں اور پاکستان ان مذاکرات کے انعقاد کا کریڈٹ لے رہا ہے، پاکستان مخالف افغان رہنماوں کا اہم وزارتوں پر تقرر مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چار ممالک کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران وزیر خارجہ افغانستان،ایران،چین اور روس میں افغان مفاہمتی عمل اور ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر بات چیت کی ہے۔ وزیرخارجہ متعلقہ ممالک کی اعلی قیادت سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ۔ دورے کا مقصد ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا فروغ اور دو طرفہ اقتصادی تعاون، ترقی کا فروغ مذاکرات کا اہم موضوع تھا۔ تبدیل شدہ علاقائی اور عالمی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال اور افغان مصالحتی عمل سے متعلق حالیہ پیش رفت بھی ملاقاتوں کا موضوع تھا۔ افغان تنازع کا حل افغانیوں کے درمیان امن عمل سے ہی ممکن ہے۔ دنیا نے پاکستانی موقف کو تسلیم کیا کہ افغان تنازع صرف مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے۔اس دورے کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کی لیڈر شپ سے تعلقات میں بہتری کے لیے بات کی ہے کہ اپنے وسائل ہتھیاروں کی بجائے خوش حالی پر خرچ کریں گے۔ ہمیں مل کر امن و استحکام کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ دفتر خارجہ میں پی فائیو کے سفارت کاروں کو بریفنگ دی گئی ہے۔ ہم پڑوسی ممالک سے روابط بڑھائیں گے۔ 28،27 دسمبر کو دفتر خارجہ میں سفرا کانفرنس میں شرکت کروں گا جس میں وزیر اعظم عمران خان بھی شرکت کریں گے۔انھوں نے کہا کہ بد قسمتی سے چند سالوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو رہی تھی۔ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری سے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مستحکم ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ماضی کی حکوتیں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے میں نا کام رہیں۔ کوشش ہے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی طرف راغب کریں۔ وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے گزشتہ ہفتہ کے روز ملتان میں صحافیوں سے کہا تھاکہ امریکہ کا اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر کے طالبان کے ساتھ مل بیٹھنا خوش آئند اور افغانستان سے کچھ فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان اہم پیش رفت ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ طالبان اور امریکہ کی بات آگے بڑھے اور اس سلسلے میں اسلام آباد اپنا کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں افغان طالبان کے کچھ لوگوں کو رہا کیا ہے جس کا مقصد بھی بات چیت کے لیے ماحول کو سازگار بنانا تھا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لیے پاکستان نے پہلے بھی کوشش کی اور آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔لیکن ان کے بقول اس بارے میں بنیادی فیصلہ خود افغانوں نے کرنا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ایک دوسرے کی بات سنیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ انہوں نے مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف امریکہ نے بھی افغانستان سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی ہے جس کے بعد افغان طالبان اور امریکیوں کچھ نشستیں ابوظہبی میں ہوئی ہیں اور توقع ہے کہ ان کی بات آگے بڑھے گی۔افغانستان سے سات ہزار امریکی فوجی واپس بلانے کی اطلاعات پر وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجوں کا انخلا صدر ٹرمپ کی پالیسی کا حصہ ہے جس کا وہ ماضی میں کئی بار اظہار کرچکے تھے۔انہوں نے کہا، "افغان طالبان کی بھی خواہش تھی کہ انہیں امریکی فوج کے انخلا کا عندیہ ملے۔ بہر حال یہ اہم پیش رفت ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان جو کردار ادا کر سکتا ہے، وہ کرے گا۔ ہم نے کچھ لوگوں کو یہاں رہا کیا ہے جس کا مقصد اس ماحول کو سازگار بنانا ہے۔وزیرِ خارجہ کے اس بیان اور خطے کی صورتِ حال پر اسلام آباد میں موجود افغان امور کے ایک ماہرنے کہا کہ اس وقت پاکستان کا مثبت کردار نظر آ رہا ہے جسے افغانستان کے سیاسی رہنما اور دانشور طبقہ بھی سراہ رہے ہیں۔ان کے بقول امریکہ اور طالبان کے متحدہ عرب امارات میں مذاکرات ایک بڑی کامیابی ہے اور ماضی کی نسبت اس بار پاکستان کی افغان پالیسی بہتر نظر آ رہی ہے۔انہوں نے کہا، "میرے خیال میں پاکستان اس بار درست کر رہا ہے۔ ماضی میں ہم نے افغانستان میں امن کے لیے مداخلت کی۔ اپنا حصہ لینے اور اپنے لوگوں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس بار ہم ان کی مدد کر رہے ہیں کہ افغان خود بیٹھیں۔ اسی وجہ سے امریکہ نے فوج کے انخلا کی بات کی۔ قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ بھی چل رہا ہے اور طالبان کی نقل و حرکت میں بھی کچھ نرمی نظر آ رہی ہے۔ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کے طرف سے تین ارب ڈالر کے پیکج کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ بھی پاکستان کے معاملات میں بہت بہتری آئی ہے اور آئندہ سال جنوری کے پہلے ہفتے میں امارات کے ولی عہد کے پاکستان آنے پر مزید خوش خبریاں ملیں گی۔جبکہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں شکوک و شبہات ہیں کہ کیا طالبان حقیقت میں افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں یا نہیں۔گزشتہ جمعرات کو کابل میں افغان خبر رساں ادارے ‘آریانا نیوز’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں خلیل زاد نے طالبان کی جانب سے افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملنے سے انکار پر تحفظات کا اظہار کیا۔امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ افغان حکومت 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی خواہش مند ہے لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آیا طالبان بھی درحقیقت امن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور طالبان کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لینا ہوگا۔انٹرویو میں خلیل زاد نے ایک بار پھر زور دیا کہ افغانستان میں آئندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل فریقین کے درمیان امن معاہدہ ہوجانا چاہیے۔ تاہم ان کے بقول اس بات کا انحصار (افغان)حکومت اور طالبان پر ہے۔امریکہ کا اصرار ہے کہ افغانستان کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی معاہدہ افغانوں کے درمیان طے پانا چاہیے۔ لیکن طالبان افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے انکاری ہیں اور ان کا موقف ہے کہ افغان حکومت امریکہ کی مسلط کردہ ہے اور اسی لیے وہ امریکہ سے ہی بات کریں گے۔تاہم امریکہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات پاکستان کوقائل کر سکتے ہیں کہ وہ طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں افغان حکومت سے براہِ راست بات چیت پر آمادہ کرے۔اپنے انٹرویو میں خلیل زاد نے بتایا کہ رواں ہفتے ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں ملکوں نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تین ماہ کے جنگ بندی کی تجویز دی۔خلیل زاد کے بقول طالبان نے جنگ بندی کی تجویز پر کوئی وعدہ نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنی اعلی قیادت سے اس بارے میں مشاورت کرنی ہوگی۔امریکی ایلچی نے بتایا کہ انہوں نے طالبان پر واضح کردیا ہے کہ اگر دہشت گردی پر قابو پالیا جائے تو امریکہ افغانستان میں اپنی مستقل فوجی موجودگی نہیں چاہے گا۔دریں اثنا سعودی عرب کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے افغان امن مذاکرات کے آئندہ سال کے اوائل تک مثبت نتائج سامنے آجائیں گے جن سے افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی امید کی جا سکتی ہے۔جبکہ واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر خالد بن سلمان نے جمعرات کو ٹوئٹر پر کہا ہے کہ رواں ہفتے ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت مفید رہی اور تنازع کے خاتمے کے لیے افغانوں کے درمیان بات چیت کے عمل کو شروع کرنے میں مدد گار ہو گی۔جبکہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے گزشتہ جمعرات کے روز بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے بڑی تعداد میں اپنے فوجی نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔عہدے دار نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان سے پہلا فوجی دستہ اگلے مہینے واپس آ سکتا ہے۔پنٹاگان یا امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔اس وقت افغانستان میں لگ بھگ 14000 فوجی موجود ہیں۔ ان کا غیر فوجی مشن فغان فورسز کی تربیت اور مشاورت ہے۔امریکہ افغان فورسز کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں پہلے ہی منتقل کر چکا ہے۔ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے یہ حیران کن بیان دیا تھا کہ امریکہ شام سے اپنے فوجی دستے نکال رہا ہے۔ان کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینیر امریکی عہدے دار نے وال سٹریٹ جنرل کو بتایا کہ میرے خیال میں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدر تنازعات سے باہر نکلنے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ تنازعات کو اپنے اختتام تک پہنچانے کے ممکنہ طریقوں پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل حال ہی میں امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں طالبان نے افغان حکومت سے براہ راست باچیت کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنا یہ مطالبہ دوہرایا تھا کہ تمام غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

آئی ایم ایف کا بنایا گیا بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کروایا گیا، آئی ایم ایف

اسلام آباد: رپورٹ ایسوسی ایٹڈ پریس سروس عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ...