بنیادی صفحہ / قومی / آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی دبئی میں گرفتار

آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی دبئی میں گرفتار

اویس مظفر ٹپی پر منی لانڈرنگ اور زمینوں پر ناجائز قبضے کرنے کا الزام ہے۔
رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کو دبئی میں گرفتار کر لیا گیا اور انہیں جلد پاکستان لایا جائے گا۔انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن(انٹرپول) میں موجود ذرائع نے تصدیق کی کہ اویس مظفر ٹپی کو دبئی میں حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہیں پاکستان لایا جائے گا۔اویس مظفر ٹپی پر منی لانڈرنگ اور زمینوں پر ناجائز قبضے کرنے کا الزام ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سندھ کے وزیر بلدیات کے منصب پر فائز رہنے والے اویس مظفر ٹپی کے خلاف اگست 2018 میں قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کو 4 مختلف مقدمات میں تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔پیپلز پارٹی رہنما پر الزام ہے کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملیر ندی کے قریب سیکڑوں ایکڑ اراضی ناجائز طور پر الاٹ کی جس کی مالیت 33 ارب روپے بنتی ہے۔مقدمے میں ملوث دیگر افراد میں سابق چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس، سندھ لینڈ یوٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ کے سابق سیکریٹریز غلام مصطفی پھل اور غلام عباس سومرو شامل ہیں۔دسمبر میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اویس مظفر ٹپی کو عدالت میں طلب کیا تھا جہاں ان پر شاہ لطیف ٹاون کے رہائشیوں نے متعدد پلاٹوں پر غیرقانونی طور پر قبضے کا الزام عائد کیا تھا۔اس موقع پر ڈی آئی جی ساوتھ جاوید اوڈھو نے عدالت کو بتایا تھا کہ اویس مظفر ٹپی گزشتہ تین سال سے بیرون ملک ہیں۔جاوید اوڈھو نے مزید بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ٹپی کی والدہ کو نوٹس بھیج دیا ہے اور اس سلسلے میں مدد کے لیے ایف آئی اے کو بھی خط تحریر کردیا گیا ہے۔سابق وزیر پیٹرولیم اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کا 2016 میں ایک ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں وہ اویس مظفر ٹپی پر الزامات عائد کر رہے تھے۔ڈاکٹر عاصم نے الزام عائد کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت کے دوران اویس مظفر ٹپی ہی سندھ کے اصل وزیر اعلی تھے اور ہر طرح کی کرپشن میں ملوث رہے۔انہوں نے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ایک مرتبہ ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ 600روپے والی ویکسین ایک ہزار روپے میں خریدی گئی لیکن بعدازاں اسے ملتان میں بیچ دیا گیا، جب میں نے معاملے کی تفتیش کی تو یہ الزامات درست ثابت ہوئے۔ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ میں نے اس بارے میں آصف زرداری سے شکایت کی اور ان سے کہا کہ وہ اویس مظفر ٹپی کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے سے روکیں۔ڈاکٹر عاصم نے مزید بتایا کہ آصف علی زرداری سے شکایت پر اویس مظفر ٹپی نے ‘مجھے دھمکی دی کہ ایسا ٹیکہ لگاوں گا کہ یاد رکھو گے، میرے خلاف باتیں کرنا اور شکایتیں کرنا چھوڑ دو’ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ سپریم کورٹ نے شاہ لطیف ٹاون میں قبضے کے الزامات پر سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اویس مظفر ٹپی کو عدالت میں طلب کرلیا گیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شاہ لطیف ٹان کے مکینوں کی درخواست پر سماعت کی تھی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ ٹپی کون ہے؟ جو بھی ہے کل انہیں پیش کریں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ٹپی کو گرفتار کرکے نہیں لائیں بلکہ انہیں بتائیں کہ عدالت نے طلب کیا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہاں آئی جی سندھ موجود ہیں؟۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ اے آئی جی لیگل موجود ہیں، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ اویس مظفر ٹپی کو کل عدالت میں پیش کریں۔خیال رہے کہ شاہ لطیف ٹان کے مکینوں نے درخواست میں شکایت کی تھی کہ ان کے علاقے میں اویس مظفر ٹپی نے لوگوں کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ دوہزار پندرہ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سندھ اسمبلی کے رکن اویس مظفر کو حساس ادارے کے اہلکاروں نے کراچی ایئرپورٹ پر روک کر دیر تک پوچھ گچھ کی تھی۔اویس مظفر سوالوں کے جواب دے کر دبئی روانہ ہوگئے تھے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اویس مظفر دبئی جانے کے لیے ایئر پورٹ پہنچے تو حساس ادارے کے اہلکاروں نے انہیں روک لیا تھا۔اہلکاروں نے اویس مظفر سے کافی دیر تک پوچھ گچھ کی۔پوچھ گچھ کے بعد انہیں دبئی جانے کی اجازت دی گئی اور اویس مظفر نجی ایئر لائن کی پرواز ای کے 603 کے ذریعے دبئی روانہ ہوئے تھے۔واضح رہے کہ اویس مظفر پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی ساتھ سمجھے جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اویس مظفر دبئی کے راستے برطانیہ جا رہے تھے جہاں ان کے کسی عزیز کا انتقال ہوا ہے۔ دوہزار سولہ میں پیٹرولیم کے سابق وزیر عاصم حسین کی مقامی میڈیا میں آنے والی ویڈیو بیان میں سابق صدر آصف علی زرداری کے رضائی بھائی اویس مظفر عرف ٹپی پر کرپشن کے الزامات لگائے ہیں۔سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم جو ان دنوں نیب کی حراست اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں نے تفتیش کے دوران ریکارڈ کی گئی ویڈیو بیان میں کہا کہ اویس مظفر ٹپی کو آصف زرداری کی والدہ نے پالا ہے۔اپنے ویڈیو بیان میں ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کے سابق وزیر اویس مظفر ٹپی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے دوسرے دور حکومت میں اصل وزیراعلی تھے اور اویس مظفر نے ہر قسم کی کرپشن کے اندر ہاتھ ڈالا ہے۔ڈاکٹر عاصم نے تفتیش کاروں کے روبرو بتایا کہ زمینوں سمیت جہاں موقع ملا وہاں اویس مظفر شامل ہوا، ایک دفعہ مجھے ہیلتھ کے ڈاکٹر نے بتایا کہ ایک ویکسین 600 کی تھی اس کو 1000 میں خریدا گیا ہے، جس کی تحقیقات میں کرپشن ثابت ہوئی تو اس کی شکایت آصف زرداری کو کردی تھی۔آصف زرداری نے اویس مظفر کو پیغام دلوایا کہ ٹپی کو کہو کہ انسانی جانوں سے نہ کھیلے جو کررہے ہو وہی کرو۔ڈاکٹر عاصم نے مزید بتایا کہ آصف علی زرداری سے شکایت پر اویس مظفر ٹپی نے ‘مجھے دھمکی دی کہ ایسا ٹیکا لگاوں گا کہ یاد رکھو گے، میرے خلاف باتیں کرنا اور شکایتیں کرنا چھوڑ دو’ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ رینجرز نے 26 اگست 2015 کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے دفتر سے گرفتار کیا تھا۔ڈاکٹر عاصم پر کرپشن اور دہشت گردوں کی امداد کا الزام تھا جس کی تفتیش مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کر تی رہی ہے۔اس کے علاوہ نیب بھی ڈاکٹر عاصم پر لگے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرتارہا ہے اور ان دنوں ڈاکٹر عاصم نیب کی تحویل میں رہے۔ان الزامات میں غیر قانونی طور پر میڈیکل کالجز کو پاکستان میڈیکل اور ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) سے غیر قانونی الحاق، درجنوں سی این جی اسٹیشنز کو لائسنس کا اجرا اور دیگر کرپشن کیسز شامل ہیں۔جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کہہ چکے ہیں کہ بیوروکریسی کا نیب سے گلہ مسترد کرتا ہوں۔نیب چیئرمین نے نیب خیبر پختونخوا کا دورہ کیا، اس دوران نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھاکہ نیب حکومت کا ادارہ ہے، آپ جمہوریت کی خدمت کررہے ہیں ہم معاونت کررہے ہیں۔ نیب کیوں ایسا قدم اٹھائے جس سے ملک کا نقصان ہو؟ بیوروکریسی کے نیب کارروائیوں سے متعلق گلے کو مسترد کرتا ہوں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی ریڑھ کی ہڈی ہے، وہ کام نہیں کرے تو نیب کا کیا قصور ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ایک ہزار 4 سو سے زائد ریفرنسز میں ایک درجن بیوروکریٹس کے نام ہوں گے لیکن نیب نے کسی بیوروکریٹ کو ایک، دو مرتبہ سے زیادہ نہیں بلایا۔جسٹس (ر(جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ملک 98 ارب روپے کا مقروض ہے لیکن کسی شہر میں 98 ارب روپے کے کام نظر نہیں آرہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 50 فیصد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ملک کے ہر شہر گیا ہوں لیکن ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کا حال ناقابلِ بیان ہے۔واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے نیب پر ایک سال سے زائد عرصے سے یک طرفہ احتساب کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف مختلف ریفرنسز کی وجہ سے نیب کو مختلف الزامات کا سامنا ہے۔گزشتہ ماہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری اور ان کے گھر پر چھاپے کی وجہ سے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے نیب حکام پر تنقید کی گئی تھی۔گزشتہ سال دسمبر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب اہم اجلاس میں نیب کی جانب سے صرف اپوزیشن رہنماں کو مبینہ طور پر انتقام کا نشانہ بنانے اور ان کے خلاف چیئرمین نیب کی جانب سے صوابدیدی اختیارات کے استعمال کو روکنے کے لیے جامع سفارشات بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔اکتوبر 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے سرکاری افسران کو ریاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سرکاری افسران سے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا حکم دیا تھا ،اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بیوروکریسی کو انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کی جانب سے ہراساں نہیں کیا جا نا چاہیے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے وزیر اعظم عمران خان کے اس دعوے کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیب کی جانب سے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی شرح محض 7 فیصد ہے۔نیب راولپنڈی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچھ دن پہلے نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ادارے کی مجرموں کو سزا دینے کی شرح 7 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے نہیں معلوم کے وزیراعظم اس کے ساتھ زیرو لگانا کیوں بھول گئے کیوں کہ اصل میں نیب کی جانب سے مجرموں کو سزا دینے کی شرح 70 فیصد ہے، یہ میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں’۔واضح رہے کہ حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ نیب کا مجرموں کو سزا دینے کا تناسب 7 فیصد ہے جبکہ ملائیشیا میں یہ شرح 90 فیصد ہے۔اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے وفاقی حکومت کو نیب کو بھر پور فنڈز فراہم نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ادارہ سخت مالی مشکلات میں ہے۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ مجھ پر تنقید کرتے ہیں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر آپ بغیر کسی وجہ کے نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو میں چپ نہیں رہوں گا اور ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں اس کا دفاع کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کو انتہائی محدود بجٹ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سخت محنت کے عوض دیے جانے والے معاوضے اور ہائرنگ کی سہولیات بھی بہت کم ہیں۔حال ہی میں نیب کی جانب سے ایک ارب روپے فنڈز جاری کرنے کی درخواست مسترد ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی سرکاری ادارے کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو نیب کا معاوضہ روک دیا جاتا ہے یا اس کے بجٹ میں کٹوتی کردی جاتی ہے لیکن ان حرکتوں کی وجہ سے نیب کا قافلہ نہیں رکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب مشکلات برداشت کرلے گا لیکن ہر سطح پر احتساب کے اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام افراد جو حکومت یا اپوزیشن میں ہیں اور بدعنوانی کا ارتکاب کر کے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، انہیں اللہ کے سامنے، نیب اور ملک کی عدالتوں میں جواب دینا پڑے گا’۔دوسری جانب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر افتخار درانی نے کہا تھاکہ نیب میں اصلاحات کی گنجائش ہے، انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ نیب کو مزید اضافی فنڈز نہیں دینے چاہیے۔ ذرائع سے معلوم ہوا تھاکہ حکومت نے نیب کی جانب سے ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ کے تحت ایک ارب روپے جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے نیب کو 1.6 ارب روپے کی ادائیگی کی جانی ہے کیوں کہ بینک فراڈ معاملے میں ہونے والی وصولیوں میں 2 فیصد حصہ نیب کا بھی ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

کپتان کی ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ، نئے کھلاڑی شامل

پنجاب میں ابتر انتظامی اور سیاسی صورت حال حکومت کی مجموعی کارکردگی ...